افغانستان میں مذاکرات ممکن تو کشمیر پر کیوں نہیں فاروق عبداللہ

شاہراہ پر پابندی سے متعلق انتظامیہ کا بیان گمراہ کن ، خطاب

جمعہ جولائی 22:00

سرینگر(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - آن لائن۔ 12 جولائی2019ء) مسئلہ کشمیر کے حل کے لئے بات چیت کو واحد راستہ قرار دیتے ہوئے صدر نیشنل کانفرنس ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے کہا ہے کہ یہ مسئلہ آج بھی ہندوستان اور پاکستان کے درمیان سب سے بڑا تنازعہ ہے اور جو لوگ کہتے ہیں کہ یہ کوئی مسئلہ نہیں وہ خواب غفلت میں ہیں اگر کشمیر کا کوئی مسئلہ نہیں ہوتا تو یہاں اقوام متحدہ کے مبصر نہیں ہوتے نہ ہی یہ معاملہ اقوام متحدہ میں ہوتا ۔

ڈاکٹر فاروق عبداللہ نسیم باغ درگاہ حضرت بل میں مادر مہربان کی 19 برسی کے سلسلے میں منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ ہندوستان اور پاکستان کے درمیان بات چیت کے علاوہ آر پار کشمیریوں میں بھی مذاکرات ہونے چاہئیں اور ایک ایسا حل نکالنا چاہئے جو سب کو قابل قبول ہو اور کسی کو ہار کا احساس نہ ہو ۔

(جاری ہے)

مسئلہ کشمیر ایک حقیقت ہے ۔ طاقت اور دھونس و دباؤ سے حقیقت کو بدلا نہیں جا سکتا ۔

جب تک اس کا فیصلہ عوامی امنگوں کے عین مطابق نہیں ہوتا تب یہاں کے حالات میں سدھار کی کوئی امید نہیں ۔ انہوں نے کہا کہ مرکزی سرکار پاکستان کے ساتھ بات چیت کے لئے دہشتٰگردی کو مشروط کرتی ہے جو سمجھ سے بالاتر ہے افغانستان کا مسئلہ حل ہونے کو ہے وہاں دونوں طرف سے گولیاں چل رہی ہیں لیکن مذاکرات کا سلسلہ برابر چل رہا ہے اگر افغانستان میں یہ پالیسی اختیار کی جا سکتی ہے تو یہا ایسا نہیں ہو سکتا ۔

انہوں نے کہا کہ کشمیر ایک سیاسی مسئلہ ہے اور اس کے لئے پاکستان سمیت تمام متعلقین کے ساتھ بات چیت کرنی ہو گی ۔ ملک کی موجودہ حالت کو تشویشناک قرار دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بھارت آج وہ ملک نہیں جو 1947ء میں تھا ۔ ملک کو ایک ہندو راشٹرا بنایا جا رہا ہے ایسے میں ہمیں اتحاد و اتفاق کے ساتھ فرقہ پرستی پر مبنی اس سوچ کو ناکام بنانا ہے ۔ ۔