جامعہ کراچی،یونیورسٹی آف کراچی المنائی ایسوسی ایشن واشنگٹن ڈی سی بالٹی مورایریا کی جانب سے لگائے جانے والے سولر پائورسسٹم کا افتتاح

جمعرات جولائی 22:00

کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 11 جولائی2019ء) جامعہ کراچی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر خالد محمود عراقی نے کہا کہ پاکستان میں انرجی کی نہ صرف کمی ہے بلکہ کافی مہنگی ہے ایسے میں سولرانرجی سے استفادہ کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔عصر حاضر کے جدید دور میں توانائی کی عدم موجودگی میں ترقی کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا،توانائی معیشت کی ترقی کی اہم کنجی ہے۔

جرمنی میں پاکستان کے مقابلے میں سورج بہت کم نکلتاہے لیکن اس کے باوجودوہ سولرانرجی سے پورافائدہ اٹھارہے ہیں وہاں ہر چھت پر سولر پینلز ہوتے ہیں،پاکستان میں تقریباً پورے سال سورج کی روشنی رہتی ہے،لہذا ہمیں اس سے بھرپور استفادہ کرنے کی ضرورت ہے۔جامعہ کراچی ماہانہ تقریباً تین کروڑ روپے بجلی کے بل کی مد میں اداکرتی ہے،اگر تمام شعبہ جات سولر انرجی سسٹم پر چلے جائیں توبجلی کی مد میںاداکی جانے والی رقم طلبہ کومزید بہتر سے بہتر سہولیات اور اسکالر شپ فراہم کرنے کے لئے استعمال کیا جاسکتاہے۔

(جاری ہے)

اس حوالے سے بہت جلد ایک کمیٹی تشکیل دی جائے گی جس کی سربراہی میں خود کرونگا تاکہ ایک پروگرام تشکیل دیا جاسکے اور پھر رفتہ رفتہ تمام شعبہ جات کو سولر انرجی سسٹم پر لانے کی کوشش کریں گے۔ان خیالات کا اظہارانہوں نے جامعہ کراچی کے شعبہ اپلائیڈ کیمسٹری اینڈ کیمیکل ٹیکنالوجی میں یونیورسٹی آف کراچی المنائی ایسوسی ایشن واشنگٹن ڈی سی بالٹی مورایریا کی جانب سے لگائے جانے والے سولر پائورسسٹم کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

ڈاکٹر خالد عراقی نے مزید کہا کہ اکثر یہ ہوتاہے کہ پروجیکٹ کا افتتاح کرنے کے بعد پروجیکٹ کی تکمیل ایک صبر آزما مرحلہ ہوتاہے لیکن مجھے اس بات کی بے حدخوشی ہے کہ مذکورہ پروجیکٹ مکمل ہونے کے بعد اس کا افتتاح کیا جارہاہے۔ یونیورسٹی آف کراچی المنائی ایسوسی ایشن واشنگٹن ڈی سی بالٹی مورایریا کے چیئر مین طارق حسن نے کہا کہ پورے ملک میں انرجی کی قلت ہے جس سے جامعات بھی متاثر ہورہی ہیں،جامعہ کراچی میں اس وقت تقریباً53 شعبہ جات ہیں اور ہماری کوشش ہوگی کہ ہرسال کم از کم دو شعبہ جات کو سولر انرجی سسٹم پر منتقل کیا جائے لیکن یہ اسی صورت ممکن ہے جب ہماری المنائی کو جامعہ کراچی کی جانب سے ان کی ضروریات کے بارے میں آگاہ کیا جائے ۔

مذکورہ پروجیکٹ کے تحت زیادہ فنڈ ز کی دستیابی کی صورت میں شعبہ جات کی سولر سسٹم پر منتقل کرنے کی تعداد میں اضافہ ممکن ہے۔المنائی اس ملک کی قرض دار ہے اور اس قرض کواتارنا ہماری ذمہ داری ہے۔ہماری المنائی جامعہ کراچی کے طلبہ کو اسکالر شپ فراہم کرتی ہے اور اس سال ہم نے جامعہ کراچی کے مختلف شعبہ جات کے طلباوطالبات کو تقریباً پانچ سواسکالر شپ فراہم کی ہیں۔اس موقع پر شعبہ اپلائیڈ کیمسٹری اینڈ کیمیکل ٹیکنالوجی کے ڈاکٹر ریاض نے مذکورہ پروجیکٹ کے حصول اور تکمیل کے حوالے سے تفصیلی روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ مذکورہ پروجیکٹ کی تکمیل کے بعد تمام کلاس رومز ،سیمینار لائبریری اور تجربہ گاہوں کی بجلی اب سولر پینل سے حاصل کی جارہی ہے۔