نیب لاہور نے ہسپتالوں کے مضر صحت فضلہ سے گھریلو اشیاء کی تیاری کے حوالے سے میڈیا رپوٹس کا نوٹس لے لیا

متعلقہ اداروں کے حکام بریفنگ کیلئے طلب ‘ ملوث عناصر کے خلاف ٹھوس اقدامات اٹھانے کے حکامات جاری نیب کا کام صرف پکڑ دھکڑ نہیں ، عوام کی فلاح کیلئے تمام ضروری اقدامات سر انجام بھی دینا ہے‘تمام ادارے مل کر اپنا اپنا کردارادا کریں تومقاصد کا حصول جلد ممکن ہوسکے گا‘ ڈی جی نیب لاہور

منگل جون 23:03

نیب لاہور نے ہسپتالوں کے مضر صحت فضلہ سے گھریلو اشیاء کی تیاری کے حوالے ..
لاہور۔25 جون(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 25 جون2019ء) قومی احتساب بیورو لاہور کے ڈائریکٹر جنرل کی جانب سے پنجاب کے مختلف حکومتی و پرائیویٹ ہسپتالوں سے اکھٹے کئے جانیوالے انتہائی مضر صحت فضلہ کی مبینہ غیرقانونی فروخت کے حوالے سے مختلف شکایات اور میڈیا میں آنیوالی رپورٹس پر پنجاب ہیلتھ کیئر کمیشن ،شعبہ انوائرمنٹ پروٹیکشن‘کمشنر ‘ڈپٹی کمشنر اور متعلقہ اداروں کے ذمہ داران کو نیب لاہور میں بریفنگ کیلئے طلب کیا گیا۔

پرائمری اینڈ سیکنڈری ہیلتھ کیئر ڈیپارٹمنٹ کے فوکل پرسن ڈاکٹر مشتاق کی جانب سے موضوع پر جامع بریفنگ دی گئی جس میں موجودہ حکومتی قوانین اور متعلقہ اداروں کی ذمہ داریوں کے حوالے سے پالیسی کی وضاحت کی گئی۔تفصیلات کے مطابق ڈی جی نیب لاہور نے نیب قانون کی شق 33C کے تحت عوام کی فلاح کو مدنظر رکھتے ہوئے ہسپتالوں سے مضر صحت فضلہ کی مبینہ فروخت اور اس سے روزمرہ گھریلو استعمال کی اشیاء کی تیاری کی ویڈیوز رپورٹ منظر عام پر آنے کے بعد ان پر نوٹس لیا‘ رپورٹ کیمطابق ہسپتالوں کے فاضل ویسٹ سے مبینہ طور پر پلاسٹک کے برتن، سٹرا، پلاسٹک بیگز اور بچوں کیلئے فیڈر کے ساتھ ساتھ ان میں استعمال ہونیوالے نپل کے علاوہ دیگر متعدد اشیاء تیار کی جا رہی ہیں‘ نیب کو موصول اطلاعات کے مطابق ان تمام ہسپتالوں میں موجود مخصوص مفاد پرست عناصر اور منظم مافیا نا صرف باہمی طور پر ملوث ہیں بلکہ متعلقہ اداروں کیجانب سے ان کی نامناسب نگرانی اور ان عناصر کیخلاف ٹھوس اقدامات نہ ہونیکی وجہ سے مناسب روک تھام اور سدباب نہیں ہو رہا‘ متعلقہ اداروں جن میں پنجاب ہیلتھ کیئر ڈیپارٹمنٹ، انوائرمینٹل پروٹیکشن ڈیپارٹمنٹ پنجاب، ہسپتال انتظامیہ اور دیگر انتظامی افسران کی دانستہ غفلت بھی ان واقعات کا سبب ہے‘اس موقع پر ڈی جی نیب لاہور نے کہاکہ نیب کا کام صرف پکڑ دھکڑ نہیں بلکہ نیب میں عوام کی فلاح کو مدنظر رکھ کر اور قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے تمام اقدامات سر انجام دیئے جاتے ہیں۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ معاشرتی فلاحی معاملات کے حل کیلئے نیب اور دیگر تمام ادارے آپس میں مل کر اپنا کردارادا کریں تومقاصد کا حصول جلد ممکن ہوسکے گا‘انہوں نے کہاکہ ضرورت پڑنے پر نیب تادیبی اقدامات اٹھانے سے بھی گریز نہیں کریگا۔ بریفنگ کے دوران تمام شرکاء کو ہسپتالوں کے فضلہ سے مختلف اشیاء کی تیاری کی ویڈیوز اور تصاویر بھی دکھائی گئیں‘قانون کی رو سے ہسپتالوں سے نکلنے والے فضلہ جات کو راکھ کی صورت میں تلف ہونا چاہیے جبکہ شواہد کے مطابق اس فضلہ سے پلاسٹک کی مصنوعات بنائی جارہی ہیں جو حفظان صحت کے اصولوں کے خلاف بھی ہیں اور عوام میں خطرناک بیماریاں پھیلانے کا سبب بھی‘نیب لاہور بریفنگ کی روشنی میں تمام محکمہ جات کو انکی ذمہ داریوں اور ان میں ہونیوالی غفلت کا تعین کریگا جبکہ ویسٹ کی تلفی کے اس نظام کو مزید مستحکم کرنے کیلئے اصلاحاتی نوٹ بھی ارسال کئے جائینگے اورمتعلقہ اداروں کیجانب سے نیب کی جاری کردہ ان سفارشات پر عملدرآمد کی باقاعدہ مانیٹرنگ بھی کی جائے گی۔

ابتدائی طور پر ڈی سی لاہور کیجانب سے فوری طور پر صوبائی دارلحکومت اور اسکے مضافات میں موجود ایسی تمام غیرقانونی فیکٹریوں کو بند کروانیکی یقین دہانی کروائی گئی جبکہ انوائرمنٹ پروٹیکشن ڈیپارٹمنٹ کو ہسپتالوں کے فضلہ جات کی مناسب تلفی کے حوالے سے فوری ٹھوس اقدامات اٹھانے اور ادارے کو اپنا کردار ادا کرنیکے احکامات جاری کیے گئے۔

متعلقہ عنوان :