Live Updates

جعلی اکاؤنٹس کیس میں سابق صدر آصف علی زرداری کا 14 روزہ جسمانی ریمانڈ منظور

نئے جج کےسامنے پیش ہو کر کیسا لگا ؟ صحافی کا سوال ; الحمدللہ! سابق صدر آصف زرداری کا جواب

Sumaira Faqir Hussain سمیرا فقیرحسین پیر جولائی 12:26

جعلی اکاؤنٹس کیس میں سابق صدر آصف علی زرداری کا 14 روزہ جسمانی ریمانڈ ..
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔ 15 جولائی 2019ء) : جعلی اکاؤنٹس کیس میں سابق صدر آصف علی زرداری کو 14 روزہ جسمانی ریمانڈ پر نیب کے حوالے کر دیا گیا۔ تفصیلات کے مطابق سابق صدر اور پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری کو پارک لین کیس میں آج تیسری بار جسمانی ریمانڈ مکمل ہونے پر احتساب عدالت پیش کردیا گیا۔احتساب عدالت میں سابق آصف علی زرداری کے خلاف جعلی اکاؤنٹس کیس کی سماعت ہوئی۔

عدالت میں سماعت کے دوران وکیل صفائی نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ بچے کل نیب حوالات میں والد سے اکیلے ملنا چاہتے ہیں، ہفتے میں 2 بار ملنے کی اجازت بھی دی جائے۔ اس موقع پر جج محمد بشیر نے کہا کہ آج بھی (آصفہ بھٹو) آئی ہوئی ہیں تو آج مل لیں۔ اس پر لطیف کھوسہ نے کہا کہ آج بھی مل لیں گی تاہم کل کی بھی ملاقات کی اجازت چاہئیے۔

(جاری ہے)

بعدازاں عدالت نے سابق صدر کو بیٹی آصفہ بھٹو زرداری سے ملاقات کی اجازت دے دی۔

جس کے بعد احتساب عدالت نے جعلی اکاؤنٹس کیس میں گرفتار سابق صدر آصف زرداری کا 14 روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کرتے ہوئے 29 جولائی تک توسیع کردی اور سابق صدر کو نیب کے حوالے کر دیا۔احتساب عدالت میں پیشی کے موقع پر صحافی نے سابق صدر سے سوال کیا کہ آج آپ نئے جج کے سامنے پیش ہوئے، آپ کو کیسا لگا ؟ جس پر آصف علی زرداری نے کہا کہ الحمد للہ۔ شہباز شریف پر برطانوی صحافی کی جانب سے عائد کیے جانے والے الزامات سے متعلق سوال پر کہا کہ وہ فنڈنگ تو اسٹیٹ بینک میں آتی ہے۔

صحافی نے سوال کیا کہ کیا آپ نے کبھی ناصر بٹ کی خدمات حاصل کی ہیں جس پر سابق صدر نے کہا کہ ہم ایسے کام نہیں کرتے۔ خیال رہے کہ آصف علی زرداری کی نیب میں پیشی کے موقع پر سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ، اسلام آباد پولیس کے اہلکاروں سمیت رینجرز کے اہلکار بھی تعینات تھے۔
ڈیجیٹل پاکستان کی بنیاد سے متعلق تازہ ترین معلومات