ناقص معاشی پالیسیوں کے ذمہ دار ہم سے 10 ماہ کا حساب مانگ رہے ہیں، جب تک معیشت بہتر نہیں ہو جاتی ہم ان سے ان کے 40 سالوں کا حساب مانگتے رہیں گے‘

ماضی میں ذاتی مفادات کے لئے ملکی معیشت کو دائو پر لگایا گیا‘ گھی‘ آٹے‘ گوشت ‘ پھل اور سبزیوں پر کوئی ٹیکس نہیں لگایا گیا‘ 300 یونٹ سے کم بجلی استعمال کرنے والوں کو سبسڈی دیں گے احساس اور غربت مکائو پروگرام کے لئے 190 ارب روپے مختص کئے گئے ہیں‘ اب معیشت مستحکم ہو رہی ہے‘ چینی کی قیمتوں میں اضافے کے حوالے سے صوبائی حکومتوں سے مل کر سروے کرائیں گے‘ پاکستان میں 8ہزار ارب روپے تک محصولات جمع کئے جاسکتے ہیں قائد حزب اختلاف اگر میثاق معیشت میں سنجیدہ ہوں تو ہم اس کا خیرمقدم کریں گے‘ ٹیکسوں کے نظام کو سادہ اور آسان بنایا جارہا ہے‘ ٹیکس گوشوارے موبائل ایپلیکیشن کے ذریعے جمع کرائے جاسکیں گے وزیر مملکت برائے ریونیو حماد اظہرکا قومی اسمبلی میں بجٹ پر بحث سمیٹتے ہوئے اظہارخیال

منگل جون 23:14

ناقص معاشی پالیسیوں کے ذمہ دار ہم سے 10 ماہ کا حساب مانگ رہے ہیں، جب تک ..
اسلام آباد ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 25 جون2019ء) وزیر مملکت برائے ریونیو حماد اظہر نے کہا ہے کہ ناقص معاشی پالیسیوں کے ذمہ دار ہم سے 10 ماہ کا حساب مانگ رہے ہیں، جب تک معیشت بہتر نہیں ہو جاتی ہم ان سے ان کے 40 سالوں کا حساب مانگتے رہیں گے‘ ماضی میں ذاتی مفادات کے لئے ملکی معیشت کو دائو پر لگایا گیا‘ گھی‘ آٹے‘ گوشت ‘ پھل اور سبزیوں پر کوئی ٹیکس نہیں لگایا گیا‘ 300 یونٹ سے کم بجلی استعمال کرنے والوں کو سبسڈی دیں گے‘ احساس اور غربت مکائو پروگرام کے لئے 190 ارب روپے مختص کئے گئے ہیں‘ اب معیشت مستحکم ہو رہی ہے‘ چینی کی قیمتوں میں اضافے کے حوالے سے صوبائی حکومتوں سے مل کر سروے کرائیں گے‘ پاکستان میں 8ہزار ارب روپے تک محصولات جمع کئے جاسکتے ہیں‘ سگریٹ پر لگائے گئے اضافی ٹیکس سے حاصل ہونے والا ریونیو صحت کے شعبہ پر لگایا جائے گا‘ قائد حزب اختلاف اگر میثاق معیشت میں سنجیدہ ہوں تو ہم اس کا خیرمقدم کریں گے‘ ٹیکسوں کے نظام کو سادہ اور آسان بنایا جارہا ہے‘ ٹیکس گوشوارے موبائل ایپلیکیشن کے ذریعے جمع کرائے جاسکیں گے۔

(جاری ہے)

منگل کو قومی اسمبلی کے اجلاس میں وزیر مملکت برائے ریونیو حماد اظہر نے بجٹ پر بحث سمیٹتے ہوئے ایوان بالا اور قومی اسمبلی کے ارکان‘ دونوں ایوانوں کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کے چیئرمینوں ‘ سپیکر قومی اسمبلی‘ چیئرمین سینٹ کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ سینٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کے اجلاس میں بھی انہیں جانے کا موقع ملا۔ انہوں نے کہا کہ ہماری معیشت میں گزشتہ 70 سالوں سے بنیادی نقائص رہے ہیں جن میں کسی حکومت نے کچھ نہیں کیا۔

یہاں ارکان نے جس ترقی کا ذکر کیا اس سے لگتا ہے کہ پاکستان چین سے زیادہ ترقی کر گیا ہے۔ یہاں غربت‘ افلاس‘ صحت کی سہولیات کی کمی اور پینے کے صاف پانی کی فراہمی نہ ہونے کا عمران خان ذمہ دار نہیں ہے۔ یہ ہم سے دس ماہ کا حساب مانگتے ہیں‘ ہم ان سے 40 سالوں کا حساب مانگیں گے۔ جب تک معیشت درست سمت میں نہیں چلی جاتی ہم ان سے حساب مانگتے رہیں گے۔

