لیاقت میڈیکل یونیورسٹی ہسپتال کے ترجمان کی ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن کی طرف سے سول اسپتال کے حوالے سے لگائے جانے والے الزامات کی وضاحت

جمعرات جولائی 23:34

حیدرآباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 11 جولائی2019ء) لیاقت میڈیکل یونیورسٹی ہسپتال کے ترجمان نے ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن کی پریس کانفرنس میں سول اسپتال کے حوالے سے لگائے جانے والے الزامات کی وضاحت کرتے ہوئے کہا ہے کہ پوسٹ گریجویٹ طلباء کے تمام معاملات اسپتال کے بجائے یونیورسٹی سے وابستہ ہیں سول اسپتال حیدرآباد میں موجود طبی سہولیات کسی سے پوشیدہ نہیں بہتر سہولیات ہی کی وجہ سے اس اسپتال میں نہ صرف حیدرآباد بلکہ سندھ کے 18اضلاع سے مریض علاج کیلئے آرہے ہیں اور روز بروز مریضوں کی تعداد میں اضافہ ہورہا ہے۔

2سال قبل اسپتال کی او پی ڈی میں چار ہزار مریض روزانہ آتے تھے لیکن اب یہ تعداد بڑھ کر 11ہزار تک پہنچ گئی ہے 2 سال قبل روزانہ 70سے 80 آپریشن کئے جاتے تھے تو بڑھ کر 300سے زیادہ ہوگئے پورے سندھ کے اسپتالوںمیں کتے کے کاٹے کا انجکشن ناپید ہے جبکہ سول اسپتال سندھ بھر کے مریضوں کو روزانہ کی بنیاد پر اے آر وی کے انجکشن فراہم کررہا ہے اور روزانہ ایک سو سے زائد مریضوں کو یہ انجکشن مفت لگائے جاتے ہیں۔

(جاری ہے)

ڈائیلاسز کی سہولیات بھی روزانہ 20سے بڑھ کر ایک سو سے زائد مریضوں کو دی جارہی ہیں ترجمان نے کہاکہ یہ سندھ کا واحد اسپتال ہے جہاں روزانہ سینکڑوں مریض سی ٹی اسکین، ایم آر آئی سمیت دیگر پتھالوجی ٹیسٹوں سے مفت استفادہ حاصل کررہے ہیں۔ ان تمام سہولیات کے باوجود افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ ڈاکٹر جن کی ذمہ مریضوں کی خدمت کرنا ہے وہی نوجوان ڈاکٹر ائیرکنڈیشن روم کا مطالبہ کررہے ہیں جبکہ حکومت کے قانون کے مطابق 19سے 20 گریڈ کے افسر کو آفس میں ائیرکنڈیشن کی سہولت دی جاسکتی ہے سول اسپتال حیدرآباد میں سینکڑوں کی تعداد میں اسٹریچر موجود ہیں جن کے ذریعے مریضوں کو مختلف وارڈوں میں منتقل کرنے کے علاوہ پتھالوجی ٹیسٹوں کیلئے لایا اور لے جایا جاتا ہے لیکن اگر انسانی خدمت اور نیک نیتی سے سیلانی ویلفیئر کے رضا بھی یہ خدمت انجام دے رہے ہیں تو پھر ہم انہیں منع نہیں کرسکتے۔

متعلقہ عنوان :