کوئی تنہائی میں فوت نہ ہو۔ تنہا لوگوں کا آخری وقت میں ساتھ دینے کے لیے رضاکارانہ پروگرام

Ameen Akbar امین اکبر اتوار جولائی 22:47

کوئی تنہائی میں  فوت نہ ہو۔ تنہا لوگوں کا آخری وقت میں ساتھ دینے  کے ..

کوئی بھی شخص جس وقت پیدا ہوتا ہے تنہا نہیں ہوتا اور بہت سے لوگ تو دنیا سے جاتے ہوئے بھی اکیلے نہیں ہوتے، اُن کے پیارے اُن کے گرد بیٹھے ہوتے ہیں۔ تاہم ہر کوئی اتنا خوش نصیب نہیں ہوتا۔ بہت سے لوگ ایسے ہوتے ہیں، جن کےآخری وقت میں اُن کے پاس بیٹھنے والا کوئی نہیں ہوتا۔ ایسے ہی لوگوں کے لیے امریکا میں ایک پروگرام شروع کیا گیا ہے۔
نو ون ڈائیز الون (No One Dies Alone) نامی اس پروگرام میں رضاکار ایسے مریضوں پر نظر رکھتے ہیں، جن کا آخری وقت قریب ہوتا ہے۔

امریکا کے مختلف ہسپتال رضاکاروں کو ایسے مریضوں کی تفصیل فراہم کرتے ہیں، جن کے آخری وقت میں اُن کے پاس بیٹھنے والا کوئی نہیں ہوتا۔ رضاکار ایسے مریضوں کے سرہانے اُن کا ہاتھ پکڑے بیٹھے رہتے ہیں اور شفقت بھرے انداز میں مریضوں رخصت کرتے ہیں۔

(جاری ہے)

رضاکار مریضوں کو احساس دلاتے ہیں کہ وہ اپنے آخری وقت میں تنہا نہیں ہیں۔امریکا میں کامیابی کے بعد یہ پروگرام دوسرے کئی ممالک تک پھیل چکا ہے۔


اس پروگرام کا آغاز اوریگون کے ایک ہسپتال میں کام کرنے والی نرس سینڈرا کلارک نے کیا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ ایک رات اُن کی ڈیوٹی سات مریضوں کے ساتھ تھی۔ اُن میں سےا یک بوڑھے مریض کی حالت کافی خراب تھی۔ اس مریض نے سینڈرا سے درخواست کی کہ کیا وہ اُس کے پاس بیٹھ سکتی ہیں۔ سینڈرا نے جواب دیا کہ وہ باقی چھ مریضوں کا چیک اپ کر کے ضرور اس کے ساتھ بیٹھے گی۔

ڈیڑھ گھنٹے بعد جب سینڈرا فارغ ہو کر آئی تو وہ بوڑھا مریض وفات پا چکا تھا۔ اس پر سینڈرا نے سوچا کہ مرنا تو ہر کسی نے ہوتا ہے، ان کا وقت آیا ہوتا ہے لیکن اس طرح تنہا اپنوں کے بغیر مرنا ٹھیک نہیں۔سینڈرا نے اپنے ہسپتال کے لوگوں کو قائل کیا کہ وہ رضاکارانہ طور پر مرنے والوں کے قریب وقت گزارا کریں تاکہ کوئی تنہا ئی میں وفات نہ پائے۔سینڈرا کے شروع کیے ہوئے اس پروگرام کے بعد تمام ہسپتال ایسے پروگرام شروع کر چکے ہیں۔