حادثاتی طور پر سکہ نگلنے کے بعد خاتون 12 سال تک کوئی آواز نہ نکال سکیں

Ameen Akbar امین اکبر منگل جولائی 23:44

حادثاتی طور پر سکہ نگلنے کے بعد خاتون  12 سال تک کوئی آواز نہ نکال سکیں
میری میکریاڈی 13  سال کی تھیں، جب اُن کی آواز چلی گئیَ۔ ڈاکٹروں نے  کسی خطرناک وائرس کو اس کی وجہ سمجھا۔ 12 سال بعد میری یہ جان کر حیران رہ گئیں کہ اُن کی آواز چلے جانے کی وجہ ایک سکہ تھا، جو اُنکےگلے میں پھنس گیا تھا، جس کی وجہ سےوہ بول نہیں پاتی تھی۔میری کی یہ کہانی کافی پرانی ہے تاہم  اب میری نے ایک کتاب ”وائس لیس“ لکھی ہے۔ اس  کتاب کے سامنے آنے  کے بعد میری کی کہانی ایک بار پھر سب کی توجہ کا مرکز بن گئی ہے ۔

میری نے اپنی کتاب میں چھوٹی عمر میں آواز چلے جانے اور 12 سال بعد دوبارہ آنے کے تجربے کو  بیان کیا ہے۔
1972 میں ایک دن  13 سالہ میری ، تب میری ہیفرمین، کی آواز اچانک چلی گئی۔ڈاکٹر نے ہر طرح کے ٹسٹ کیے لیکن وہ آواز جانے کی وجوہات کا پتا نہ چلا سکے۔چند دن بعد میری نے سکول جانا شروع کر دیا اور گونگی بن کر  عام زندگی گزارنے لگیں۔

(جاری ہے)

شروع میں  وہ اور اُن کے والدین پریشان تھے کہ وہ کیسے دوسروں سے بات چیت کر سکیں گی۔

جلد ہی میری اور اُن کی دوستوں نے لکھی ہوئی پرچیوں کی مدد سے بات چیت کرنے کا طریقہ نکالا، جس سے انہیں لطف بھی آتا اوراُن کی زندگی بھی آسان ہوگئی۔
میری نے اپنی تعلیم سینٹ اینیز کیتھولک سکول، ڈاپٹو، آسٹریلیا سے حاصل کی۔ اس سکول میں اُن کے ساتھ تعاون تو کیا ہوتا، الٹا انہیں جادوگرنی بھی کہا جانے لگا۔ انہوں نے ایک راہب کو دوسری لڑکیوں سے کہتے سنا کہ میری کی اچانک  آواز جانے کے پیچھے شیطان ہے۔

میری اور اُن کی دوست جادوگرنی قرار دئیے جانےپر استادوں کا مذاق اڑاتے لیکن مسئلہ اس وقت سنجیدہ ہوا جب میری کو دیگر طالبات سے الگ کر دیا گیا، تاکہ وہ دوسروں پر اثر انداز نہ ہوسکیں۔ان سب چیزوں سے دلبراشتہ ہو کر انہوں نے 14 سال کی عمر میں اس  سکول کو  چھوڑ دیا۔
گریجویشن کے بعد انہیں کوئی ملازمت نہیں دے رہا تھا ۔ ایک مہربان شخص نے انہیں  ٹائپنگ کورس کرنے کامشورہ دیا، جس کے بعد انہیں ملازمت بھی مل گئی۔


25 سال کی عمر میں یعنی 1984 میں میری کے ساتھ ایک عجیب واقعہ ہوا۔ انہیں زور کی کھانسی آئی، وہ کھانستے ہوئے باتھ روم گئیں تو اُن کے منہ سے خون نکل آیا۔ وہ ایمبولینس میں ہسپتال پہنچی تو ڈاکٹروں نے اُن کے گلے کا معائنہ کیا۔ معائنے کےبعد ڈاکٹروں نے اُن کے گلے سے خون میں لتھڑا 3 پنس کا سکہ نکال لیا۔ حیرت انگیز طور پر سکہ نکلتے ہیں  میری کی آواز واپس آ گئی۔

ڈاکٹروں نے میری کو منع کیا کہ وہ ایک ہفتے تک نہ بولے لیکن میری اس ہدایت پر عمل نہ کر سکی۔
میری کی کہانی میں بہت سی باتیں کافی پر اسرار ہے۔ جیسے انہیں سکہ نگلنے کا کیسے پتا نہ چلا۔ میری کا کہنا ہے کہ یہ سکہ کسی کین یا بوتل میں ہوگا، جس کی وجہ سے وہ اسے لاعلمی میں نگل گئیں۔ایک اور حیرت انگیز بات یہ  ہے کہ جو سکہ میری نے نگلا وہ 1959 کا تھا۔ یہ سکے کئی سالوں سے زیر گردش نہیں تھے۔