ٹرمپ نے ایران پر حملے کا حکم دے دیا تھا لیکن پھر اپنا ذہن بدل لیا

امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے متعلق دعویٰ کردیا

Sumaira Faqir Hussain سمیرا فقیرحسین جمعہ جون 13:25

ٹرمپ نے ایران پر حملے کا حکم دے دیا تھا لیکن پھر اپنا ذہن بدل لیا
نیویارک (اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔ 21 جون 2019ء) : امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران پر حملے کا حکم دے دیا تھا۔ تفصیلات کے مطابق امریکی میڈیا نے دعویٰ کیا کہ ایران کی جانب سے امریکی فوجی ڈرون گرائے جانے کے بعد صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعرات کو ایران کے خلاف جوابی عسکری کارروائیوں کی منظوری دی تاہم جمعہ کی صبح انہوں نے اپنا ذہن تبدیل کر لیا۔

وائٹ ہاؤس کے سینیئر اہلکاروں کا حوالہ دیتے ہوئے اخبار نیویارک ٹائمز کا کہنا تھا کہ ’مُٹھی بھر‘ اہداف کے خلاف حملوں کی منصوبہ بندی کی گئی تھی۔ انہوں نے کہا کہ آپریشن مبینہ طور پر 'اپنے ابتدائی مراحل' میں تھا جب ٹرمپ نے امریکی فوج کو رک جانے کا حکم دیا۔ یہ کارروائیاں امریکی جاسوس ڈرون کو ایران کی جانب سے جمعرات کے روز مار گرائے جانے کے رد عمل میں تھیں۔

(جاری ہے)

یویارک ٹائمز نے امریکہ کے مبینہ حملوں کی تفصیلات ابتدائی طور پر جمعرات کو رات گئے شائع کی تھیں۔ اس کے بعد کئی امریکی میڈیا اداروں نے آزادانہ طور پر یہ خبر رپورٹ کی۔ اخبار کا کہنا تھا کہ مقامی وقت کے مطابق شام 7 بجے (گرینچ کے معیاری وقت کے مطابق رات 11 بجے تک) امریکی عسکری اور سفارتی حکام امید کر رہے تھے کہ طے شدہ اہداف یعنی ایرانی ریڈار اور میزائل سسٹمز کو نشانہ بنایا جائے گا۔

اخبار نے ایک نامعلوم سینیئر انتظامی اہلکار کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ "طیارے فضاء میں اور بحری جہاز اپنی پوزیشنز سنبھال چکے تھے مگر پھر رک جانے کا حکم آنے پر کوئی میزائل فائر نہیں کیا گیا۔" یاد رہے کہ گذشتہ روز ایران نے اپنی فضائی حدود میں امریکی ڈرون گرانے کا دعویٰ کیا تھا خبر ایجنسی نے بتایا کہ ایران کی فضائی حدود میں داخل ہونے والا امریکی ڈرون پاسداران انقلاب نے گرایا ۔

ایرانی میڈیا کے مطابق ایران کے پاسدران انقلاب نے امریکی ڈرون گرایا ہے، امریکی ڈرون آبنائے ہرمز کے قریب ایرانی فضائی حدود میں گرایا گیا، گرائے گئے امریکی ڈرون کا ماڈل آر کیو 4 گلوبل ہاک تھا۔ تاہم امریکی سینٹرل کمانڈ نے ڈرون گرائے جانے کی تردید کی تھی ۔ امریکہ اور ایران کے مابین تعلقات کی کشیدگی کو دیکھتے ہوئے روس کے صدر ولادیمیر پیوٹن نے بھی خبردار کر دیا ہے کہ ایران کے خلاف امریکی طاقت کا استعمال تباہ کن نتائج کا حامل ہو گا۔ انہوں نے واضح کیا کہ امریکہ کا مؤقف ہے کہ اس نے طاقت کے استعمال کے امکان کو مسترد نہیں کیا لیکن اگر ایسا ہوا تو پورے خطے میں تباہی آئے گی۔