بی جے پی کے ہندو ممبر پارلیمنٹ کی بیٹی نے نچلی ذات کے ہندو سے بیاہ رچا لیا

باپ نے بیٹی اور اُس کے خاوند کو مارنے کی خاطر کرائے کے قاتل بھیج دیئے

Muhammad Irfan محمد عرفان جمعہ جولائی 11:55

بی جے پی کے ہندو ممبر پارلیمنٹ کی بیٹی نے نچلی ذات کے ہندو سے بیاہ رچا ..
بریلی(اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔ 12جولائی 2019ء ) بھارت میں برسراقتدار جماعت بی جے پی کے ایک رُکن پارلیمنٹ کی بیٹی نے نچلی ذات کے ہندوسے بیاہ کیا رچا لیا۔ اُونچی ذات کے ہندوؤں کی جانب سے ہنگامہ کھڑا کر دیا گیا ہے۔ یہاں تک کہ بااثر ممبر پارلیمنٹ راجیش مِشرا بھی اپنی بیٹی اور اُس کے خاوند کی جان کے درپے ہو گیا ہے اور اپنی بیٹی کے دلِت ہندو سے شادی کرنے پر اُسے اور اُس کے خاوند کو قتل کرنے کے لیے کرائے کے قاتل اُن کے پیچھے لگا دیئے ہیں۔

جن سے اپنی جان بچانے کی خاطر دونوں میاں بیوی چھُپتے پھر رہے ہیں۔ یہ معاملہ اس وقت سامنے آیا جب ممبر پارلیمنٹ کی بیٹی ساکشی کی جانب سے دو ویڈیوز سوشل میڈیا پر ریلیز ہوئیں جن میں 23 سالہ ساکشی اور اُس کا نچلی ذات سے تعلق رکھنے والا 29 سالہ خاوند اجیتیش کُمار عرف ابھے مقامی پولیس چیف مُنی راج سے اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں سے درخواست کرتے دکھائی دے رہے ہیں کہ اُنہیں اپنی مرضی کی شادی کرنے پر جان کا شدید خطرہ ہے۔

(جاری ہے)

اس لیے اُنہیں پولیس سیکیورٹی فراہم کی جائے۔ کیونکہ ساکشی کے بااختیار والد نے بیٹی اور اُس کے خاوند کو قتل کرانے کے لیے غنڈوں کی خدمات حاصل کر لی ہیں۔ ساکشی نے بریلی کے سینیئر سُپرنٹنڈنٹ مُنی راج سے کہا ہے کہ اُس کا والد، بھائی اور دیگر افراد ذات پات کے مسئلے پر شدید مشتعل ہوئے بیٹھے ہیں۔ اس لیے اس نوبیاہتا جوڑے کو تحفظ فراہم کیا جائے۔

ساکشی مِشرا نے اپنی دُوسری ویڈیو میں بریلی سے تعلق رکھنے والے صوبائی اور قومی اسمبلی کے ممبران سے بھی اپیل کی ہے کہ وہ اس معاملے میں اُس کے والد کا ساتھ نہ دیں۔ ساکشی نے اپنی ویڈیو میں اپنے والد سے بھی اپیل کی ہے کہ اُسے اُس کی زندگی اپنی مرضی سے جینے دی جائے اور ساتھ ہی آگاہ بھی کیا ہے کہ اگر اُس کے والد کی جانب سے کوئی خطرناک قدم اُٹھایا گیا تو وہ اپنے باپ کو جیل کی سلاخوں کے پیچھے پہنچا دے گی۔ واضح رہے کہ ہندوستان میں دلِت ہندوؤں کی نچلی ترین ذات ہے۔ جن کے ساتھ اُونچی ذات کے ہندو تعلقات اُستوار کرنا تو دُور کھانا پینا اور پاس بیٹھنا بھی بہت بڑا گناہ او رنحوست خیال کرتے ہیں۔ انہیں غلیظ اور گناہ گار جان کر اچھوت کا نام دیا جاتا ہے۔