انہوں نے کہا کہ کوریا‘ ملائیشیا اور دیگر ممالک ہم سے آگے ہیں۔ پاکستان عمران خان کی وجہ سے ان سے پیچھے نہیں رہ گیا۔اس کی وجہ ماضی کے حکمرانوں کا 40 سالہ دور حکومت ہے۔ سیاسی مفادات کی خاطر پورے ملک کو دائو پر لگا دیا گیا۔ نیپرا نے بارہا کہا کہ گیس کے شعبہ میں حالات اچھے نہیں ہیں۔ اس سے گیس کے شعبے میں خسارہ 150 ارب سے تجاوز کر گیا اور گردشی قرضے 1150 ارب تک پہنچ گئے۔

یہ سب ان کے سیاسی فیصلوں کی وجہ سے ہوا۔ وزیر مملکت حماد اظہر نے کہا کہ سرکاری کارپوریشنوں کا خسارہ 423 ارب سے تجاوز کر گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ پانچ سالوں کے دوران اڑھائی ارب کے کرنٹ اکائونٹ خسارے کو 20 ارب ڈالر تک پہنچا دیا گیا‘ یہ مجرمانہ غفلت ہے۔ یہ اس دور کی بات ہے جس سنہرے دور کا یہ ذکر کر رہے تھے۔ مارچ 2017ء کی آئی ایم ایف کی رپورٹ آئی جس میں کہا گیا کہ نواز شریف کی حکومت کے حالات سے انہیں خدشہ ہے کہ کہیں ان کے پاکستان کو دیئے گئے قرضے واپس ملیں گے بھی یا نہیں۔

انہوں نے کہا کہ اگر ان کے دور میں معیشت اتنی اچھی تھی تو ان کے دور میں زرمبادلہ کے ذخائر 19 ارب سے کم ہو کر 9 ارب ڈالر تک آگئے۔ وزیر مملکت حماد اظہر نے کہا کہ یہ اپنے آخری بجٹ میں 2300 ارب خسارے کا بجٹ دے گئے۔ اس خسارے کو پورا کرنے کی بجائے 150 ارب روپے ریونیو کم کرگئے۔ سیاسی مفادات کی خاطر پورے ملک کی معیشت کو انہوں نے دائو پر لگا دیا۔ اگست میں ہم نے جب اقتدار سنبھالا تو زرمبادلہ کے ذخائر صرف دو ہفتوں کے رہ گئے تھے۔

اب معیشت مستحکم ہو رہی ہے‘ بجٹ خسارے میں 30 فیصد کمی آئی۔ ہم نے دوست ممالک سے امداد حاصل کی‘ قطر ہمیں تین ارب روپے دے گا۔ اسلامی ترقیاتی بنک بھی ہماری مدد کرے گا۔ آئی ایم ای سے معاہدہ ہوگیا ہے۔ اگست کی نسبت اب ہماری مالی پوزیشن بہتر ہے۔ انہوں نے کہا کہ معاشی استحکام کے حوالے سے پیپلز پارٹی‘ مسلم لیگ (ن) اور پرویز مشرف نے بھی اقدامات اٹھائے۔

انہوں نے کہا کہ ان ادوار میں سٹیبلائزیشن کی شرح زیادہ تھی۔ ہمارے دور میں 9 فیصد ہے یہ بھی زیادہ ہے۔ یہ پانچ فیصد تک ہونی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ افراط زر کی شرح سٹیٹ بنک سے قرض لینے کی وجہ سے بڑھتی ہے۔ اس کے لئے نوٹ چھاپنے ہوتے ہیں۔ ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ حکومت اب سٹیٹ بنک سے قرضہ نہیں لے گی۔ گزشتہ دس سالوں میں خاص طور پر ڈیٹ ٹو جی ڈی پی کی شرح بہت زیادہ بڑھی۔

ہمارے دور میں یہ شرح نیچے آئے گی۔ انہوں نے قرضے تو لے لئے مگر انہوں نے ملک کی آمدنی‘ ریونیو اور زرمبادلہ کے ذخائر بڑھانے کے لئے کچھ نہیں کیا۔ انہوں نے کہا کہ ہم جو نیا قرضہ لے رہے ہیں پرانے قرضوں پر سود دینے کے لئے بھی کافی نہیں ہے۔ حماد اظہر نے کہا کہ ٹیکس ٹو جی ڈی پی شرح آئندہ تین سالوں میں تین سے چار فیصد بڑھے گی۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے آٹے پر کوئی ٹیکس نہیں لگایا۔

