ملک بھر کے تاجر بجٹ کے متنازعہ امور کے خلاف آج تاریخ ساز ملک گیر ہڑتال کریں گے : کاشف چوہدری

حکومتی ضد اور ہٹ دھرمی نے ملک کا معاشی، تجارتی اور کاروباری مستقبل دائو پر لگادیا ہے : مرکزی تنظیم تاجران پاکستان تاجر برادری معیشت کے تحفظ کی خاطر حکومتی معاشی پالیسیوں ہوشربا ٹیکسوں اور ظالمانہ پالیسیوں کے خلاف ریفرنڈم کرے گی

جمعہ جولائی 23:20

ملک بھر کے تاجر بجٹ کے متنازعہ امور کے خلاف آج تاریخ ساز ملک گیر ہڑتال ..
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - آن لائن۔ 12 جولائی2019ء) تاجر برادری معیشت کے تحفظ کی خاطر بیمثال اتحاد اور یکجہتی کا ثبوت دیتے ہوئے حکومتی معاشی پالیسیوں ہوشربا ٹیکسوں اور ظالمانہ پالیسیوں کے خلاف ریفرنڈم کرے گی، انہوں نے کہا حکومت نے ہوش کے ناخن نہ لئے تو اگلے مرحلے میں غیرمعینہ مدت تک کیلئے شٹر بند کردینگے، یہ اعلان لاہور پریس کلب میں مرکزی تنظیمِ تاجران پاکستان کے صدر محمد کاشف چوہدری نے پاکستان ٹریڈرز الائنس کے صدر میاں محمد علی ،آل پاکستان انجمن تاجران کے سرپرست اعلی ظہیر اے بابر،صدر اشرف بھٹی،جنرل سیکرٹری محبوب سرکی اور لاھور کی سیکڑوں مارکیٹوں کے نمائندگان کے ہمراہ ایک پرہجوم پریس کانفرنس میں کیا، انھوں نے خبردار کیا ظالمانہ ، غیرمنصفانہ اور غریب کٴْش بجٹ کا عذاب ملک کی خوشحالی کو بہاکر لے جائیگا، انھوں نے انتہائی افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ مہنگائی اور بیروزگاری نے غریب اور متوسط طبقے کے ہوش اڑادیئے ہیں، مختلف اشیاء کی قیمتوں میں 15تا 25 فیصد اضافہ ہوگیا ہے، تاجر برادری کو ملک کی مالی مشکلات کا پورا احساس ہے اور وہ حکومتی خزانے میں اپنا حصہ ادا کرنے سے انکاری نہیں ہے لیکن حالیہ بجٹ میں پیش کی گئیں مختلف شرائط جن کے تحت ویلیو ایڈڈ ٹیکس کا وسیع نظام، ٹیکس افسران کے تفتیشی اختیارات میں اضافہ، انکم ٹیکس کا پیچیدہ نظام، ٹیکسوں کی غیرحقیقی شرح ، 50ہزار روپے کی خریداری پر شناختی کارڈ کی وصولی کی شرط اور دیگر ناقابل عمل شرائط ہیں، انھوں نے کہا کہ ٹیکس کلچر کے فروغ کیلئے حکومت فکس ٹیکس سسٹم متعارف کروائے تاکہ رشوت ستانی کی حوصلہ شکنی اور سرکاری خزانے میں براہِ راست ٹیکس جمع کروایا جاسکے، انہوں نے کہا کہ حکومتی ضد اور ہٹ دھرمی نے ملک کا معاشی، تجارتی اور کاروباری مستقبل دائو پر لگادیا ہے ، حکمران بھول رہے ہیں کہ اقتدار کا تخت تاجروں اور عوام نے اپنے کاندھوں پر اٹھارکھا ہے،حکومت معاشی مسائل بھی سیاسی انداز میں حل کرنے کی کوشش کررہی ہے جس کے نتیجے میں حکومت تاجر فاصلے بڑھ رہے ہیں ۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا آئی ایم ایف کو پاکستانی قوم کی گردن پر مسلط کردیا گیا ہے۔ اگر پاکستان میں معاشی استحکام اور معاشی سرگرمیوں کو فروغ دیا جائے تو کوئی وجہ نہیں کہ پاکستان میں دوبارہ سے خوشحالی واپس نہ آجائے ۔ نائیجیریا، وینزویلا اور ایران تیل پیدا کرنے والے ممالک ہیں۔ یہ ممالک معدنی وسائل سے بھی مالا مال، صنعتی طور پر مستحکم ہیں مگر ان کی کرنسی کو تباہ کردیا گیا ہے۔

