پشاور ہائی کورٹ نے پی ٹی اے کو غیر رجسٹرڈ شدہ موبائل فونز بند کرنے سے روک دیا

3 ماہ تک موبائل فون بند نہ کیے جائیں، پشاور ہائی کورٹ کا تحریری حکم نامہ

Usman Khadim Kamboh عثمان خادم کمبوہ منگل جون 23:02

پشاور ہائی کورٹ نے پی ٹی اے کو غیر رجسٹرڈ شدہ موبائل فونز بند کرنے سے ..
پشاور (اردوپوائنٹ اخبار تازہ ترین۔25جون2019ء) پشاور ہائی کورٹ نے پاکستان ٹیلی کمیونی کیشن اتھارٹی کو غیر رجسٹرڈ شدہ موبائل فونز بند کرنے سے روک دیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق پشاور ہائی کورٹ نے موبائل فون بندش کے خلاف کیس میں پاکستان ٹیلی کمیونی کیشن اتھارٹی کو نان رجسٹرڈ موبائل بند کرنے سے روک دیا ہے،۔ ذرائع کے مطابق عدالت نے ٹیلی کمیونی کیشن اتھارٹی کو مزید 3 ماہ غیر رجسٹرڈ شدہ فون بند نہ کرنے کا حکم دیا ہے۔

ہائی کورٹ نے موبائل فون بندش کیس میں اپنے حکم میں کہا ہے کہ 3 ماہ تک موبائل فون بند نہ کیے جائیں۔ غیر رجسٹرڈ شدہ فونز کی بندش کے خلاف موبائل ڈیلرز نے پشاور کی عدالت میں درخواست دائر کی تھی۔ خیال رہے پاکستان بھر میں موبائل فون استعمال کرنے والے صارفین کی تعداد 15کروڑ 75لاکھ سے زائد ہوگئی ہے، یہ صارفین 4 کمپنیوں کی موبائل سروسز استعمال کر رہے ہیں. پاکستان میں ٹیلی کمیونیکیشن کو کنٹرول کرنے کے ذمہ دار ادارے پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) نے موبائل فونز کی شناخت اور بلاکنگ کا سسٹم یکم دسمبر سے فعال کرنے کا اعلان کیا تھا۔

(جاری ہے)

ملک میں جعلی موبائل فونز کا استعمال روکنے، فون چوری کی روک تھام اور صارفین کے حقوق کے تحفظ کا نظام یکم دسمبر 2018ءسے باقاعدہ فعال ہواتھا۔ اس سلسلے میں پی ٹی اے نے وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی اور ٹیلی کام کی جانب سے منظور شدہ ٹیلی کام پالیسی 2015ءکے سیکشن 9.6کے پیش نظر موبائلفونز کی شناخت اور بلاک کرنے کے نظام ڈیوائس آئی ڈینٹیٹی فکیشن، رجسٹریشن اینڈ بلاکنگ سسٹم کے حوالے سے اقدامات کئے گئےتھے۔

اس سسٹم سے پاکستان کے تمام موبائل فون صارفین کو بلا تعطل خدمات فراہم کی جاسکیں گی. یکم دسمبر تک ملک میں تما م موبائل ڈیوائسز بشمول نان کمپلائنٹ ڈیوائسز تمام موبائل نیٹ ورکس پر فعال رہیں ، تمام صارفین کی سہولت کے لیے ان کے آئی ایم ای آئی (IMEI ) کو ان کے موبائل فون نمبر کے ساتھ منسلک کر دیا جائے گا اور وہ کسی تعطل کے بغیر فعال رہیں گے. تاہم نئے نظام کے بعد تمام ایسی نئی موبائل ڈیوائسز جن کے آئی ایم ای آئی بین الاقوامی معیار کے مطابق نہیں، انہیں نان کمپلائنٹ ڈیوائس سمجھا جائے گا اور انہیں پاکستانی حدود میں کہیں بھی رابطے اور خدمات کی سہولت دستیاب نہیں ہوسکے گی.