(ن) لیگ نے قائمہ کمیٹیوں کے اجلاسوں کا بائیکاٹ کر دیا ، پی اے سی ٹو کے اجلاس سے احتجاجاً واک آئوٹ ،

کورم کی نشاندہی بھی کر دی حمزہ شہباز کو پی اے سی کا چیئر مین ،بطور ممبر دیگر قائمہ کمیٹیوں میں شامل کرنے ،پروڈکشن آڈر جاری ہونے تک بائیکاٹ کریں گے آئین و قانون کے مطابق پہلے پی اے سی ون کی تشکیل ہونی تھی مگر حکومت اپنے وعدے سے منحرف ہوگئی،مطالبات پورے ہونے تک بائیکاٹ کرینگے پروڈکشن آرڈر کے حوالے سے وزیراعظم سپیکر کو ڈکٹیشن نہیں دے سکتے ‘ عظمیٰ بخاری، مجتبیٰ شجاع الرحمان اور عطاء اللہ تارڑ کی گفتگو

جمعرات جولائی 21:14

(ن) لیگ نے قائمہ کمیٹیوں کے اجلاسوں کا بائیکاٹ کر دیا ، پی اے سی ٹو کے ..
لاہور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 11 جولائی2019ء) مسلم لیگ (ن) نے حمزہ شہباز کو پبلک اکائونٹس کمیٹی کا چیئر مین اوربطور ممبر دیگر قائمہ کمیٹیوں میں شامل نہ کرنے اور گرفتار اراکین اسمبلی کے پروڈکشن آڈر جاری ہونے تک قائمہ کمیٹیوں کے اجلاسوں کے بائیکاٹ کا اعلان کر دیا ،اپوزیشن نے گزشتہ روز پی اے سی ٹو کے اجلاس سے احتجاجاًوا ک آئوٹ کیا اور کورم کی نشاندہی کر دی جس کے بعد اجلاس آج ( جمعہ) تک ملتوی کر دیا گیا ۔

پنجاب اسمبلی کی پبلک اکائونٹس کمیٹی ٹو کا اجلاس سید یاور عباس بخاری کی زیر صدارت منعقد ہوا ۔ مسلم لیگ (ن) کے اراکین نے اجلاس کا بائیکاٹ کرتے ہوئے کورم کی نشاندہی بھی کر دی جس کے بعد اجلاس ملتوی کر دیا گیا ۔ مسلم لیگ (ن) نے موقف اپنایا کہ جب تک حمزہ شہبازکو پی اے سی ٹو کا چیئرمین اور دیگر قائمہ کمیٹیوں میں شامل نہیں کیا جاتا اور گرفتار اراکین کے پروڈکشن آڈر جاری نہیں کئے جاتے اس وقت تک قائمہ کمیٹیوں کے اجلاسوں میں شرکت نہیں کریں گے۔

(جاری ہے)

پنجاب کی سیکرٹری اطلاعات و رکن اسمبلی عظمیٰ بخاری نے کہا کہ ارکان اسمبلی کے جو آئینی و قانونی حق ہیں ان کو سلب کرنے کی کوششیں کی جارہی ہیںجو حکومت کی پارلیمانی امور کے حوالے سے کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے۔ابھی تک پنجاب اسمبلی کی قائمہ کمیٹیوں کی تشکیل مکمل نہیں ہوسکی اورصرف چند کمیٹیاں بنائی گئی ہیں۔آئین و قانون کے مطابق پہلے پی اے سی ون کی تشکیل ہونی تھی مگر حکومت اپنے وعدے سے منحرف ہوگئی۔

عظمی بخاریعبد العلیم خان کے تو پروڈکشن آرڈر جاری ہوتے رہے مگر اب قائد حزب اختلاف حمزہ شہباز شریف کے پروڈکشن آرڈر جاری نہیں کیے جارہے۔پروڈکشن آرڈر کے حوالے سے وزیراعظم کا بیان صوبائی خودمختاری پر حملے کے برابر ہے۔وزیراعظم کے پاس کوئی اختیار نہیں ہے کہ سپیکر پنجاب اسمبلی کو پروڈکشن آرڈر کے حوالے سے ڈکٹیشن دے سکیں۔انہوں نے کہا کہ پہلے پنجاب حکومت کو ریموٹ کنٹرول کے ذریعے چلایا جارہا تھا اور اب پنجاب اسمبلی کو چلانے کی کوششیں کی جارہی ہیں۔

