وزیراعظم کو سلیکٹڈ کہنے پر پولیس نے ایک شخص کو گرفتار کیا،مفتح اسماعیل

دورانِ تفتیش اس شخص نے کہا کہ میں تو تنزانیہ کے وزیراعظم کو سلیکٹڈ کہا تھا،پولیس نے اسے چھتر مارے اور کہا ہمیں نہیں پتا کہ کہاں کا وزیراعظم سلیکٹڈ ہے، رہنما مسلم لیگ ن نے لطیفہ لکھ ڈالا

Usman Khadim Kamboh عثمان خادم کمبوہ منگل جون 22:12

وزیراعظم کو سلیکٹڈ کہنے پر پولیس نے ایک شخص کو گرفتار کیا،مفتح اسماعیل
اسلام آباد (اردوپوائنٹ اخبار تازہ ترین۔25جون2019ء) رہنما مسلم لیگ ن مفتح اسماعیل نے پارلیمنٹ میں لفظ سلیکٹڈ پر پابندی کے حوالے سے دلچسپ لطیفہ لکھ ڈالا۔ مفتح اسماعیل نے اپنے تویٹر اکاؤنٹ سے لطیفہ شئیر کیا ہے کہ پولیس نے وزیراعظم کو سلیکٹڈ کہنے پر ایک شخص کو گرفتار کیا، دورانِ تفتیش اس شخص نے کہا کہ میں تو تنزانیہ کے وزیراعظم کو سلیکٹڈ کہا تھا جس پر پولیس نے اسے چھتر مارتے ہوئے کہا ہمیں نہیں پتا کہ کہاں کا وزیراعظم سلیکٹڈ ہے۔

مفتح اسماعیل نے ٹویٹ میں وٹس ایپ میسج کا حوالہ دیتے ہوئے یہ ٹویٹ شئیر کی کہ انہیں یہ لطیفہ وٹس ایپ پہ موصول ہوا ہے۔ 
 
 واضح رہے کہ وزیراعظم عمران خان اور انکی حکومت کو قومی اسمبلی میں بار بار اپوزیشن رہنماؤں کی جانب سے بار بار سلیکٹڈ کہے جانے پر سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے لفظ ’سلیکٹڈ‘ کے قومی اسمبلی میں استعمال پر پابندی لگا دی ہے۔

(جاری ہے)

دوسری طرف نفیسہ شاہ نے قومی اسمبلی میں لفظ ’سلیکٹڈ‘ پر پابندی لگائے جانے کے بعد سپیکر قومی اسمبلی سے مطالبہ کیا ہے کہ اگر لفظ ’سلیکٹڈ ‘پر پابندی لگانی ہے تو لفظ ’چور‘ اور ’ڈاکو‘ پر بھی پابندی لگائیں۔ عد میں اسپیکر نے دروغ گوئی کا لفظ بھی حذف کرادیا ،جس پر شہباز شریف نے کہاکہ دروغ گوئی پارلیمانی لفظ ہے، اگر دروغ گوئی حذف کررہے ہیں تو غلط بیانی کا لفظ استعمال کرتا ہوں۔

دوسری جانب آصف زرداری کا اس حوالے سے کہنا تھا کہ دیکھ یںگے اس پر قانونی ماہرین سے بات کریں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پارلیمنٹرین سے بھی اس سلسلے میں بات کروں گا۔آصف زردارینے مزید کہا کہ پتا کریں گے کہ یہ پابندی لگا بھی سکتے ہیں یا نہیں۔ سینئیر صحافی اور تجزیہ نگار حسن نثار نے بھی کہا ہے کہ نفیسہ شاہ کی بات میں بہت وزن ہے ، سلیکٹڈ چور اور ڈاکو کے مقابلے میں بڑا ہی بے ضرر اور معصوم سا لفظ ہے۔ انہوں نے کہا کہقومی اسمبلی کے ڈپٹی سپیکر اور سپیکر کو سوچنا چاہئے کہ جن الفاظ کو وہ حذف کرتے ہیں وہ الفاظ تو لوگوں کو ازبر ہو چکے ہوتے ہیں۔