برانڈڈ کارن فلور پر ٹیکس لگایا ہے۔گھی پر بھی ہم نے ٹیکس نہیں لگایا‘ ہم نے گھی پر ایک روپیہ کلو پر ٹیکس ختم کرکے اسے 16 فیصد سیلز ٹیکس میں جمع کردیا ہے۔ اس سے گھی پر ٹیکس میں کوئی فرق نہیں پڑے گا۔ چینی کی قیمت پر ٹیکس 11 فیصد تھا ہم نے 17 فیصد کردیا ہے اس سے چینی کی قیمت ساڑھے تین روپے بڑھے گی۔ چینی کی قیمتوں میں 20 روپے فی کلو اضافہ ہونے کا تعلق اس ٹیکس سے نہیں ہے۔

اس سال گنے کے کاشتکار کو 180 روپے فی من کے حساب سے رقم ملی ہے۔ اس دفعہ گنے کے کاشتکار کو 37 ارب روپے زائد رقم ملی۔ انہوں نے کہا کہ شوگر ملز کے امور چیک کرنے کے لئے تین قانون لے کر آئے ہیں۔ پہلے یہ اپنے ہی ملازمین کو چینی بیچ کر ٹیکس چوری کرتے تھے۔ اس سے ٹیکس چوری کا خاتم ہوگا۔ صوبائی حکومتوں سے مل کر چینی کی قیمتوں کو اپنی سطح پر واپس لائیں گے۔

حماد اظہر نے کہا کہ ہم نے امپورٹڈ فروٹس جو امیر کھاتے ہیں‘ اس پر ٹیکس لگایا ہے۔ ہم نے گوشت پر ٹیکس نہیں لگایا مگر تیار اشیاء نگٹس وغیرہ پر ٹیکس لگایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ کہنا درست نہیں ہے کہ لوگ یروزگار ہو رہے ہیں۔ ٹیکسٹائل کے شعبے میں 29 فیصد‘ پھلوں اور سبزیوں کی برآمدات میں 20 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ وزیراعظم کی ہائوسنگ سکیم کے تحت غریبوں کے لئے گھر بنا رہے ہیں۔

اس کے لئے پرائیویٹ سیکٹر اور غیر ملکی سرمایہ کاری لا رہے ہیں۔ اس سے نئی نوکریاں پیدا ہوں گی۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کے احساس اور غربت مکائو پروگرام کے لئے 190 ارب روپے کے فنڈز مختص کئے ہیں۔ اس سے صحت کارڈ‘ غریب لوگوں کو نقد رقوم کی ادائیگی اور ان کے راشن کا بندوبست کریں گے۔ 300 سے کم یونٹ بجلی استعمال کرنے والے صارفین کو سبسڈی دی جائے گی۔

950 ارب کے پی ایس ڈی پی میں کوئی کٹوتی نہیں کریں گے اس سے نئی نوکریاں پیدا ہوں گی۔ حماد اظہر نے کہا کہ تعلیم کا شعبہ بنیادی طور پر صوبائی ذمہ داری ہے مگر ہم نے ہائیر ایجوکیشن کے گزشتہ سال خرچ ہونے والے بجٹ میں 35 فیصد اضافہ کیا ہے تاہم اکانومی کے لئے بھی ہم نے رقم مختص کی ہے۔ ان سب رقوم کو جمع کیا جائے تو تعلیمی بجٹ میں کمی نظر نہیں آئے گی۔

ہم نے صحت کے شعبہ کے 11 ارب کا پروگرام ختم کیا۔ صوبوں کو دیئے گئے 6 ارب کے ای پی آئی پروگرام کو ختم کرکے ہم نے صحت کے لئے 13 ارب روپے مختص کردیئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پرائمری خسارہ 2 فیصد ہے‘ آئندہ دو سالوں میں اس کو صفر کردیا جائے گا۔ وزیراعظم ہائوس کے اخراجات کو 98 کروڑ سے کفایت شعاری کے ذریعے کم کرکے 60 کروڑ تک لائے ہیں۔ موجودہ حکومت کی کفایت شعاری مہم کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہم نے وفاقی حکومت کے انتظامی اخراجات میں پانچ فیصد کمی کی ہے۔

وزیر مملکت حماد اظہر نے کہا کہ فاٹا کو صوبوں کے ساتھ مل کر آئندہ 10 ارب روپے دیں گے۔ کوئٹہ کے لئے تین ارب اس کے علاوہ ہیں۔ ڈیموں کی تعمیر کے لئے 80 ارب روپے مختص کئے ہیں۔ صوبوں کے ساتھ مل کر زرعی شعبہ کی ترقی کے لئے آبپاشی کے نظام پر وفاقی حکومت 280 ارب روپے خرچ کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ ایکسپورٹ کے شعبہ پر زیرو ریٹنگ اس لئے ختم کیا جارہا ہے کیونکہ ان کی سیل ہزاروں ارب تک پہنچ گئی ہے۔

