کمشنر ملاکنڈ کی سربراہی میں سوات میں ٹریفک حادثات بارے اجلاس

جمعہ جولائی 23:38

پشاور۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 12 جولائی2019ء) وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان کی خصوصی ہدیات پر سوات میں امسال ہونے والے ٹریفک حادثات بارے کمشنر ملاکنڈ ریاض خان محسود کی سربراہی میں اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں ڈی پی او سوات، سیکرٹری ریجنل ٹرانسپورٹ اتھارٹی، ٹریفک مجسٹریٹ، ایکسائز ٹیکسیشن آفیسر اور موٹر وہیکل ایگزامنرنے شرکت کی۔

ڈی پی او سوات نے اجلاس کو ٹریفک حادثات بارے بریف کیا۔ ڈی پی اونے اجلا س کو بتایا کہ سال 2018-19 میں زیادہ تر حادثات موٹرسائیکل سواروں کو پیش آئے۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ امسال 527 ٹریفک حادثات رونما ہوئے جس میں کُل 119 افراد جانبحق ہوئے۔ اجلاس کو یہ بھی بتایا گیا کہ ان حادثات میں 795 افراد زخمی بھی ہوئے۔ ڈی پی او پولیس نے اجلاس کو بتایا زیادہ تر حادثات زیادہ آبادی والی علاقوں میں لنڈاکی سے مینگورہ اور مٹہ سے چکدرہ مین ہائی وے رونما ہوئے۔

(جاری ہے)

اجلاس کو بتایا گیا کہ ڈٰلرز کی جانب سے آسان اقساط پر موٹر سائیکل کی فراہمی نے موٹرسائیکل حادثات میں اضافہ کیا ہے۔ اجلاس نے حادثات سے بچنے کیلئے موٹرسائیکل سوار کیلئے ہیلمٹ کا پہننا لازمی قرار دیتے ہوئے اس فیصلے پر عملدرآمد کیلئے متعلقہ حکام کو احکامات جاری کئے۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ ہر پمپ پر ایک پولیس اہلکار تعینات کیا جائے گا جو کہ کم عمر اور ہیلمٹ نہ پہننے والے کو تیل نہ ڈالنے کے فیصلے کو یقینی بنائے گا۔

پولیس اور ایکسائز مشترکہ کاروائیوں میں غیر قانونی موٹرسائیکلوں کا سد باب کریگی۔ اجلاس میں ڈرائیونگ کے لئے لائسنس رکھنے کے فیصلے کی صحیح معنوں میں عملداری پر زوردیا گیا۔ اجلاس میں شرکت کرنے والے تمام حکام کو کمشنر ملاکنڈ ریاض خان محسود کی جانب سے ہدایت کی گئی کہ سولہ جولائی سے ٹریفک پولیس، ایکسائز حکام اور ضلعی انتظامیہ سمیت دیگر متعلقہ حکام غیرقانونی طور پر موٹرسائیکل چلانے والوں کیخلاف مشترگہ گرینڈ آپریشن کا آغاز کرے۔