افغانستان ایک جنگ زدہ ملک ہے جہاں پر نہ تیل ہے اور نہ ہی صنعت و زراعت مگر اس کی کرنسی کو مستحکم کردیا گیا ہے۔ اس سے سمجھا جاسکتا ہے کہ پاکستانی روپے کی بے قدری کے پیچھے معاشی عوامل نہیں ہیں بلکہ یہ پاکستان کو تباہ کرنے کا ایک سوچا سمجھا منصوبہ ہے۔ ڈالر کے مقابلے میں روپے کی بے قدری سے ملک میں مہنگائی کا ایک طوفان آگیا، جس نے صنعت، زراعت ، کاروبار غرض ہر شے کو اپنی لپیٹ میں لے لیا،پاکستان کی معیشت براہ راست آئی ایم ایف کے حاضر سروس ملازمین اور اس کے ایجنٹوں پر مشتمل ٹیم کے حوالے کردی۔

اس بات سے ہر کوئی واقف ہے کہ معاشی خودمختاری کے بغیر ملک کی سلامتی کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا۔آل پاکستان انجمن تاجران کے صدر اشرف بھٹی نے کہا کہ ہماری ہڑتال پر امن ہے اور پر امن رہے گی۔احتجاج ہمارا حق ہے ۔حکومت کی تاجروں کو تقسیم کرنے کی کوشش ناکام ہو گئی ہے ،حکومتی دباؤ اور دھمکیاں تاجروں کو خوفزدہ نہیں کر سکتیں، آل پاکستان ٹریڈرز الائنس کے صدر میاں محمد علی نے کہا حکومت نے مطالبات پورے نہیں کیے لہٰذا کراچی تا خیبر ایک ہی آواز ہے آج 13 جولائی کو مکمل شٹرڈائون ہڑتال ہو گی۔

کاشف چوہدری نے بتایا کہ وفاقی دارلحکومت سمیت چاروں صوبائی دارلحکومت،کراچی،لاھور،کوئٹہ ،پشاور سمیت چمن لورالائی،گوادر۔پشین تربت۔خضدار ،زیارت ۔ مردان ۔ کوہاٹ۔ چارسدہ۔ چترال ڈیرہ اسماعیل خان۔ ملتان۔فیصل آباد ساہیوال شیخوپورہ۔ٹوبہ ٹیک سنگھ۔وہاڑی۔گوجرانوالہ ۔سیالکوٹ گجرات۔ جہلم ۔راولپنڈی۔ حیدرآباد۔لاڑکانہ۔نواب شاہ۔ میرپورخاص۔ سکھر، لاڑکانہ سمیت ملک کے تمام چھوٹے اور بڑے شہروں کی مارکیٹس میں مکمل شٹرڈاون ہڑتال ہو گی۔اس موقع پر میاں محمد ادریس،نعیم بادشاہ،چوھدری محمود عالم جٹ،شہزاد اقبال،میاں سلیم،حافظ عطا الرحمان جٹ،ملک ناظم،شیخ ارشد ،میاں ندیم،زبیر انصاری،ارشد بھٹی،خواجہ ندیم سمیت لاہور کی متعدد مارکیٹوں کے تاجر رہنما موجود تھے۔