قومی اسمبلی میں 434 کھرب 77 ارب 83 کروڑ 42 لاکھ 65ہزار کے لازمی اخراجات کی تفصیلات پیش کردی گئیں

منگل جون 18:06

قومی اسمبلی میں 434 کھرب 77 ارب 83 کروڑ 42 لاکھ 65ہزار کے لازمی اخراجات کی ..
اسلام آباد ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 25 جون2019ء) قومی اسمبلی میں 434 کھرب 77 ارب 83 کروڑ 42 لاکھ 65ہزار کے لازمی اخراجات کی تفصیلات پیش کردی گئیں۔ ان اخراجات کی ایوان سے منظوری لینا لازمی نہیں ہے۔ منگل کو قومی اسمبلی میں پیش کردہ لازمی اخراجات کے تحت الائونسز ‘ کہن سالی و پنشن کی مد میں 4 کھرب 56 ارب 60 کروڑ 77ہزار ‘ وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے مابین امدادی رقوم اور متفرق تطبیق کی مد میں 20کھرب 40 ارب ‘ شعبہ امور خارجہ کے دیگر اخراجات 7کروڑ 50 لاکھ‘ سول ورکس کی مد میں 2ہزار‘ شعبہ قانون اور انصاف کے دیگر اخراجات کی مد میں 25 کروڑ 53 لاکھ 31 ہزار‘ قومی اسمبلی کے لئے ایک ارب 95 کروڑ 95 لاکھ 90 ہزار ‘ سینٹ کے لئے ایک ارب 87 کروڑ75 لاکھ 76 ہزار ‘ پاکستان پوسٹ آفس ڈیپارٹمنٹ کے لئے ایک کروڑ 80 لاکھ‘ پاکستان ریلویز کے لئے ایک ارب 10 کروڑ ‘ وفاقی حکومت کی جانب سے غیر ملکی ترقیاتی قرضے اور ایڈوانسز کی مد میں 163 ارب دس کروڑ 39 لاکھ 5ہزار ‘ صدر مملکت کا عملہ ‘ خانہ داری اور الائونسز کے لئے 99 کروڑ 20 لاکھ‘ آڈٹ کے لئے 5 ارب 36 کروڑ 50 لاکھ‘ مصارف ملکی قرضہ جات کے لئے 25 کھرب 31 ارب 68 کروڑ‘ 45 لاکھ‘ 73 ہزار‘ ملکی قرضہ جات کی واپسی 391 کھرب 72 ارب 62 کروڑ32 لاکھ 94 ہزار ‘ مصارف بیرونی قرضہ جات تین کھرب 59 ارب 76 کروڑ43 لاکھ 91 ہزار ‘ بیرونی قرضہ جات کی واپسی 10 کھرب 95 ارب 25 کروڑ 44 لاکھ 33 ہزار ‘ قلیل المیعاد بیرونی قرضے کی واپسی 1 کھرب 8 ارب 30 کروڑ 93 ہزار‘ عدالت عظمیٰ کے لئے 2 ارب 95 کروڑ‘ اسلام آباد ہائی کورٹ کے لئے 57کروڑ 90 لاکھ‘ انتخابات کے لئے 6 ارب 84 کروڑ 90 لاکھ‘ وفاقی محتسب کے لئے 71 کروڑ 90 لاکھ روپے اور وفاقی ٹیکس محتسب کے لئے 25 کروڑ 30 لاکھ روپے کی تفصیلات ایوان میں پیش کردی گئیں۔

(جاری ہے)

واضح رہے کہ ان اخراجات کی حکومت کی طرف سے صرف تفصیلات ایوان میں پیش کی جاتی ہیں۔ ان پر رائے شماری نہیں ہوتی۔