وزیر اعظم آزادکشمیر کا سپین کے صوبے کوٹالونیہ کی پارلیمنٹ کا دورہ ،اراکین سے ملاقاتیں ،مقبوضہ کشمیر کی تازہ صورتحال سے آگاہ کیا

بھارت مقبوضہ کشمیر کے عوام کی آوازدبانے کیلئے اندھا دھند طاقت کا استعمال کررہا ہے، محمد فاروق حیدر عالمی برادری بھارت پر مقبوضہ کشمیر میں مظالم بند کرنے کیلئے دبائو ڈالے ، وزیراعظم کی گفتگو

جمعہ جولائی 18:14

بار سلونا (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 12 جولائی2019ء) وزیر اعظم آزادحکومت ریاست جموں وکشمیر راجہ محمد فاروق حیدرخان کا سپین کے صوبے کوٹالونیہ کی پارلیمنٹ کا دورہ صوبائی اراکین سے ملاقاتیں اراکین کو مقبوضہ کشمیر کی تازہ ترین صورتحال سے آگاہ کیا ،پارلیمنٹ پہنچنے پر وزیر اعظم راجہ محمد فاروق حیدرخان کا سوشلسٹ پارٹی کے رہنما ڈیوڈ پیرز نے استقبال کیا اور انہیں پارلیمنٹ کے مختلف حصوں کے متعلق بریفنگ دی۔

بعدازاں دونوں رہنمائوں کے درمیان باضابطہ ملاقات ہوئی جس میں مسئلہ کشمیر اور اس کے پرامن حل اور مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے متعلق تبادلہ خیا ل کیا گیا۔ ملاقات میں مسئلہ کشمیر پرپارلیمنٹ کے ہال میں تمام پارٹیوں کے نمائندگان ، میڈیا ، دفتر خارجہ کے نمائندگان کی موجودگی میں آفیشل ڈیبیٹ( سرکاری سطح پر مباحثہ) کرانے پر اتفاق ہوا۔

(جاری ہے)

اس بحث میں پارلیمانی پارٹیوں کو دعوت دی جائیگی۔ یہ تقریب نومبر میں ہوگئی اور مباحثہ کی میزبانی معزز رکن پارلیمنٹ کرینگے۔ سوشلسٹ پارٹی کے رہنماو رکن پارلیمنٹ سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر اعظم راجہ محمد فاروق حیدرخان نے کہاکہ بھارت مقبوضہ کشمیر کے عوام کی آوازدبانے کیلئے اندھا دھند طاقت کا استعمال کررہا ہے۔ سات لاکھ فوجیوں کی موجودگی میں مقبوضہ کشمیر ایک خونی چھا?نی میں تبدیل ہو چکا۔

انہوں نے کہاکہ بھارت خود مسئلہ اقوام متحدہ میں لیکر گیااور عالمی برادری کے سامنے کشمیریوں کو حق خودارادیت دینے کا وعدہ کیا مگر71سال گزرنے کے باوجود اس نے اپنے وعدوں پر عملدرآمد نہیں کیا۔ وزیر اعظم راجہ محمد فاروق حیدرخان نے کہاکہ عالمی برادری کو چاہیے کہ وہ بھارت پر دبائو ڈالے کہ وہ مقبوضہ کشمیر میں مظالم بند کرے، مقبوضہ ریاست سے اپنی فوجیں واپس بلائے اور کشمیریوں اقوام متحدہ کی قرارداوں کے مطابق حق خودارادیت دے ۔