جو لوگ ایکسپورٹ کریں گے ان کے ریفنڈ بروقت ادا ہوں گے۔ ہم نے ٹیکسٹائل سیکٹر کو ساڑھے چھ سینٹ پر گیس اور 7 سینٹ پر بجلی فراہم کریں گے۔ بہ سبسڈی آئندہ سال تک جاری رہے گی۔ انہوں نے کہا کہ صنعتوں کو ہم نے کسٹم ڈیوٹی‘ ودھولڈنگ ٹیکسوں کے ذریعے مفلوج کرکے رکھ دیا تھا۔ ہم نے 1650 صنعتوں پر ڈیوٹی زیرو کردی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس سے 13 ارب کی ایکسپورٹ ہوں گی۔

ہم نے 5550 ارب کا ٹیکس ٹارگٹ رکھا ہے یہ کوئی زیادہ نہیں ہے۔ نئی سٹڈی کے مطابق ہمیں 8 ہزار ارب کا ٹارگٹ رکھنا چاہیے۔ یہ ہم ایک دم نہیں بڑھائیں گے بتدریج کریں گے۔ حماد اظہر نے کہا کہ ٹیکس کی آمدنی نہ بڑھائیں تو ہسپتال‘ تعلیمی ادارے اور دیگر کام نہیں ہو سکیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ریونیو خسارہ کالا دھن روکنے اور سبسڈیز کا غلط استعمال روک کر پورا کیا جائے گا۔

صوبائی اور مرکزی ٹیکس اداروں میں اصلاحات کے بغیر ٹیکس کا نظام بہتر نہیں ہو سکتا۔ انہوں نے کہا کہ جو کام یہ دس سالوں میں نہیں کر سکے ہم نے 10 مہینوں میں کردیا ہے۔ ہم نے ساڑھے پانچ کروڑ لوگوں کا ڈیٹا حاصل کرلیا ہے۔ زمینوں کے نرخ کو ہم مارکیٹ کے نرخوں تک لے آئے ہیں۔ بے نامی قانون کے لاگو نہ ہونے کا فائدہ حاصل کرنے والے وہی تھی جن کے سموسے والے اور پکوڑے والے اکائونٹس ہولڈر نکلے۔

انہوں نے کہا کہ ارکان اسمبلی اور سینٹ کی تجاویز آئی ہیں۔ اس کے تحت نان ریزیڈنٹ کی موجودگی ‘ سونے چاندی اور بھاری رقوم برآمد کرنے کے لئے گھروں پر چھاپے مارنے کے اختیارات واپس لے لئے گئے ہیں۔ ہم چادر اور چاردیواری کا تحفظ چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کسانوں کی سہولت کے لئے ڈیوٹی 300 کلو کی بجائے 10 روپے کر رہے ہیں۔ مہنگے سگریٹ پر 14 روپے فی ڈبی اور دوسرے درجے کی ڈبی پر 8 روپے ڈیوٹی لگائی گئی ہے جسے آئندہ مالی سال صحت کے شعبہ پر لگایا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ گڈانی اور شپ یارڈ کی ویرانی کی وجہ سے ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ شپ بریکنگ پر ٹیکس کم کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے ٹیکسوں میں مساوات کے لئے درآمدی گاڑیوں پر بھی ایف ای ڈی لگائی گئی 40 لاکھ سالانہ کرائے کی آمدنی سے اپنے اخراجات منہا کر سکیں گے۔ معیشت کی ڈاکومنٹیشن کے لئے عام صارفین کے لئے پچاس ہزار سے کم خریداری پر شناختی کارڈ دینا لازمی نہیں ہوگا۔

ٹیکسوں کے نظام کو سادہ اور آسان فہم بنانے کے لئے موبائل فون اور کمپیوٹر ٹیکنالوجی کا استعمال کیا جائے گا۔ لوگ اپنا ٹیکس ریٹرن وکیل کی بجائے خود بھر سکیں گے اور موبائل ایپ کے ذریعے ہی اپنے ٹیکس ریٹرن داخل کر سکیں گے۔ انہوں نے کہا کہ قائد حزب اختلاف نے میثاق معیشت کے حوالے سے بات کی ہے۔ میں نے جیسا اپنے ابتدائیے میں کہا ہے کہ ملک کی معیشت کو بہتر بنانے کے لئے کچھ سخت فیصلے کرنے پڑیں گے۔

اگر قائد حزب اختلاف میثاق معیشت کے حوالے سے سنجیدہ ہوئے تو ہم آگے بڑھیں گے۔ انہوں نے کہا کہ بجٹ کے موقع پر قومی اسمبلی ‘ سینٹ اور ذرائع ابلاغ سمیت یہاں کام کرنے والے کیمرہ مینوں کو تین بنیادی تنخواہوں کا اعزازیہ دینے کا اعلان کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نئے پاکستان کی تعمیر قرضوں پر نہیں بلکہ صنعت و حرفت اور حقیقی ترقی پر ہوگی۔