12واں ورلڈ کپ، دفاعی چیمپئن آسٹریلیا انگلینڈ کو ہرا کر چھٹی فتح کے ساتھ ہی سیمی فائنل میں پہنچ گیا،

شکست کے بعد انگلش ٹیم کی مشکلات مزید بڑھ گئیں کینگروز نے پہلے کھیلتے ہوئے مقررہ اوورز میں 7 وکٹوں پر 285 رنز بنائے، فنچ کی شاندار سنچری، جواب میں انگلش ٹیم ہدف کے تعاقب میں 221 رنز پر آئوٹ، بہرنڈورف اور سٹارک کی تباہ کن بائولنگ کے سامنے انگلش بیٹنگ لائن تہس نہس، سٹوکس کی 89 رنز کی اننگز بھی انگلش ٹیم کو شکست سے نہ بچا سکی، بہرنڈورف کی 5 اور سٹارک کی 4 وکٹیں، فنچ میچ کے بہترین کھلاڑی قرار

منگل جون 22:49

12واں ورلڈ کپ، دفاعی چیمپئن آسٹریلیا انگلینڈ کو ہرا کر چھٹی فتح کے ..
لارڈز۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 25 جون2019ء) بارہویں آئی سی سی ون ڈے ورلڈ کپ کرکٹ ٹورنامنٹ میں عالمی و دفاعی چیمپئن آسٹریلیا نے انگلینڈ کو 64 رنز سے شکست دے کر چھٹی فتح کے ساتھ سیمی فائنل میں جگہ بنا لی، آسٹریلیا رواں ورلڈ کپ سیمی فائنل میں پہنچنے والی پہلی ٹیم ہے، شکست کے بعد انگلش ٹیم کا سیمی فائنل تک رسائی کا راستہ مزید مشکل ہو گیا، کینگروز نے پہلے کھیلتے ہوئے مقررہ اوورز میں 7 وکٹوں پر 285 رنز بنائے، ایرون فنچ نے ڈٹ کر انگلش بائولرز کا مقابلہ کیا اور سنچری بنا کر ٹیم کی پوزیشن مستحکم کی، وارنر 53 رنز بنا کر دوسرے نمایاں بلے باز رہے، جواب میں انگلش ٹیم ہدف کے تعاقب میں 44.4 اوور میں 221 رنز بنا کر آئوٹ ہو گئی، بہرنڈورف اور سٹارک نے تباہ کن بائولنگ کا مظاہرہ کرتے ہوئے ابتدائی 4 وکٹیں گرا کر حریف ٹیم کی مضبوط بیٹنگ لائن اپ تہس نہس کر دی، سٹوکس کے سوا کوئی بھی کھلاڑی کینگروز بائولرز کا ڈٹ کر مقابلہ نہ کر سکا، سٹوکس نے 89 رنز کی عمدہ اننگز کھیلی لیکن وہ ٹیم کو شکست سے نہ بچا سکے، بہرنڈورف نے 5 اور سٹارک نے 4 کھلاڑیوں کو آئوٹ کر کے ٹیم کی جیت میں حصہ ڈالا، فنچ کو شاندار بیٹنگ کا مظاہرہ کرنے پر میچ کے بہترین کھلاڑی کا ایوارڈ دیا گیا۔

(جاری ہے)

