وفاقی وزیر ریلوے کا یکم جولائی سے ریلوے کے اکانومی کلاس کے کرایوں میں 100 روپے، دیگر پر 6 سے 7 فیصد اضافے کا اعلان

کلومیٹر تک سفر کرنیوالوں اور اب تک ایڈوانس بکنگ کروانے والے مسافروں پر اضافے کا اطلاق نہیں ہو گا، شیخ رشید کی ریلوے ہیڈ کوارٹرز لاہور میں پریس کانفرنس

ہفتہ جون 18:01

وفاقی وزیر ریلوے کا یکم جولائی سے ریلوے کے اکانومی کلاس کے کرایوں میں ..
لاہور ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 22 جون2019ء) وفاقی وزیر ریلوے شیخ رشید احمد نے یکم جولائی سے ریلوے کے اکانومی کلاس کے کرایوں میں 100 روپے تک جبکہ دوسری کلاسز پر 6 سے 7 فیصد اضافے کا اعلان کر دیا۔ 50 کلومیٹر تک سفر کرنیوالے مسافروں کے لئے کرایوں میں کوئی اضافہ نہیں ہو گا اور اب تک ایڈوانس بکنگ کروانے والے مسافروں پر بھی کرایوں میں اضافے کا اطلاق نہیں ہو گا۔

ہفتہ کے روز ریلوے ہیڈ کوارٹرز لاہور میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر ریلوے شیخ رشید احمد نے کہا کہ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافے کے باعث3 ارب روپے کا اضافی دبائو پڑا جس کا سب سے زیادہ اثر ریلوے پر پڑا جس کے پیش نظر ریل کے کرایوں میں اضافہ کرنا پڑا۔ انہوں نے کہا کہ پسنجر سیکٹر کی آخری ٹرین چلانے کا ہدف 3 جولائی کو پورا ہو جائے گا اور وزیر اعظم عمران خان 3 جولائی کو راولپنڈی ریلوے سٹیشن پر سرسید ایکسپریس ٹرین کا افتتاح کریںگے۔

(جاری ہے)

شیخ رشید احمد نے کہا کہ ریلوے میں 8 ہزار آسامیوں پر بھرتی بیلٹ کے ذریعے کی جائے گی، ٹی ایل اے ملازمین کو مستقل کرنے کے لئے کمیٹی بنا دی گئی ہے، وزیر اعظم کی ہدایت پر سرگودھا ایکسپریس کو ایک ماہ تک میانوالی تک لے جانے کا فیصلہ کیا گیا ہے جبکہ نوشہرہ سے درگئی تک ریلوے ٹریک کو کھولا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جناح ایکسپریس حادثے کی ابتدائی انکوائری رپورٹ آچکی ہے جس میں انسانی غلطی سامنے آئی ہے اور ٹرین کیرفتار بھی زیادہ تھی اور اہم بات یہ کہ ایکسپریس ٹرین کو فریٹ ٹرین کے آدھے گھنٹے بعد نہیں نکالناچاہیئے تھا تاہم حادثہ کی انکوائری کمیٹی تشکیل دیدی گئی ہے اور آئندہ 15 روز میں اس سلسلہ میں سزا اور جزاء کا فیصلہ کیا جائے گا۔

وزیر ریلوے نے کہا کہ ٹرینوں میں زبردستی ریفریشمنٹ مہیا کرکے بل چارج کرنے کی مسافروں کی شکایت کا نوٹس لیاگیا ہے، آئندہ تمام ٹرینوں میں مسافروں کے لئے ریٹ لسٹ سمیت دیگر معلومات آویزاں کی جائیں گی۔ انہوں نے تمام ریلوے افسران کو ہدایت کی وہ صرف ایک ملازم اپنے ساتھ رکھ سکتے ہیں جبکہ ریلوے کی پالیسی کے مطابق اب کوئی بھی افسر 3 سال سے زیادہ عرصہ تک ایک عہدہ پر تعینات نہیں رہے گا۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ریلوے کا خسارہ کم کرنے کیلئے میو گارڈن کو فروخت نہیں کیاجارہا، کشمیر کی طرف لے جائی جانیوالی ریلوے لائن کے منصوبے کو ختم کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایم ایل I کا پی سی ون بھیج دیا گیا ہے، جہاں جہاں سے ایم ایل I گزرے گی وہاں ریلوے ملازمین کو نئے گھر ملیں گے، کوشش ہے کہ چین کے تعاون سے بڑے شہروں میں اپارٹمنٹس بنیں تاکہ ہر شہر میں 2 سے 4 ہزار ریلوے ملازمین کو ایڈجسٹ کر سکیں۔