استعمال شدہ موبائل فون کے تاجروں کا ظالمانہ ٹیکسز اور غلط پالیسیوں کے خلاف ملک گیر احتجاج

ہزاروں کی تعداد میں موبائل فون کے تاجروں کی شرکت

پیر جون 14:01

استعمال شدہ موبائل فون کے تاجروں کا ظالمانہ ٹیکسز اور غلط پالیسیوں ..
راولپنڈی(اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔24جون۔2019ء) آل پاکستان موبائل فون ٹریڈرز ایسوسی ایشن (ایمپٹا) کے ھزاروں کی تعداد میں تاجروں نے آج بینک روڈ صدر پر ایک ریلی نکالی اور حکومت کے استعمال شدہ موبائل فونز پر ظالمانہ ٹیکسز اور غلط پالیسیز کو مسترد کر دیا۔

راولپنڈی کے علاوہ ایسی ریلیز اور احتجاج ملک کے تمام چھوٹے بڑے شہروں میں بھی نظر آئے جن میں مجموعی طور پر ہزاروں کی تعداد میں موبائل فون کے تاجروں نے شرکت کی اور حکومت کی تاجر دشمن پالیسیوں کے خلاف نعرے بازی کی۔



راولپنڈی میں ریلی کو لیڈ کرتے ہوئے ایمپٹا کے جنرل سیکریٹری منیر بیگ مرزا نے اپنے خطاب میں کہا کے حکومت ایسے بےجا ہتھکنڈوں سے استعمال شدہ موبائل فون کے لاکھوں تاجروں کا معاشی قتل کر رہی ہے اور اس طرح کے غیر معروف عمل میں پی ٹی اے فیڈرل بورڈ آف ریونیو کا ساتھ دے رھی ھے تاکہ چھوٹا تاجر صفا ہستی سے مٹ  جائے اور چند بڑی موبائل کمپنیوں کی اجارہ داری قائم کی جا سکے۔

(جاری ہے)



ایمپٹا پچھلے ایک سال میں بار ہا مرتبہ احتجاج بھی کر چکی ہے، درجنوں سرکاری عہدیداروں سے ملاقاتیں بھی اور اسلام آباد اور پشاور ہائی کورٹس میں کیسز بھی لیکن اس عرصے میں کوئی موثر نتیجہ نہیں نکل پایا اور موبائل تاجر اب معاشی طور پر قریب مرگ ھیں اسی لیئے ایمپٹا کے تاجروں نے ایک بار پھر سڑکوں پر اترنے کا فیصلہ کیا، منیر بیگ مرزا نے کہا۔



مرزا صاحب نے مزید کہا کہ پشاور ہائی کورٹ نے چند دن پہلے فونز کی بے جا بندش کے خلاف سٹے آرڈر بھی دیا لیکن پی ٹی اے اپنی ہٹ دھرمی پر قائم ھے اور کنٹیمپٹ آف کورٹ کی مرتکب ھو رہی ھے۔

"اگر جائز اور مناسب ٹیکس لگایا جائے تو استعمال شدہ فونز کے تاجر حکومت کو سالانہ 50 ارب تک ریونیو اکٹھا کر کے دے سکتے ھیں اور یہ بات ھم حکومت کو پچھلے آٹھ ماہ سے باآور کروا رھے ھیں پھر ایسے کون سے عوامل ھیں جو حکومت کو اس خسارے کے دور میں ایسے بھاری بھرکم ریونیو کو لینے سے روک رھے ھیں؟" منیر بیگ مرزا نے سوال کیا۔



ایمپٹا کی آج کی ریلی میں انجمن تاجران راولپنڈی کینٹ نے بھی ان کا ساتھ دیا جنہوں نے کینٹ ایریا کے تاجروں پر ناجائز ٹیکسز جیسا کہ ٹھیکیداری نظام کے ذریعے فرنٹ آف شاپ بورڈ ٹیکس، پارکنگ فیس، پراپرٹی ٹیکس اور دیگر ٹیکسز کے خلاف آواز اٹھائی۔