ترقی یافتہ ممالک کو انسانی ہمدردی کی بنیاد پر لاکھوں افغان مہاجرین کی میزبانی کے مشن کی بھرپور حمایت کرنا ہوگی‘

سوئٹزرلینڈ حکومت اور دیگر ترقی یافتہ ممالک کو یو این ایچ سی آر کے فنڈز میں مزید حصہ ڈالنا چاہیے وزیر مملکت سیفران شہریار خان آفریدی کی سوئٹزرلینڈ حکومت کے اعلیٰ سطحی وفد سے ملاقات میں گفتگو

منگل جون 18:53

ترقی یافتہ ممالک کو انسانی ہمدردی کی بنیاد پر لاکھوں افغان مہاجرین ..
اسلام آباد ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 25 جون2019ء) وزیر مملکت برائے سیفران شہریار خان آفریدی نے کہا ہے کہ ترقی یافتہ ممالک کو انسانی ہمدردی کی بنیاد پر لاکھوں افغان مہاجرین کی میزبانی کے مشن کی بھرپور حمایت کرنا ہوگی‘ سوئٹزرلینڈ حکومت اور دیگر ترقی یافتہ ممالک کو یو این ایچ سی آر کے فنڈز میں مزید حصہ ڈالنا چاہیے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے منگل کو یہاں سوئٹزرلینڈ حکومت کے اعلیٰ سطحی وفد سے ملاقات کے دوران کیا۔

سوئٹزرلینڈ کے اعلیٰ سطحی حکومتی وفد کی قیادت سفیر مینول بیسلر کر رہے تھے جبکہ سفیر تھامس کولی بھی ملاقات میں موجود تھے۔ اس موقع پر وزیر مملکت نے کہا کہ پاکستان چالیس سال سے اپنے معاشی مسائل کے باوجود انسانی ہمدردی اور بھائی چارے کی بنیاد پر افغان مہاجرین کی مدد کر رہا ہے۔

(جاری ہے)

وقت آگیا ہے کہ اب ترقی یافتہ ممالک افغان مہاجرین کی وطن واپسی کے حوالے سے اپنا کردار ادا کریں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان افغان مہاجرین کے لئے عالمی برادری سے مدد حاصل کرنے کی کوششیں کر رہا ہے کیونکہ دنیا کا امن ایک پرامن افغانستان سے ممکن ہے۔ حکومت پاکستان کی پالیسی کے تحت افغان مہاجرین کی رضاکارانہ وطن واپسی کو ممکن بنانے کے لئے یو این ایچ سی آر اور دیگر اداروں کے ساتھ مل کر کوششیں کر رہی ہے۔ شہریار آفریدی نے کہا کہ افغان مہاجرین کی مدد اور ان کی باوقار واپسی انسانی ہمدردی کی بنیاد پر کر رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان میں خودکش دھماکوں‘ منشیات کے کاروبار‘ ناجائز اسلحہ اور دیگر مسائل کو افغان مہاجرین کے سامنے آنے کے باوجود پاکستان نے افغان مہاجرین کی مدد میں کمی نہیں کی ۔اس موقع پر سوئس حکومت کے سفیر مینول بیسلر نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ عالمی برادری افغان مہاجرین کی بحالی اور مدد کے حوالے سے کام کر رہی ہے۔ سوئس حکومت افغان مہاجرین کی میزبانی کو قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ انسانی تاریخ میں کسی ملک نے چالیس لاکھ سے زائد مہاجرین کی تین دہائیوں سے زائد میزبانی نہیں کی اور پاکستان کی افغان مہاجرین کے لئے قربانی کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سوئس حکومت افغان مہاجرین کی ہر ممکن مدد یقینی بنائے گی۔ ملاقات میں چیف کمشنر برائے افغان مہاجرین سلیم خان نے وزیر مملکت کی معاونت کی۔ ملاقات میں وزارت سیفران کے حکام بھی شریک تھے۔