منگل کو ورلڈ کپ میں کھیلے گئے 32ویں میچ میں انگلش قائد نے ٹاس جیت کر پہلے بائولرز کو آزمانے کا فیصلہ کیا جو ان کیلئے مہنگا ثابت ہوا، عالمی و دفاعی چیمپئن آسٹریلوی ٹیم نے پہلے کھیلتے ہوئے مقررہ اوورز میں 7 وکٹوں کے نقصان پر 285 رنز بنائے، کپتان ایرون فنچ اور ڈیوڈ وارنر نے انتہائی شاندار بیٹنگ کرتے ہوئے ٹیم کو 123 رنز کا جاندار آغاز فراہم کیا، یہاں پر معین علی نے وارنر کو آئوٹ کر کے نہ صرف اہم پارٹنرشپ توڑی بلکہ ٹیم کو بڑی کامیابی بھی دلائی، انہوں نے 53 رنز بنائے، اس کے بعد فنچ اور عثمان خواجہ نے مل کر ٹیم کے سکور میں 50 رنز کا اضافہ کیا، 173 کے مجموعی سکور پر کینگروز کی دوسری وکٹ گری جب خواجہ 23 رنز بنانے کے بعد سٹوکس کی گیند پر بولڈ ہو گئے، فنچ نے ڈٹ کر حریف بائولرز کا مقابلہ کیا اور سنچری سکور کی، وہ سنچری مکمل کرنے کے ساتھ ہی 100 کے انفرادی سکور پر جوفرا آرچر کی گیند پر کیچ آئوٹ ہو گئے، اس کے بعد کینگروز کا کوئی بھی بلے باز بڑی اننگز نہ کھیل سکا، میکسویل جو کہ جارحانہ موڈ میں تھے 12 رنز بنا کر مارک ووڈ کی گیند پر شکار ہو گئے، مارکس سٹوئنس 8 رنز بنا کر رن آئوٹ ہوئے، سٹیون سمتھ 38 رنز بنا سکے، انہیں ووکس نے نشانہ بنایا، پیٹ کمنز 1 رن بنا کر چلتے بنے، انہیں بھی ووکس نے آئوٹ کیا، ایلکس کیری نے 38 رنز بنا کر ٹیم کے ٹوٹل کو فائٹنگ بنا دیا، مچل سٹارک 4 رنز بنا کر ناٹ آئوٹ رہے، ووکس نے 2 جبکہ آرچر، ووڈ، سٹوکس اور علی نے 1، 1 وکٹ لی۔

جواب میں انگلش ٹیم مطلوبہ ہدف حاصل کرنے میں ناکام رہی اور پوری ٹیم 45 ویں اوور میں 221 رنز بنا کر پویلین لوٹ گئی، ہدف کے تعاقب میں انگلینڈ کی ٹیم جب میدان میں اتری تو اس کا آغاز انتہائی مایوس کن تھا اور پہلے ہی اوور کی دوسری گیند پر بہرنڈورف نے جیمز ونس کو کلین بولڈ کر کے ٹیم کو پہلی کامیابی دلائی، وہ بغیرکوئی رن بنائے چلتے بنے، 15 کے سکور پر سٹارک نے جوروٹ کو آئوٹ کر کے ٹیم کو بڑی کامیابی دلائی، وہ 8 رنز بنا سکے، 26 کے سکور پر انگلش ٹیم کو اس وقت بڑا دھچکا لگا جب کپتان مورگن 4 رنز بنانے کے بعد سٹارک کی گیند پر کیچ آئوٹ ہو گئے، اس کے بعد جونی بیئرسٹو اور بین سٹوکس نے ٹیم کو مشکلات سے نکالنے کی کوشش کی لیکن 53 کے سکور پر بیئرسٹو 27 رنز بنا کر بہرنڈورف کی گیند پر کیچ آئوٹ ہو گئے، اس کے بعد سٹوکس اور جوز بٹلر حریف بائولرز کے سامنے ڈٹ گئے، یہ پارٹنرشپ کینگروز کیلئے خطرہ بن گئی تھی کہ 124 کے سکور پر سٹوئنس کی گیند پر خواجہ نے بٹلر کا بائونڈری پر شاندار کیچ تھام کر انہیں میدان بدر کیا، انہوں نے 25 رنز بنائے، اس کے بعد کرس ووکس نے سٹوکس کا ساتھ دیا، 177 کے سکور پر انگلینڈ کی آخری امید بھی دم توڑ گئی جب سٹوکس جو کہ وکٹ پر جم گئے تھے اور اچھی بیٹنگ کر رہے تھے 89 رنز بنانے کے بعد سٹارک کی گیند پر کلین بولڈ ہو گئے، معین علی 6 رنز بنا کر بہرنڈورف کی گیند پر کیچ آئوٹ ہوئے، ووکس 26 رنز بنا کر بہرنڈورف کی گیند کا شکار بنے، جوفرا آرچر بھی 1 رن بنا سکے، انہیں بھی بہرنڈورف نے نشانہ بنایا، 221 کے سکور پر انگلینڈ کی آخری وکٹ گری جب عادل رشید 25 رنز بنا کر سٹارک کی گیند پر کیچ آئوٹ ہوئے، بہرنڈورف نے 5، سٹارک نے 4 اور سٹوئنس نے 1 وکٹ لی۔

متعلقہ عنوان :