وزیر اعظم عمران خان کے خلاف پروپیگنڈا کرنے کے مراکز بھارت اور اسرائیل میں ہیں،

وزارت تعلیم کے ساتھ مدارس کی رجسٹریشن کے حوالے سے کام تیزی سے جاری ہے، حکومت حجاج کرام کو مجموعی طور پر 5 ارب روپے واپس کر رہی ہے، امت مسلمہ کو متحد کرنے میں پاکستان اور سعودی عرب اہم کردار ادا کرسکتے ہیں وفاقی وزیر مذہبی امور پیر نور الحق قادری کا پاکستان علماء کونسل کے زیر اہتمام ’’وحدت امت کانفرنس‘‘ سے خطاب

جمعرات جولائی 20:08

وزیر اعظم عمران خان کے خلاف پروپیگنڈا کرنے کے مراکز بھارت اور اسرائیل ..
اسلام آباد ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 11 جولائی2019ء) وفاقی وزیر مذہبی امور پیر نور الحق قادری نے کہا ہے کہ وزیر اعظم عمران خان کے خلاف پروپیگنڈا کرنے کے مراکز بھارت اور اسرائیل میں ہیں، وزارت تعلیم کے ساتھ مدارس کی رجسٹریشن کے حوالے سے کام تیزی سے جاری ہے، جن لوگوں نے ملکی دولت لوٹی وہ ان سے واپس لائی جائے گی، حکومت حجاج کرام کو مجموعی طور پر 5 ارب روپے واپس کر رہی ہے جس میں فی کس 25 سے 65 ہزار روپے دیئے جائیں گے، امت مسلمہ کو متحد کرنے میں پاکستان اور سعودی عرب اہم کردار ادا کرسکتے ہیں۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعرات کو پاکستان علماء کونسل کے زیر اہتمام ’’وحدت امت کانفرنس‘‘ سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں متحد ہونے کے لئے اس طرح کی کانفرنسوں کی ضرورت ہے، مولانا طاہر اشرفی کو ہمیشہ یہ اعزاز حاصل ہوتا ہے کہ وہ تمام مسالک کے لوگوں کو اکٹھا کر کے بنیادی اختلاف اور اس کے حل کی بھرپور کوشش کرتے ہیں۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ ہمیں آپس کے اختلافات دور کرنا ہوں گے اور حائل رکاوٹیں دورکرنا ہوں گی کیونکہ امت مسملہ کے چیلنجز اور مشکلات میں ہر روز اضافہ ہو رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان نے جب او آئی سی کی کانفرنس سے خطاب کیا تو ان کے مرکزی نکات میں اتحاد امت اور ناموس رسالت شامل تھے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے لئے فخر کی بات ہے کہ اللہ نے ہمیں عمران خان جیسا حکمران دیا ہے جو ریاست مدینہ کی بات کرتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ آج وزیر اعظم عمران خان کے خلاف پروپیگنڈے ہو رہے ہیں جن کے مراکز اسرائیل اور بھارت میں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ روڈ ٹو مکہ ہمارے حجاج کے لئے ایک عظیم منصوبہ ہے، رواں سال اسلام آباد ایئر پورٹ سے 25 ہزار افراد کو اس منصوبہ کے تحت بھیجا جائے گا۔ آئندہ برس اس کو ملک کے دیگر ایئر پورٹس تک وسیع کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ شاہ فیصل کے دور حکومت کے بعد اب موجودہ دور میں سعودی عرب کے ساتھ روابط مضبوط سے مضبوط تر ہوتے جارہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ حکومت حجاج کرام کو مجموعی طور پر 5 ارب روپے واپس کر رہی جس میں فی کس کے تناسب سے 25 سے 65 ہزار روپے سعودی عرب روانہ ہونے سے قبل واپس کئے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور سعودی عرب امت مسلمہ کے اہم ممالک ہیں جو ملکر درپیش مسائل حل کرسکتے ہیں۔ اس موقع پر علامہ محمد طاہر اشرفی نے کانفرنس کا اعلامیہ جاری کرتے ہوئے کہا کہ آج امت مسلمہ کی وحدت اور اتحاد کی ضرورت ہے، پاکستانی حجاج کرام سیاسی و مذہبی نعروں سے گریز کریں، روڈ ٹو مکہ المکرمہ پروگرام پاک سعودی عرب دوستی کا عظیم ثبوت ہے۔

انہوں نے کہا کہ فلسطینی شہداء کی ایک ہزار فیملیز کی ضیافت سعودی عرب کی مسئلہ فلسطین سے محبت کا اظہار ہے، امت مسلمہ کے اتحاد اور وحدت کیلئے پاکستان اور سعودی عرب کے علماء اور حکومت کی کوششیں قابل تحسین ہیں، مدارس و مساجد کی مشکلا ت کے حل کیلئے ہر سطح پر کوششیں کی جا رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آئین میںموجود اسلامی دفعات کی پوری قوم محافظ ہے اور آئین میں موجود اسلامی دفعات میں تبدیلی یا خاتمے کا تصور بھی گناہ سمجھتے ہیں۔

کانفرنس میں قائم مقام فلسطینی سفیر، سعودی سفارتخانہ کے نمائندے، پیر نقیب الرحمن، پروفیسر ذاکر الرحمن صدیقی، مولانا پیر اسد اللہ فاروق، مولانا قاضی مطیع اللہ سعیدی، مولانا ابو بکر صابری، مولانا اسید الرحمن سعید، مولانا محمد اشفاق پتافی، مولانا نعمان حاشر، مولانا طاہر عقیل اعوان، مولانا مفتی حفیظ الرحمن، مولانا شہباز احمد، مولانا قاسم قاسمی، مولانا الیاس مسلم اور دیگر نے بھی خطاب کیا۔