شان پاکستان جے ایف 17 تھنڈر کا ایک اور کارنامہ

جے ایف 17 تھنڈر طیارے نے 229 کلومیٹر کی الٹی پرواز کرتے ہوئے رافیل طیارے کو پیچھے چھوڑ دیا، رافیل طیارا 188 کلومیٹرہی الٹی پرواز کر سکا

Muqadas Farooq مقدس فاروق اعوان جمعرات جون 15:50

شان پاکستان جے ایف 17 تھنڈر کا ایک اور کارنامہ
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔ 20 جون 2019ء) لا برجے، پیرس میں ہونے والے سات روزہ 53ویں بین الاقوامی ایئر شو کی افتتاحی تقریب میں پاکستان ایئر فور س کے لڑاکا طیارے جے ایف سترہ تھنڈر نے اپنی کارکردگی کا شاندار مظاہرہ پیش کیا۔ناس پروقار تقریب کا افتتاح فرانسیسی صدرایمانول میکرون نے کیا۔ اس تقریب میں معین الحق سفیر پاکستان اور پاکستانی مسلح افواج کے وفد کے اعلی اراکین نے شرکت کی۔

پیرس ایئر شو میں جے ایف 17 تھنڈر طیارے کے کارناموں کا سلسلہ جاری ہے۔شان پاکستان جے ایف 17 تھنڈر کا ایک اور کارنامہ سامنے آیا ہے۔میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ کہ جے ایف 17 تھنڈر نے رافیل طیارے پر اس کے گھر میں برتری ثابت کردی۔پاک فضائیہ کی پہچان جے ایف 17 تھنڈر نے 229 کلومیٹر الٹی پرواز کرتے ہوئے رافیل طیارے کو پیچھے چھوڑ دیا۔

(جاری ہے)

جبکہ رافیل طیارا 188 کلومیٹرہی الٹی پرواز کر سکا۔

تاہم جے ایف 17 تھنڈر طیارے نے 229 کیلومیٹر ہے اور اس کی پرواز کرتے ہوئے الٹی پرواز کرکے اپنا لوہا منوایا۔ پیرس میں ہونے والے ائیر شو کے دوران پاکستان اور چین کی جانب سے تیار کردہ کم قیمت مگر جدید جنگی طیارے جے ایف 17 تھنڈر نے خوب دھوم مچائی ہے۔ ائیر شو کے دوران کئی ممالک کے دفاعی ماہرین نے پاکستان اور چین کی جانب سے کم قیمت مگر جدید جنگی طیارہ بنانے پر حیرت کا اظہار کیا۔

ذرائع کے مطابق کئی ممالک نے جے ایف 17 تھنڈر کی خریداری میں دلچسپی کا اظہار کیا ہے۔ جے ایف 17 تھنڈر طیاروں کی خریداری کیلئے پاکستان سے رابطہ بھی کیا گیا ہے۔ تاہم اس حوالے سے ابھی معاملات طے کیے جانا باقی ہے۔ پہلے ہی نائیجیریا اور میانمار پاکستان سے جے ایف 17 تھنڈر طیارے خریدنے کا معاہدہ کر چکے ہیں۔ جبکہ ملائیشیا، مصر اور دیگر کچھ ممالک بھی جے ایف 17 تھنڈر جنگی طیاروں کی خریداری کیلئے جلد معاہدہ کرنے کیلئے کوشاں ہیں۔

جے ایف 17 تھنڈر جنگی طیاروں کی مانگ میں اس وقت سے زیادہ اضافہ ہوا ہے جبپاکستان نے بھارت کے جنگی طیاروں کو مار گرایا تھا۔ بین الاقوامی مارکیٹ میں جے ایف 17 تھنڈر جنگی طیاروں کی فروخت سے پاکستان کو کثیر زرمبادلہ حاصل ہوگا۔ جبکہ پاکستان کی دفاعی صنعت کو بین الاقوامی سطح پر فروغ بھی ملے گا۔