ابھی نندن کو 24گھنٹے میں واپس لانے کا دعویٰ کرنا والا مودی کلبھوشن کو واپس کیوں نہیں لا سکا، بھارتی صحافی

نریندر مودی نے کلبھوشن جادھو کو عالمی عدالت کے رحم و کرم پر کیوں چھوڑ دیا ہے، اشوک سوان

Usman Khadim Kamboh عثمان خادم کمبوہ بدھ جولائی 00:15

ابھی نندن کو 24گھنٹے میں واپس لانے کا دعویٰ کرنا والا مودی کلبھوشن کو ..
نئی دہلی (اردوپوائنٹ اخبار تازہ ترین۔ 16جولائی 2019ء) بھارتی نامور صحافی اشوک سوان نے کلبھوشن جادھو کے کیس کا فیصلہ سنائے جانے سے پہلے اپنے ٹویٹر پیغام میں سوال کیا ہے کہ ابھی نندن کو 24گھنٹے میں واپس لانے کا دعویٰ کرنا والا مودی کلبھوشن کو واپس کیوں نہیں لا سکا؟ انہوں نے لکھا ہے کہ ” 56انچ کے مودی جو کلبھوشن کو 24گھنٹے میں واپس لانے کا دعویٰ کرنے والے مودی نے نریندر مودی نے کلبھوشن جادھو کو عالمی عدالت کے رحم و کرم پر کیوں چھوڑ دیا ہے“۔

 واضح رہے کہ عالمی عدالتانصاف پاکستان کے صوبہ بلوچستان سے گرفتار ہونے والے بھارتی جاسوس کلبھوشن جادھو سے متعلق کیس کا فیصلہ کل بدھ 17 جولائی کو سنائے گی۔پاکستانی وقت کے مطابق کیس کا فیصلہ شام 7 بجے سنایا جائیگا، فیصلہ سننے کے لیے پاکستان کی ٹیم اٹارنی جنرل کی قیادت میں ہیگ پہنچ گئی ہے۔

(جاری ہے)

پاکستان نے موقف اختیار کیا کہ کلبھوشن کیس میں بھارت کا مطالبہ مسترد کیا جائے۔

بھارتنے نیوی کمانڈر کلبھوشن جادھو کی بریت کی درخواست دائر کررکھی ہے،کلبھوشن کیس کی آخری سماعت 18 سے 21 فروری تک ہوئی تھی جس میں بھارت اور پاکستان کے وفود نے شرکت کی تھی،بھارتی وفد کی سربراہی جوائنٹ سیکرٹری دیپک متل نے کی تھی جب کہ پاکستانی وفد کی سربراہی اٹارنی جنرل انور منصور خان کر رہے تھے،عالمیعدالت انصاف نے کلبھوشن جادھو سے متعلق کیس کا فیصلہ 21 فروری کو محفوظ کیا تھا۔

اعلامیے کے مطابق عالمی عدالت انصاف کے صدر جج عبدالقوی احمد یوسف ہیگ کے پیس پیلس میں فیصلہ سنائیں گے۔واضح رہے کہ کلبھوشن جادھو کو 3 مارچ 2016 کو بلوچستان کے علاقے سے گرفتار کیا گیا تھا، اس پر پاکستان میں دہشت گردی اور جاسوسی کے سنگین الزامات ہیں اور بھارتی جاسوس نے تمام الزامات کا مجسٹریٹ کے سامنے اعتراف بھی کیا ہے،10 اپریل 2017 کو کلبھوشن جادھو کو جاسوسی، کراچی اور بلوچستان میں تخریبی کارروائیوں میں ملوث ہونے پر سزائے موت سنائی گی تھی لیکن بھارت کی جانب سے عالمی عدالت میں معاملہ لے جانے کے سبب کلبھوشن کی سزا پر عمل درآمد روک دیا گیا ہے،پاکستاننے انسانی ہمدردی کی بنیاد پر 25 دسمبر 2017 کو کلبھوشن جادھو کی اہلیہ اور والدہ سے ملاقات کرائی جب کہ اس ملاقات میں کلبھوشن نے والدہ اور اہلیہ کے سامنے جاسوسی کا اعتراف کیا۔