صدر ٹرمپ کے خلاف نسل پرستی پھیلانے کے الزام میں قراردادمنظور

ایوان نمائندگان میں پیش کی گئی قرارداد 240 ووٹوں سے پاس ہوئی

Mian Nadeem میاں محمد ندیم بدھ جولائی 15:36

صدر ٹرمپ کے خلاف نسل پرستی پھیلانے کے الزام میں قراردادمنظور
واشنگٹن(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔17 جولائی۔2019ء) امریکی ایوان نمائندگان نے ایک قرارداد کے ذریعے صدر ٹرمپ کی جانب سے کانگرس کی خواتین ارکان کو ملک چھوڑنے کا مشورہ دینے اور نسل پرستانہ جملوں کی مذمت کی ہے. امریکی نشریاتی ادارے کے مطابق ایوان نمائندگان نے قرارداد کے ذریعے امریکی صدر کے نسل پرستانہ ٹوئٹس کے بیان کی مذمت کی ہے.

ایوان نمائندگان میں اس حوالے سے پیش کی گئی قرارداد 240 ووٹوں سے پاس ہوئی جس میں امریکی صدر کے بیان پر ملامت کا اظہار کرتے ہوئے کہا گیا کہ ٹرمپ کے نسل پرستانہ جملوں میں ایک قانونی خوف ہے اور نئے امریکیوں اور مختلف نسل کے لوگوں سے عناد ہے.

(جاری ہے)

قرارداد میں امریکی صدر کو کانگریس ممبران کو ملک چھوڑنے کا کہنے پر نسل پرستی اور دوسری نسل کے لوگوں سے نفرت کا مرتکب ٹھہرایا گیا ہے‘ٹرمپ نے قراراد کے وقت ٹوئٹ کیا کہ ان کے جسم میں نسل پرستانہ ہڈی نہیں ہے.

قرارداد کی منظوری میں 4 ری پبلیکنز اور سابق ری پبلکن قانون ساز جسٹن آمش سمیت ڈیموکریٹس کے تمام 235 ممبران نے حصہ لیا. قبل ازیں امریکی کانگرس کی رکن چار خواتین نے جنہیں صدر ٹرمپ نے سلسلہ وار ٹویٹ کے ذریعے ”نسل پرستانہ“ فقروں کا نشانہ بنایا تھا، امریکی صدر کی باتوں کو مسترد کرتے ہوئے ان کے بیان کو توجہ ہٹانے والا قرار دیا. کانگرس کی ارکان الیگزینڈرا اوکاسیو کورتیز، راشدہ طلیب، الحان عمر اور آیانا پریسلی نے ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ وہ صدر ٹرمپ کی باتوں پر دھیان نہ دیں‘ یعنی توجہ بٹانے کے جال میں نہ پھنسیں.

اس سے قبل پیر کو صدر ٹرمپ نے ٹوئٹر پر کہا تھا کہ یہ چاروں خواتین جو کہ امریکی شہری ہیں ملک چھوڑ سکتی ہیں‘صدر ٹرمپ نے اپنے بیان کا دفاع کیا اور نسل پرستی کے الزامات کو مسترد کیا ہے چاروں خواتین نے جنھیں ”دی سکواڈ“ کہا جا رہا ہے کہا کہ توجہ پالیسی پر ہونی چاہیے نہ کہ صدر کے الفاظ پر. آیانا پریسلی نے کہا کہ یہ محض ایک خلل ہے اور اس کا مقصد ٹرمپ کی انتظامیہ میں اوپر سے لے کر نیچے تک پھیلی سخت بدنظمی اور بدعنوانی کے کلچر سے لوگوں کی توجہ کو ہٹانا ہے.

الحان عمر اور راشدہ طلیب دونوں نے صدر ٹرمپ کے مواخذے کے اپنے مطالبے کو دہرایا‘امریکی کانگریس کی چاروں خواتین کا یہ ردعمل گذشتہ روز صدر ٹرمپ کی جانب سے ان پر نسل پرستانہ سلسلہ وار ٹویٹ کے ذریعے نشانہ بننے کے بعد سامنے آیا ہے.