ادریس بختیار ایک مطمئن اور بھرپور زندگی گزار کر رخصت ہوئے۔ احمد شاہ کا تعزیتی ریفرنس سے خطاب

پیر جون 19:01

کراچی۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 24 جون2019ء) ادریس بختیار ایک مطمئن اور بھرپور زندگی گزار کر رخصت ہوئے، ان کو خراج پیش کرنے کا سب سے اچھا طریقہ یہ ہوگا کہ تمام صحافی اپنے فرائض ایمانداری سے سرانجام دیں۔ ان خیالات کا اظہار صدر آرٹس کونسل محمد احمد شاہ نے معروف صحافی ادریس بختیار کی یاد میں منعقدہ تعزیتی ریفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

انہوں نے ماضی کی باتیں یاد کرتے ہوئے بتایا کہ جب ادریس بختیار کراچی آئے تو ہم یونیورسٹی میں پڑھتے تھے، وہ ہمارے ساتھ کئی دفعہ ہاسٹل کے کمروں میں بھی رہے۔ اس تعزیتی ریفرنس میں ملک کی کئی نامور شخصیات دنیائے صحافت کے عظیم انسان کو خراج پیش کرنے کے لیے موجود تھیں۔ کچھ شخصیات نے ادریس بختیار کے ساتھ گزارے گئے سنہرے ماضی کی یادوں کو ٹٹولا، کچھ نے اُن کے صحافتی کردار پر روشنی ڈالی۔

(جاری ہے)

سیکرٹری آرٹس کونسل اعجاز فاروقی کا کہنا تھا کہ چند ہفتے قبل ادریس بختیار سے پریس کلب میں ملاقات ہوئی، معلوم نہیں تھا کہ یہ ملاقات آخری ثابت ہوگی۔ مقررین میں سابق کمشنر کراچی شفیق الرحمٰن پراچہ، دوست محمد فیضی، سابق سینیٹر نہال ہاشمی، اشرف شاد، مجاہد بریلوی، ڈاکٹر توصیف احمد خان، اے ایچ خانزادہ، اطہر وقار عظیم، انوار احمد زئی، ادریس بختیار کے پوتے شہاب اسد،صاحبزادے ابرار بختیار، ڈاکٹر قیصر سجاد، محترمہ فہیم عباس جعفری، فصیح زیدی، نذیر لغاری، کاشف گرامی، کراچی پریس کلب کے صدر امتیاز فاران، ارمان صابر اور قیصر محبوب شامل تھے جبکہ نظامت کے فرائض شکیل خان نے سرانجام دئیے۔

سینئر صحافی سیدمظہر عباس نے کہا کہ میرا ادریس صاحب سے نظریاتی اختلاف تھا اور صحافتی اتفاق۔ انہوں نے بتایا کہ کراچی میں دہائیوں قبل ہائی جیک ہونے والی پین ایم فلائٹ کی رپورٹنگ کے لیے میں اور ادریس بختیار کراچی ائیرپورٹ پر اکھٹے موجود تھے۔ ان کی ہمیشہ غیرمتنازعہ اور غیرجانبدار ہوتی۔ ادریس بختیار نے انڈس ٹائمز سے اپنی صحافتی زندگی کا آغاز کیا اور 57 برس تک مختلف صحافتی اداروں(پرنٹ و الیکٹرانک) سے منسلک رہے۔ صحافت کی اس طویل اننگز میں انہوں نے درجنوں صحافیوں کی پیشہ ورانہ تربیت کی جن میں سے کئی آج مختلف اداروں میں اہم عہدوں پر فائز ہیں۔