زرعی یونیورسٹی فیصل آباد کے نظام کو بہت جلد ای فائلنگ اور ٹریکنگ سسٹم سے منسلک کر دیا جائے گا ،ڈاکٹر محمد اشرف

جمعرات جولائی 18:36

فیصل آ باد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 11 جولائی2019ء) : زرعی یونیورسٹی فیصل آباد میں جلد ہی ای آر پی اور کیمپس مینجمنٹ سسٹم کو متعارف کرواتے ہوئے جملہ معاملات کو ای فائلنگ اور ٹریکنگ سسٹم سے منسلک کر دیا جائے گا جس سے قیمتی وقت اور وسائل بچانے کے ساتھ ساتھ معاملات میں شفافیت اور میرٹ پر عملداری رواج پائے گی۔ اس عزم کا اظہار زرعی یونیورسٹی فیصل آباد کے وائس چانسلرپروفیسرڈاکٹر محمد اشرف(ہلال امتیاز)نے ڈینز و ڈائریکٹرز کے خصوصی اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔

سنڈیکیٹ روم میں اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے ڈاکٹر محمد اشرف نے کہا کہ وہ سینئر مینجمنٹ کی مشاورت سے تمام کلیہ جات اور تدریسی شعبوں کے لئے ترقیاتی اہداف کا تعین کر رہے ہیں اور چاہتے ہیں کہ تمام شعبہ جات ان اہداف کیلئے یکساں طور پر بتدریج پیش رفت کریں۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ وہ اختیارات کی ڈینز کی سطح پر منتقلی کے خواہش مند ہیں اور چاہتے ہیں کہ کلیہ جات کے رئیس ذمہ داری اور انصاف کے ساتھ ان کا استعمال یقینی بنائیں۔

انہوں نے ڈائریکٹوریٹ آف ریسرچ کو ہدایت کی کہ تمام تدریسی سٹاف کو قومی و بین الاقوامی فنڈنگ ایجنسیوں سے تحقیقی منصوبوں کے مواقعوں سے آگہی اور مختلف ٹیکنالوجیز کے پیٹنٹس و حقوق دانش کے حصول میں ان کی رہنمائی کیلئے خصوصی سیشنز کا اہتمام کریں ۔ انہوں نے کہا کہ پاور ہائوس میں باصلاحیت اور ہنر مند افراد پر مشتمل ایک خصوصی سیل قائم کیا جا رہا ہے جو معمولی نوعیت کی مرمت کوفوری طو رپر یقینی بنائے گاجس سے کیمپس میں عرصہ سے توجہ طلب کام جلد پایہ تکمیل کو پہنچیں گے۔

انہوں نے چیف ہا ل وارڈن کو ہدایت کی کہ وارڈن آفس میں بھی معمولی مرمتی کاموں کیلئے خصوصی یونٹ قائم کیا جائے تاکہ خراب ہونے والے جملہ اُمورکا بروقت پائیدار حل نکالا جا سکے۔ انہوں نے اس عزم کااظہار کیاکہ یونیورسٹی کیلئے حکومتی گرانٹ کی کمی کے تناظر میں اپنے وسائل سے آمدنی بڑھانے کی نئی راہیں نکالی جائیں گی اور قومی بین الاقوامی معیار کی تحقیقی و تجزیاتی لیبارٹریوں کیلئے ISOسرٹیفکیٹس اور لائسنس حاصل کئے جائیں گے تاکہ ان کا کمرشل بنیادوں استعمال کیا جا سکے۔

انہوں نے ڈائریکٹر پلاننگ و ڈویلپمنٹ کو ہدایت کی کہ زراعت و لائیوسٹاک میں ویلیو ایڈیشن‘ سیڈ پراسیسنگ یونٹ‘ ڈیجیٹل انوویشن ایگریکلچر‘ ریسرچ مینجمنٹ و اًپ ٹیک کیلئے سائنس دانوں سے کانسیپٹ پیپر لکھوا کر جلدفنڈنگ ایجنسیوں کو بھجوائیں تاکہ ان کی منظوری کیلئے موثر وکالت کی جا سکے۔ انہوں نے پھلوں کی برآمد میں بڑی رکاوٹ فروٹ فلائی اور وائٹ فلائی کے موثر خاتمے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ پلانٹ پتھالوجی اور انٹومالوجی کے ماہرین اس کیلئے مشترکہ طو رپر کام کریں۔

ڈاکٹر محمد اشرف نے کہا کہ موجودہ حکومت خوردنی تیل کی درآمد میں کمی کیلئے زرعی ماہرین کی طرف دیکھ رہی ہے لہٰذا ہمیں خوردنی تیل کے حوالے سے ضروریات مقامی سطح پر پوری کرنے کیلئے آگے بڑھ کر ایسی حکمت عملی متعارف کروانا ہوگی جس پر عمل سے درآمدی بل میں کمی لائی جا سکے۔ ہمسایہ ملک چین کی مثال دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ چین کے صحرائی و بارانی علاقوں میں بارشی پانی سے مکئی کی کاشت کامیابی سے جاری ہے لہٰذا ہمیں بھی ان کے تجربات سے فائدہ اٹھا کر بارانی علاقوں میں زیرکاشت رقبہ سے آمدنی بڑھانے کی راہ نکالنی چاہئے۔