علی گڑھ میں کچوری بیچنے والے کی سالانہ آمدن 60لاکھ سے 1کروڑ روپے تک ہونے کا انکشاف

مخالف کی درخواست پر انکم ٹیکس ڈیپارٹمنٹ کے اہلکاروں نے بھیس بدل کر دوکان پر روزانہ کی بِکری نوٹ کی اور حساب لگایا کہ مکیش سالانہ 60لاکھ روپے کما رہا ہے، ٹیکس کا نوٹس بھیج دیا گیا

Usman Khadim Kamboh عثمان خادم کمبوہ منگل جون 23:45

علی گڑھ میں کچوری بیچنے والے کی سالانہ آمدن 60لاکھ سے 1کروڑ روپے تک ہونے ..
علی گڑھ (اردوپوائنٹ اخبار تازہ ترین۔25جون2019ء) ’مکیش کچوری‘ کے نام سے یہ دوکان علی گڑھ میں سیما سینما کے قریب واقعہ ہے۔ مکیش کچوری نامی یہ دوکان لذیذ کچوریوں کے لیے پورے علاقے میں مشہور ہے۔ مکیش پورا دن اپنی دوکان پر سموسے اور کچوریاں بیچتا ہے۔ گزشتہ دنوں مکیش کے کسی مخالف کچوری والے نے اس کے خلاف بھارت کے انکم ٹیکس ڈیپارٹمنٹ میں درخواست دی کہ مکیش اپنی دوکان سے بہت زیادہ پیسہ کپا رہا ہے لیکن ٹیکس ادا نہیں کرتا جس پر ٹیکس ڈیپارٹمنٹ کے اہلکاروں نے بھیس بدل کر دوکان پر روزانہ کی بِکری نوٹ کی اور حساب لگایا کہ مکیش سالانہ 60لاکھ روپے سے 1کروڑ روپے کما رہا ہے جس کے بعد اسے ٹیکس ادا کرنے کا نوٹس بھیج دیا گیا۔

 
دوکان کے مالک نے موقف اختیار کیا ہے کہ اس کے کسی مخالف نے اس کے خلاف لکھنوء میں جا کر ٹیکس ڈیپارٹمنٹ میں شکایت لگائی کہ میں سالانہ 60لاکھ روپے کماتا ہوں جبکہ یہ بالکل جھوٹ ہے۔

(جاری ہے)

مکیش نے کہا کہ یہ جھوٹا الزام ہے۔ اس نے کہا کہ اس کی روزانہ کی سیل 4سے5ہزار روپے ہے اور وہ کوئی لاکھوں روپے نہیں کماتا۔ انکم ٹیکس ڈیمارٹمنٹ نے مکیش کے نام نوٹس جاری کیا ہے کہ اس کی دوکان جی ایس ٹی کے تحت رجسٹرڈ نہیں ہے اور وہ کوئی ٹیکس بھی ادا نہیں کرتا۔

علی گڑھ کے ایڈیشنل کمشنر انوپ مہیشوری نے اس حوالے سے کہا ہے کہ ایسی باتیں سامنے آتی رہتی ہیں اور اب بھی یہ خبریں آرہی تھیں کہ کچھ لوگ ہیں جب کی بِکری کافی زیادہ ہے لیکن وہ ٹیکس ادا نہیں کر رہے۔ انہوں نے کہا کہ کچھ لوگ ایسے ہین جن کی کمائی جی ایس ٹی ٹیکس ادا کرنے کے لیے رکھی گئی حد سے زیادہ کما رہے ہیں لیکن انہوں نے خود کو رجسٹرڈ نہیں کروایا۔ خیال رہے کہ بھارتی قانون کے مطابق جس دوکان پر تیار کھانے کی سالانہ بِکری 40لاکھ یا اس سے زیادہ ہو اس پر 5فیصد جی ایس ٹی ٹیکس لاگو ہوتا ہے تاہم کچھ لوگ ایسے ہین جن کی کھانے کی دوکانیں یا ہوٹل تو چھٹو ہین لیکن وہ بہت زیادہ کما رہے ہیں تاہم وہ ٹیکس نیت میں نہیں آتے۔

متعلقہ عنوان :