اگر آئین و قانون کے مطابق ہائوس کو چلایا جائے تو ساتھ دیں گے وگرنہ اس غیر قانونی کام کا حصہ نہیں بنیں گے۔انہوں نے کہا کہ یہ عجیب منطق ہے کہ جس پر کرپشن کے الزامات ہوں گے ان کے پروڈکشن آرڈر جاری نہیں کیے جائیں گے۔لیکن جن پر کرپشن کے الزامات ہیں وہ وزیراعظم اور وفاقی کابینہ میں بھی شامل ہوسکتے ہیں،وہ صوبائی کابینہ میں دیگر بڑے بڑے عہدوں پر براجمان ہوسکتے ہیںان کے لیے کوئی قانون نہیں ہے۔

اس وقت صرف اپوزیشن ممبران کا احتساب کیا جارہا ہے اوراس کے پول کھل کر سامنے آرہے ہیںکہ کس طریقے سے انہیںسیاسی انتقام کا نشانہ بنایا جارہاہے۔عظمیٰ بخاری نے کہا کہ جس کو عدالت نے نااہل کہا وہ ڈی فیکٹو پرائم منسٹر بنا ہواہے، جو بوریا بھر بھر کر لوگوں کو رشوت دے رہا ہے، وہ کس قانون کے تحت ایسا کررہا ہے۔اگر عمران خان اشتہاری ہوکر، نیب میں انکوائریاں ہونے کے باوجود وزیراعظم ہوسکتے ہیں تو اپوزیشن ارکان کے پروڈکشن آرڈر جاری کیوں نہیں ہوسکتے۔

مجتبیٰ شجاع الرحمان نے کہا کہ گرفتار ارکان اسمبلی کے پروڈکشن آرڈر جاری کرنا ان کاآئینی وقانونی حق ہے۔ایسا تو آمریت کے دور میں بھی نہیں ہوتا تھا جو اب سویلین مارشل لا ء کی کیفیت بنی ہوئی ہے۔انہوں نے کہا کہ پہلے قومی اسمبلی کے ممبران کے پروڈکشن آرڈر روکے گئے اب یہ سلسلہ صوبائی اسمبلی تک پہنچ چکا ہے۔عمران خان کو غیر جمہوری طریقے اور الیکشن چوری کرکے اس ملک کا وزیراعظم بنایا گیا۔

وہ قومی اسمبلی اور صوبائی اسمبلیوں کے معاملات میں کھلم کھلا مداخلت کررہے ہیں جس کی پرزور مذمت کرتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ہم نے وزیرقانون اور سپیکر پنجاب اسمبلی کی یقین دہانی پرپنجاب اسمبلی کی قائمہ کمیٹیوں کی تشکیل میں حصہ لیا۔مگر حکومت اپنے وعدوں سے مکر گئی۔ اپوزیشن نے فیصلہ کیا ہے کہ حکومتی وعدوں کی تکمیل تک کسی بھی قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں شریک نہیں ہوں گے۔

عطاء اللہ تارڑ نے کہا کہ وزیراعظم کے حکم پر جو نیب گردی کی جارہی ہے اس میں نیب نیازی گٹھ جوڑ کھل کر سامنے آگیا ہے۔شہزاد اکبر نیب کے ترجمان بنے ہوئے ہیں اور باقاعدہ طور پر اس حوالے سے بیان جاری کرتے ہیں۔نیب نے حکومتی و اپوزیشن ارکان کے لیے الگ الگ قانون بنائے ہوئے ہیںجس کا واضح ثبوت سب سے کم مدت کا جسمانی ریمانڈ سبطین خان کا 18دنوں کا ہے۔

نیب سبطین خان کا کیس اس طریقے سے چلاہی نہیں رہی جس طریقے سے چلانا چاہیے۔آنے والے دنوں میں سبطین خان کی ضمانت بآسانی ہوجائے گی کیونکہ نیب پراسیکیوشن کمزور کیس عدالت میں پیش کرے گی۔یہی حال عبد العلیم خان کیس میں کیا گیا کہ سب سے کم جسمانی ریمانڈ اور اس کے بعد بہت جلد ضمانت مل گئی۔حکومتی ارکان کے پروڈکشن آرڈر بھی جاری ہوتے ہیں اور انہیں نیب سے ریلیو بھی ملتا ہے۔یہ جو ڈرامہ چل رہا ہے یہ کھل کر عوام کے سامنے آچکا ہے،اس ڈرامے کے ذریعے لوگوں کو مزید بے وقوف نہیں بنایا جاسکتا۔