راولپنڈی ، پاکستان کی تمام ماڈل کورٹس کی تین ماہ کی کارکردگی رپورٹ جاری

عدالتوں نے قتل کے 2742 اور منشیات کے 4129 یعنی کل 6871 مقدمات کے فیصلے کیے، 30907 گواہان کے بیانات بھی قلمبند کیے پنجاب کی 36 عدالتوں نے 872 قتل، اور 1814 منشیات، خیبر پختونخواہ کی 27 عدالتوں نے 818 قتل اور 1283منشیات، سندھ کی 27 عدالتوں نے 694 قتل اور 614 منشیات، بلوچستان کی 24 عدالتوں نے 260 قتل اور 256 منشیات جبکہ اسلام آباد کی دو عدالتوں نے 98 قتل اور 162 منشیات کے مقدمات کا فیصلہ سنایا

جمعہ جولائی 00:04

راولپنڈی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - آن لائن۔ 11 جولائی2019ء) ڈائریکٹر جنرل ماڈل کورٹس پاکستان سہیل ناصر نے پاکستان کی تمام ماڈل کورٹس کی تین ماہ کی کارکردگی رپورٹ جاری کر دی۔چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس آصف سعید خان کھوسہ، Senior Puisne Judge جسٹس گلزار احمد اور چیف جسٹسز صوبائی و اسلام آباد ہائیکورٹس کی مشاورت سے یکم اپریل 2019 کو پاکستان بھر میں 116ماڈل کورٹس کا قیام عمل میں لایا گیا اور ان عدالتوں کو قتل اور منشیات کے مقدمات کی روزانہ کی بنیاد پر سماعت کرنے کی ذمہ داری سونپی گئی۔

یکم اپریل 2019سے تیس جون 2019 تک ان عدالتوں نے عملی طور پر 71روز کام کیا۔اس قلیل مدت میں پاکستان کی ان عدالتوں نے تاریخی کامیابیاں حاصل کیں۔اس دوران ان عدالتوں نے قتل کے 2742 اور منشیات کے 4129 یعنی کل 6871 مقدمات کے فیصلے کیے۔

(جاری ہے)

ان عدالتوں نے 30907 گواہان کے بیانات بھی قلمبند کیے۔ پنجاب کی 36 عدالتوں نے 872 قتل، اور 1814 منشیات، خیبر پختونخواہ کی 27 عدالتوں نے 818 قتل اور 1283منشیات سندھ کی 27 عدالتوں نے 694 قتل اور 614 منشیات بلوچستان کی 24 عدالتوں نے 260 قتل اور 256 منشیات جبکہ اسلام آباد کی دو عدالتوں نے 98 قتل اور 162 منشیات کے مقدمات کا فیصلہ سنایا اس طرح پنجاب میں کل 2686، خیبر پختونخواہ میں 2101 سندھ میں 1308 بلوچستان میں 516 اور اسلام آباد میں 260 مقدمات کے فیصلے کیے گئے۔

اس دوران بلوچستان کے اضلاع مستونگ، نوشکی، تربت، چاغی، ڈیرہ بگٹی، بارکھان، ہرنائی، قلات، کوہلو، زیارت، پنجگور، جبکہ خیبر پختونخواہ کے اضلاع کولائی پلاس، ہری پور، کوہستان لوئر اور پنجاب کے ضلع جہلم میں قتل اور منشیات کے تمام مقدما ت کا فیصلہ کر دیا گیا اور وھاں پر اس قسم کا کوئی دیگر مقدمہ زیر سماعت نہ رہا۔مقدمات کی تیز ترین سماعت کی وجہ سے بلوچستان کے چھ، خیبر پختونخواہ کے تین اور پنجاب کے ضلع لودھراں میں بقیہ مقدمات کی تعداد 10 سے کم ہو کر رہ گئی ہے۔

