نئی دہلی: انتہا پسند ہندو جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی جنونی ہندوؤں کا ایک اور ظالمانہ اقدام ایک مدرسے کے بچوں کو ہندو آنہ نعرہ ’جے شری رام‘ لگانے پہ مجبور کردیا

ہجومی تشدد پہ یقینی روک لگانے کے لیے سخت قوانین کا نفاذ ازحد ضروری ہے، چیئرمین لاء کمیشن جسٹس اے این متل

جمعہ جولائی 23:09

نئی دہلی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - آن لائن۔ 12 جولائی2019ء) بھارت میں انتہا پسند ہندو جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی جنونی ہندوؤں کا ایک اور ظالمانہ اقدام ،ایک مدرسے کے بچوں کو ہندو آنہ نعرہ ’جے شری رام‘ لگانے پہ مجبور کردیاجب کہ لا کمیشن کے چیئرمین جسٹس اے این متل نے بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کے قریبی اور بااعتماد گردانے جانے والے وزیراعلیٰ یوگی کو تجویز پیش کی ہے کہ ہجومی تشدد پہ یقینی روک لگانے کے لیے سخت قوانین کا نفاذ ازحد ضروری ہے۔

بھارتی ذرائع ابلاغ کے مطابق یوگی حکومت کو 128 صفحات پر مشتمل سفارشات پیش کی گئی ہیں جس میں ہجومی تشدد کے ذریعے کسی کو بھی نشانہ بنانے والوں کو عمر قید تک کی سزا دینے کی سفارش کی گئی ہے۔لا کمیشن کے چیئرمین جسٹس اے این متل کی جانب سے تیار کردہ تجاویز میں کہا گیا ہے کہ پیش کردہ سفارشات کو ’اتر پردیش کا بیٹنگ ماب لنچنگ ایکٹ‘ کا نام دیا جائے۔

(جاری ہے)

ذرائع ابلاغ کے مطابق تجاویز میں کہا گیا ہے کہ ہجومی تشدد کا شکار شخص اگر زخمی ہو تو مجرمان کو سات سال قید اور ایک لاکھ روپے تک جرمانے کی سزا دی جائے لیکن اگر شدید زخمی ہو تو پھر مجرمان کو دس سال قید اور تین لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنائی جائے۔یوگی حکومت کو پیش کردہ سفارشات میں تجویز دی گئی ہے کہ اگر ہجومی تشدد کے سبب کسی شخص کی موت واقع ہوجائے تو پھر مجرمان کو عمر قید اور پانچ لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنائی جائے۔

جسٹس اے این متل نے یہ تجویز بھی دی ہے کہ جو مجرمان ہجومی تشدد کی سازش کریں انھیں بھی عمر قید کی سزا دی جائے۔بھارتی ذرائع ابلاغ کے مطابق 128 صفحات کی رپورٹ میں متعدد پیش ا?نے والی ہجومی تشدد کے واقعات کو بھی یکجا کیا گیا ہے۔اس وقت بھارتی ریاست منی پور میں ہجومی تشدد کے خلاف باقاعدہ قانون موجود ہے اور اگر یوگی حکومت پیش کردہ سفارشات کو منظور کرتی ہے تو یوپی حکومت دوسرے ریاست قرار پائے گی جس میں ہجومی تشدد کے خلاف قانون موجود ہوگا۔