سپریم کورٹ میں کرپشن کیس میں خاتون کلرک کی بقایا 10سال کی سزا ختم، جرمانے کی سزا برقرار

منگل جون 18:37

سپریم کورٹ میں کرپشن کیس میں خاتون کلرک کی بقایا 10سال کی سزا ختم، جرمانے ..
اسلام آباد ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 25 جون2019ء) سپریم کورٹ آف پاکستان نے کرپشن کیس میں خاتون کلرک کی بقایا 10سال کی سزا ختم کرتے ہوئے جرمانے کی سزا برقرار رکھی۔تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ میں چیف جسٹس آصف کھوسہ کی سربراہی میں پنشن فنڈزمیں خاتون کلرک کی کرپشن سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی ، سماعت میں چیف جسٹس نے کہا خاتون پنشن ڈیپارٹمنٹ میں اپر ڈویژن کلرک ہے، خاتون کی جانب سے کرپشن کا پہلا کیس دیکھا ہے، ٹرائل کورٹ نے خاتون کو 14سال سزا سنائی ، خاتون 4سال سزا کے بعد ضمانت پر باہر آ گئی۔

چیف جسٹس نے کہا ایک کروڑ 39 لاکھ روپے احتساب عدالت نے جرمانہ کیا ، 50 لاکھ روپے اکاونٹ سے برآمد ہونے کا کوئی جواز نہیں دیا ، پہلا کیس دیکھ رہا ہوں جس میں کسی خاتون پر کرپشن کا اتنا بڑا الزام ہے۔

(جاری ہے)

وکیل صفائی نے کہا منگنی کے وقت بطورحق مہر ایک کروڑ، 100تولے سونا اور گھر دیاگیا، جس پر چیف جسٹس سپریم کورٹ کا کہنا تھا ان کی شادی تو 2005 میں ہوئی ، دستاویزات کے مطابق تو شادی کے وقت حق مہر دینے کا کہا گیا۔

چیف جسٹس نے استفسار کیا شوہرایک پوسٹ ماسٹر تھا اس کے پاس اتنی رقم کہا ں سے آئی جسٹس یحیی آفریدی نے کہا ان کا نکاح نامہ بھی مشکوک لگ رہا ہے۔جس پر جسٹس آصف کھوسہ نے کہا نکاح رجسٹرار نے بھی اپنے دستخط سے انکار کیا ہے، خاتون اگر 20سال سروس کرتی تو سارا ملک لے جاتی، چیف جسٹس نے ملزمہ کی بہن سے مکالمے میں کہا لگتا ہے ساری کرتا دھرتا آپ ہیں، کیوں نہ اس کی سزا آپ دونوں میں تقسیم کر دیں۔عدالت نے خاتون کلرک کی بقایا 10سال کی سزا ختم کرتے ہوئے جرمانے کی سزا برقرار رکھی اور کہا ملزمہ کو ایک کروڑ 39 لاکھ 16ہزا ر 300روپے خرچ دینا ہوگا۔خیال رہے ٹرائل کورٹ اور ہائی کورٹ نزہت بی بی کو 14 سال اور جرمانے کی سزا سنائی تھی۔