معیشت کی بہتری کیلئے سب کے ساتھ تعاون کرنے کیلئے تیار ہیں،

معیشت کا سہارا لے کر احتساب سے فرار اختیار نہیں کرنے دیں گے، پاکستان کو درپیش اقتصادی چیلنجز ہمیں ورثہ میں ملے ہیں، پاکستان کو تنہا کرنے کی بھارتی کوششیں ناکام ہو چکی ہیں، جرمنی، فرانس اور برطانیہ سمیت بہت سے یورپی دوست ممالک پاکستان کی بلیک لسٹنگ کے حق میں نہیں ہیں وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی کی برسلز میں یورپی یونین کے اجلاس میں شرکت کے بعد میڈیا سے گفتگو

منگل جون 18:01

معیشت کی بہتری کیلئے سب کے ساتھ تعاون کرنے کیلئے تیار ہیں،
برسلز ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 25 جون2019ء) وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ معیشت کی بہتری کیلئے سب کے ساتھ تعاون کرنے کیلئے تیار ہیں لیکن معیشت کا سہارا لے کر احتساب سے فرار اختیار نہیں کرنے دیں گے، پاکستان کو درپیش اقتصادی چیلنجز ہمیں ورثہ میں ملے ہیں، پاکستان کو تنہا کرنے کی بھارتی کوششیں ناکام ہو چکی ہیں، جرمنی، فرانس اور برطانیہ سمیت بہت سے یورپی دوست ممالک پاکستان کی بلیک لسٹنگ کے حق میں نہیں ہیں۔

یہ بات انہوں منگل کو برسلز میں یورپی یونین کے اجلاس میں شرکت کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہی۔ وزیر خارجہ نے کہا کہ بھارت ہمیں تنہائی کا شکار کرنا چاہتا ہے مگر آج جو ہوا وہ سب اس کے برعکس ہے، میں نہیں سمجھتا کہ پاکستان کسی قسم کی تنہائی کا شکار ہے۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ میرا یہاں آنا اور یورپی یونین کی سیاسی کمیٹی کے اجلاس میں شرکت کرنا اور یورپی یونین کے ساتھ نیا سٹرٹیجک پلان کا طے ہونا اس بات کا مظہر ہے کہ ہماری انگیجمنٹ بڑھ رہی ہے، ہم نے یورپی یونین کے اجلاس میں وہ ٹھوس اقدامات گنوائے جو پاکستان کر رہا ہے اور سب اراکین نے محسوس کیا کہ پاکستان مخلصانہ کاوشیں کر رہا ہے۔

ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے وزیر خارجہ نے کہا کہ پاکستان کو آج جن اقتصادی چیلنجز کا سامنا ہے وہ پچھلے 10 ماہ کے پیدا کردہ نہیں ہیں، یہ کئی دہائیوں کی کوتاہیاں ہیں جو ہمیں ورثہ میں ملی ہیں، ان چیلنجز سے نمٹنے کیلئے ہمیں دیرپا اقدامات کرنا ہوں گے، ان دیرپا اقدامات کیلئے جتنی سیاسی پارٹیاں ساتھ ہوں گی اور جتنا اتفاقِ رائے ہو گا اتنا بہتر ہو گا، معیشت کا بہتر ہونا اور چیز ہے اور اپنے کئے کا جوابدہ ہونا اور چیز ہے، ان دونوں کو کنفیوژ نہ کیا جائے، معیشت کی بہتری کیلئے ہم سب کے ساتھ تعاون کرنے کیلئے تیار ہیں لیکن معیشت کا سہارا لے کر احتساب سے فرار اختیار کرنا ایک دوسری چیز ہے۔

وزیر خارجہ نے کہا کہ اپوزیشن اسمبلی کے اندر اور باہر جو شور شرابہ کر رہی ہے اس کا مقصد میثاق معیشت نہیں ہے بلکہ احتساب سے نجات ہے۔ بھارت سے متعلق وزیر خارجہ نے کہا کہ ہندوستان ابھی تک بات چیت کے موڈ میں نہیں ہے، اس نے جو انتہائی پوزیشن لے رکھی ہے میں سمجھتا ہوں کہ ہندوستان کو ابھی وقت درکار ہے۔ ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے وزیر خارجہ نے کہا کہ یورپی ممالک سے اس پر بھی بات چیت ہوئی ہے کہ جی ایس پی پلس کا حصول ہمارے لئے کس قدر ضروری ہے اور میں ان کی سپورٹ پر ان کا شکر گزار ہوں۔

بلیک لسٹنگ کے حوالہ سے جرمنی، فرانس اور برطانیہ سمیت بہت سے یورپی دوست ممالک بھی یہ سمجھتے ہیں کہ پاکستان نے جو اقدامات اٹھائے ہیں وہ مثبت اور ٹھوس ہیں لہٰذا وہ پاکستان کی بلیک لسٹنگ کے حق میں نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ میں نے یورپی یونین کے اجلاس میں واضح کیا ہے کہ پاکستان میں جمہوریت مضبوط ہو رہی ہے آزادی اظہار رائے کا احترام کیا جاتا ہے جبکہ سرحد کی دوسری طرف مقبوضہ جموں و کشمیر میں جو انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کا سلسلہ جاری ہے اس پر ازسرنو غور کرنا ہو گا۔

افغانستان سے متعلق وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ افغان امن عمل کے حوالہ سے پاکستان کا کردار سب کے سامنے ہے جس کا امریکی نمائندہ خصوصی برائے افغانستان ایمبیسیڈر زلمے خلیل زاد پاکستان کے مصالحانہ کردار کا اعتراف کر چکے ہیں۔ پاکستان چاہتا ہے کہ تمام تنازعات کا حل مروجہ سفارتی طریقہ کار کے ذریعے ہو، کشیدگی کا خاتمہ ہونا چاہئے۔