معاشی چیلنجز کا سامنا ہے ، ایک سال بعد نمایاں بہتری آئیگی، گورنر اسٹیٹ بینک

کرنٹ اکائونٹ خسارہ اور قرضوں اور بجٹ خسارے میں اضافہ چیلنجز ہیں ،ہمیں مستقبل کیلئے پرامید رہنا چاہیے، ٹیکس چوری کرنے والوں کو ٹیکس نیٹ میں لانا ہوگا، رضا باقر

جمعرات جولائی 20:56

معاشی چیلنجز کا سامنا ہے ، ایک سال بعد نمایاں بہتری آئیگی، گورنر اسٹیٹ ..
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 11 جولائی2019ء) گورنر اسٹیٹ بینک رضا باقر نے کہا ہے کہ پاکستان کو معاشی چیلنجز کا سامنا ہے لیکن صورتحال بہتر ہورہی ہے اور ایک سال بعد حالات میں نمایاں بہتری آئے گی، کرنٹ اکائونٹ خسارہ اور قرضوں اور بجٹ خسارے میں اضافہ چیلنجز ہیں ،ہمیں مستقبل کیلئے پرامید رہنا چاہیے، ٹیکس چوری کرنے والوں کو ٹیکس نیٹ میں لانا ہوگا۔

جمعرات کو یہاں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے رضا باقر نے کہا کہ پاکستان کی معیشت کو 2 چیلنجز درپیش ہیں، کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ تاریخی بلند سطح یعنی ماہانہ 2 ارب ڈالر تک پہنچ گیا تھا، کچھ سال قبل ماہانہ کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ زیرو تھا، دوسرا بڑا چیلنج مالیاتی خسارہ ہے، قرضوں اور بجٹ خسارے میں نمایاں اضافہ ہوا، ان دونوں مسائل کو حل کیا جارہا ہے۔

(جاری ہے)

گورنر اسٹیٹ بینک نے کہا کہ کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ کم ہوکرماہانہ ایک ارب ڈالر پر آگیا ہے، نئے بجٹ میں مالیاتی خسارے میں کمی کیلئے اقدامات کیے گئے، وزیراعظم نے کفایت شعاری کی پالیسی اختیار کی، ہمیں مستقبل کیلئے پرامید رہنا چاہیے، صورتحال میں بہتری آئی ہے۔رضا باقر نے کہا کہ پاکستان کو معاشی چیلنجز کا سامنا ہے لیکن صورتحال بہتر ہورہی ہے اور ایک سال بعد حالات میں نمایاں بہتری آئے گی۔

رضا باقر نے کہا کہ ہمیں برآمد کنندگان کی حوصلہ افزائی کرنی ہے، ایکسچینج ریٹ سے برآمد کنندگان کو فائدہ ہوا تاہم یہ مستقل حل نہیں، جو لوگ ٹیکس نیٹ سے باہر ہیں ان سے مدد کی ضرورت ہے، ٹیکس چوری کرنے والوں کو ٹیکس نیٹ میں لانا ہوگا، پاکستان کی معاشی آؤٹ لک مثبت ہے، ہماری سمت درست ہے، منصفانہ ٹیکس سسٹم پر کام ہورہا ہے، ہمیں مل کر سخت محنت کرنی ہے۔