ان تاریخی کامیابیوں میں ماڈل کورٹس کے تمام ججز کا مثالی جزبہ دیکھنے میں آیا جنہوں نے دن رات کام کرتے ہوئے ان نتائج کو یقینی بنایاچیف جسٹس آف پاکستان نے تمام ججز کی اس کارکردگی پر انتہائی اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے ان کو خراج تحسین پیش کیا ہے۔سندھ میں نوید احمد سومرو ایڈیشنل سیشن جج ملیر اور غلام قادر تونیو ایڈیشنل سیشن جج کمبر شہداد کوٹ پنجاب میں راجہ محمد اجمل ایڈیشنل سیشن جج میانوالی واجد منہاس ایڈیشنل سیشن جج قصور بلوچستان میں ظفراللہ بزئی ایڈیشنل سیشن جج کوئٹہ اسداللہ کاکڑ ایڈیشنل سیشن جج ڈیرہ مراد جمالی، کے پی کے میں ارباب سہیل حامد ایڈیشنل سیشن جج چارسدہ اور نادیہ سید ایڈیشنل سیشن جج مردان جبکہ اسلام آباد میں ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج سہیل ناصر نے تعداد کے لحاظ سے سب سے زیادہ قتل اور منشیات کے مقدمات کے فیصلے کیے ماڈل کورٹس میں پرانے مقدمات کی ترجیحی بنیادوں پر سماعت کی وجہ سے یہ نتائج ممکن ہو سکے۔

سال 1976 سے لیکر 1989 تک کے 13 مقدمات، 1990 سے 1995 تک کے 13مقدمات 1996 سے 2000 تک کے 38 مقدمات 2001 سے 2005 تک کے 72 مقدمات 2006 سے 2010 تک کے 298 مقدمات 2011 سے 2015 تک کے 1827 مقدمات جبکہ 2016 سے 2019 تک کے 4610 مقدمات کا فیصلہ کیا گیا۔ تقابلی جائزے کے مطابق یہ تمام مقدمات سابقہ عدالتوں میں سال ہا سال سے زیرِ التواء تھے مگر جونہی انکو ماڈل کورٹس میں منتقل کیا گیا ان مقدمات میں کاروائی مکمل کر کے چند ہی دنوں کے اندر ان کے فیصلے سنا دیے گئے۔

اس دوران 231 مجرمان کو سزائے موت 652 مجرمان کو عمر قید کی سزا کا حکم دیا گیا جبکہ 1635 مجرمان کو کل 5343 سال 3 ماہ اور 16 دن کی سزائیں دی گئیں اور تمام مجرمان کو کل 32کروڑ 53 لاکھ، 99 ہزار 305 روپے جرمانہ بھی عائد کیا گیاماڈل کورٹس کی تاریخی کامیابیوں میں وکلاء پولیس پراسیکیوشن اور محکمہ صحت کا مثالی تعاون دیکھنے میں آیا۔عوام الناس اور دیگر شعبہ ہائے زندگی نے ماڈل کورٹس کے مقدمات کی تیز ترین سماعت پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے اس یقین کا اعادہ کیا ہے کہ آنے والے دنوں میں پاکستان کے اندر انصاف کی سست فراہمی کی شکایات کا سدباب کر دیا جائیگا۔

یہاں اس امر کا ذکر ضروری ہے کہ 116 ماڈل کورٹس کی کامیابیوں کو دیکھتے ہوئے 24 جون 2019سے 57 نئی ماڈل کورٹس نے کام کا آغاز کر دیا تھا اور ان عدالتوں میں بھی قتل اور منشیات کے مقدما ت کی تیز ترین سماعت اور فیصلے جاری ہیںعدالتوں کے اندر پیش ہونے والے سائلین اور انکے وکلاء کے مسائل اور مطالبات کو مدِ نظر رکھتے ہوئے چیف جسٹس آف پاکستان، Senior Puisne Judge سپریم کورٹ اور چیف جسٹسز صوبائی و اسلام آباد ہائیکورٹس نے پورے پاکستان میں دیوانی، کرایہ داری اور فیملی اپیلوں کی سماعت کیلئے 96 نئی ماڈل کورٹس قائم کر دی ہیں جنکے سربراہان ڈسٹرکٹ یا ایڈیشنل ڈسٹرکٹ ججز ہونگے۔

اسی طرح نچلی سطح پر 110 ماڈل مجسٹریٹ کورٹس کے بھی قیام کی منظوری دی گئی ہے اور وہاں پر بھی فوجداری مقدمات کی روزانہ کی بنیاد پر سماعت کرتے ہوئے انکے فیصلے کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ نئی قائم شدہ سول ایپلٹ ماڈل کورٹس اور ماڈل ٹرائل مجسٹریٹ کورٹس مورخہ 15جولائی 2019 سے تمام پاکستان میں اپنے کام کا آغاز کرنے جارہی ہیں۔