Live Updates

رہبر کمیٹی نے چیئرمین سینیٹ کے لیے متفقہ طور پر میر حاصل خان بزنجو کو نامزد کردیا

ہم میر حاصل بزنجو کو بڑی کامیابی سے چیئرمین سینیٹ بنائیں گے. اکرم خان درانی

Mian Nadeem میاں محمد ندیم جمعرات جولائی 15:32

رہبر کمیٹی نے چیئرمین سینیٹ کے لیے متفقہ طور پر میر حاصل خان بزنجو کو ..
اسلام آباد(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔11 جولائی۔2019ء) حزب اختلاف کی جماعتوں پر مشتمل رہبر کمیٹی نے چیئرمین سینیٹ کے لیے متفقہ طور پر نیشل پارٹی (این پی) کے سربراہ سینیٹر میر حاصل خان بزنجو کو نامزد کردیا ہے. اس بات کا فیصلہ اسلام آباد میں جمعیت علمائے اسلام (ف) کے رہنما اکرم درانی کی سربراہی میں ہونے والے رہبر کمیٹی کے اجلاس میں کیا گیا، جس میں دیگر اپوزیشن جماعتوں کے رہنما شاہد خاقان عباسی، فرحت اللہ بابر، نیر بخاری، عثمان کاکڑ، احسن اقبال اور دیگر شریک ہوئے.

(جاری ہے)

بعد ازاں اکرم درانی نے صحافیوں سے مختصر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سب نے اتفاق رائے سے چیئرمین سینیٹ کے لیے میر حاصل بزنجو کا نام تجویز کیا ہے اور تمام اپوزیشن جماعتیں انہیں ووٹ دیں گی‘انہوں نے کہا کہ امید ہے کہ ہم میر حاصل بزنجو کو بڑی کامیابی سے چیئرمین سینیٹ بنائیں گے. خیال رہے کہ 5 جولائی کو ’رہبر کمیٹی‘ مشترکہ امیدوار کے نام پر اتفاق نہیں کرسکی تھی اور اکرم درانی نے کہا تھا کہ مزید مشاورت کے بعد حتمی نام کا اعلان 11 جولائی کو کیا جائے گا.

اس سے قبل اپوزیشن جماعتوں نے 26 جون کو ہونے والی کثیرالجماعتی کانفرنس میں چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کو ہٹانے کا فیصلہ کیا تھا، اس اقدام کو تحریک انصاف کی اتحادی حکومت پر دباﺅ بڑھانے کے پہلے قدم کے طور پر دیکھا جارہا تھا. اس فیصلے کے بعد اپوزیشن اراکین نے 9 جولائی کو ایوان بالا میں چیئرمین صادق سنجرانی کے خلاف تحریک عدم اعتماد کی قرارداد جمع کروائی تھی اور مطالبہ کیا تھا کہ سینیٹ میں کام کے طریقہ کار کے رولز میں (چیئرمین یا ڈپٹی چیئرمین کو ہٹانے) کے لیے شامل رول 12 کے تحت صادق سنجرانی کو ہٹایا جائے‘تاہم اس قرارداد کے بعد چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی نے کہا تھا کہ وہ رضاکارانہ طور پر اپنے عہدے سے نہیں جائیں گے.

صادق سنجرانی کا کہنا تھا کہ تحریک عدم اعتماد جمہوری حق ہے، مجھے اس جمع کروائی گئی قرارداد پر کوئی تحفظات نہیں ہیں لیکن میں ادھر موجود رہ کر اپنے فرائض انجام دیتا رہوں گا. یہاں یہ بات واضح رہے کہ یہ ملکی تاریخ میں پہلی مرتبہ ہے کہ چیئرمین سینیٹ کو ہٹانے کے لیے ایک قرارداد پیش کی گئی ہے‘خیال رہے کہ موجودہ چیئرمین صادق سنجرانی نے گزشتہ برس 12 مارچ کو پی پی پی اور پاکستان تحریک انصاف کی حمایت سے 57 ووٹ حاصل کیے تھے جبکہ ان کے مدمقابل مسلم لیگ (ن) کے راجا ظفر الحق کو 46 ووٹ ملے تھے.

صادق سنجرانی بلوچستان سے تعلق رکھنے والے پہلے چیئرمین سینیٹ ہیں جبکہ اپوزیشن کی جانب سے نامزد کیے گئے حاصل بزنجو کا تعلق بھی اسی صوبے سے ہے. سینیٹ کی بات کی جائے تو وہاں مسلم لیگ (ن) کے پاس اب بھی اکثریت ہے، حیران کن طور پر مارچ 2018 میں چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کے انتخاب کے لیے (ن) لیگ نے سابق چیئرمین سینیٹ رضا ربانی کو دوبارہ منتخب کرنے کے لیے پی پی پی کو مدد کی پیشکش کی تھی تاہم بعد ازاں انہوں نے تحریک انصاف سے ہاتھ ملا لیا تھا.

ایوان میں چیئرمین سینیٹ کو ہٹانے کے لیے 53 ووٹوں کی اکثریت درکار ہوگی، جس کے لیے اس وقت پی پی پی، مسلم لیگ (ن)، نیشنل پارٹی اور جمعیت علما اسلام ( ف) کے 46 ارکان ہیں جبکہ 29 آزاد امیدوار ہیں. اس کے علاوہ پختونخوا ملی عوامی پارٹی (پی کے میپ) کے 2 اراکین ہیں جبکہ عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی)، بلوچستان عوامی پارٹی (بی اے پی) اور پی ایم ایل فنکشنل کا ایک، ایک رکن ہے. تاہم حکمران جماعت تحریک انصاف کے 14 اراکین، متحدہ قومی موومنٹ کے 5 اور جماعت اسلامی کے 2 سینیٹرز ہیں.
شاہد خاقان عباسی گرفتار سے متعلق تازہ ترین معلومات