چند سالوں میں پیٹرول ناقابل یقین حد تک سستا جبکہ اس کا استعمال بھی نہ ہونے کے برابر ہو جائے گا

دنیا کی بڑی بڑی کمپنیاں اب بجلی سے چلنے والی ہائبرڈ گاڑیاں تیار کر رہی ہیں، چند ہی سالوں میں بیٹری چارجنگ اسٹیشنز پیٹرول پمپس کی جگہ لے لیں گے

muhammad ali محمد علی منگل جون 23:40

چند سالوں میں پیٹرول ناقابل یقین حد تک سستا جبکہ اس کا استعمال بھی نہ ..
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 25 جون2019ء) چند سالوں میں پیٹرول ناقابل یقین حد تک سستا جبکہ اس کا استعمال بھی نہ ہونے کے برابر ہو جائے گا، دنیا کی بڑی بڑی کمپنیاں اب بجلی سے چلنے والی ہائبرڈ گاڑیاں تیار کر رہی ہیں، چند ہی سالوں میں بیٹری چارجنگ اسٹیشنز پیٹرول پمپس کی جگہ لے لیں گے۔ تفصیلات کے مطابق پاکستان کے مایہ ناز اسکار ڈاکٹر عطاء الرحمان کا کہنا ہے کہ آئندہ چند سالوں کے دوران پیٹرول کا استعمال ختم ہونے والا ہے اور اس کی قیمت بھی بہت کم ہو جائے گی۔

ڈاکٹر عطاء الرحمان کا کہنا ہے کہ دنیا بھر کی بڑی بڑی آٹو کمپنیاں تیزی سے ایسی گاڑیاں تیار کر رہی ہیں جو صرف پیٹرولیم مصنوعات کی بجائے اب بجلی پر بھی چلتی ہیں۔ ایسی گاڑیوں کو ہائبرڈ گاڑیاں کہا جاتا ہے۔

(جاری ہے)

ڈاکٹر عطاء الرحمان کہتے ہیں کہ چند سالوں کے دوران آپ دیکھیں گے کہ ہائبرڈ گاڑیوں کی چارجنگ کیلئے چارجنگ اسٹیشنز پیٹرول پمپس کی جگہ لے لیں گے۔

واضح رہے کہ حالیہ چند برسوں کے دوران آٹو مارکیٹ میں ایک نئی طرز کی گاڑی متعارف کروائی گئی ہے جسے ہائبرڈ گاڑی کہا جاتا ہے۔ یہ گاڑی بجلی سے چارج ہونے والی بیٹری اور پیٹرول دونوں پر چل سکتی ہے۔ اس گاڑی کے مستقبل کے حوالے سے ماہرین کہتے ہیں کہ آنے والے برسوں میں یہ پیٹرولیم مصنوعات سے چلنے والی گاڑیوں کی جگہ لے لیں گی۔ چونکہ بجلی سے چارج ہونے والی بیٹری سے گاڑی چلانے کا خرچ کم ہوتا ہے، اس لیے ایسی گاڑیاں تیزی سے مقبولیت حاصل کر چکی ہیں۔

دنیا کے کئی ترقی یافتہ ممالک کی آٹو مارکیٹ میں ایسی گاڑیاں پہلے ہی اپنے پنجے گاڑھ چکی ہیں۔ جبکہ توقع ہے کہ پاکستان میں بھی جیسے جیسے بجلی کی پیداوار میں اضافہ ہو گا، اور بجلی سستی بھی ہوگی، تو ویسے ویسے ہائبرڈ گاڑیاں صرف پیٹرولیم مصنوعات پر چلنے والی گاڑیوں کی جگہ لے لیں گی۔ ماہرین یہ بھی کہتے ہیں کہ ان گاڑیوں کے باعث پاکستان کی معیشت کو بھی فائدہ ہوگا۔ پاکستان سالانہ بنیادوں پر اربوں ڈالرز کا تیل عالمی مارکیٹ سے خریدتا ہے۔ ایسی گاڑیوں کے عام ہو جانے سے پاکستان کا اربوں ڈالرز کا امپورٹ بل کم ہو  جائے گا۔