خیبر پختونخوا انرجی ٹاسک فورس کے جاری آپریشن کے دوران بجلی نادہندگان سے ایک ارب روپے وصول کرکے قومی خزانے میں جمع کیے ،حمایت اللہ خان

اے جی این قاضی فارمولہ پر عمل درآمد کے بعد صوبے کو 150 ارب روپے تک سالانہ ملنے کا امکان ہے۔ مشیر توانائی

بدھ جولائی 18:19

پشاور۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 17 جولائی2019ء) خیبر پختونخوامیں بجلی کے غیر قانونی استعمال کی روک تھام اور بقایا جات کی ریکوری کیلئے قائم صوبائی انرجی ٹاسک فورس نے جاری آپریشن کے دوران بجلی نادہندگان سے اب تک ایک ارب روپے کی ریکارڈ وصولی کرکے قومی خزانے میں جمع کر دیئے ہیں جبکہ بجلی کے لئے زیر استعمال 30 کروڑ روپے کے آلات بھی قبضے میں لیے گئے ہیں اور 23000 ہزار کے قریب ڈائریکٹ کنڈے بھی ہٹائے گئے اور 560 لوگوں پر ایف آئی آر بھی کاٹی گئی ہیں۔

ان خیالات کا اظہار وزیر اعلی خیبر پختونخوا کے مشیر برائے توانائی اور برقیات حمایت اللہ خان نے کیبنٹ روم سول سیکرٹریٹ پشاور میں پریس بریفنگ کے دوران کیا اس موقع پر سیکرٹری توانائی سرفرازد رانی چیف ایگزیکٹیو آفیسر خیبرپختونخوا اینڈ گیس کمپنی عثمان غنی خٹک،چیف پیڈو زاہد صابری، چیف پلاننگ افسر زین اللہ شاہ اور دیگر اعلی حکام نے شرکت کی۔

(جاری ہے)

مشیر توانائی نے کہا کہ اے جی این قاضی فارمولہ پر عمل درآمد کے بعد صوبے کو 150 ارب روپے تک سالانہ ملنے کا امکان ہے اور اس کے لیے وفاقی سطح پر ایک کمیٹی بنائی گئی ہے جس کے چیئرمین وفاقی وزیر برائے پلاننگ خسروبختیار ہیں اور صوبہ خیر پختونخوا سے چیف سیکرٹری اور مشیر برائے توانائی اس کے ممبر ہیں انہوں نے کہا کہ بجلی خالص منافع کے لیے جو کمیٹی قائم کی گئی کے چار اجلاسوں کے دوران بڑی حد تک پیش رفت ہوچکی ہے اور امید ہے کہ صوبے کو خاطرخواہ پن بجلی خالص منافع ملے گا مشیر توانائی نے کہا کہ خیبر پختونخوا کمپنی لمیٹڈ کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کو تبدیل کردیا گیا ہے اور انکی جگہ پروفیشنل ٹیکنیکل اور میرٹ پر سٹاف کی تقرری کی گئی ہے جس سے ادارے کی استعداد کار میں مزید ضا فہ ہوگا حمایت اللہ خان نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں تیل کی پیداوار 50 فیصد جبکہ گیس 25 فیصد ہے لیکن اب بھی قومی سطح پر صوبے کی این ٹی ڈی سی اورنیپرا جیسے قومی اداروں میں مناسب نمائندگی نہیں ہے جبکہ وزیراعظم اور وزیراعلی خیبرپختونخوا کی کوششوںسے او جی ڈی سی ایل اور ایس این جی پی ایل کے بورڈ آف ڈائریکٹرز میں صوبے کو نمائندگی دی گئی ہی.مشیر توانائی نے کہا کہ واپڈا ایک قومی ادارہ ہے اس لئے واپڈا ہیڈکوارٹر کو لاہور سے اسلام آباد منتقل کیا جائے مشیر توانائی نے کہا کہ جنوبی اضلاع کو رائلٹی فنڈ ملنے سے گھر گھر گیس کی فراہمی شروع ہوجائے گی اور اس کے لیے کچھ فنڈز جاری کردیئے گئے ہیں اور باقی بہت جلد جاری کر دیئے جائیں گے اور یہ منصوبہ ایس این جی پی ایل کے تعاون سے مکمل ہو گا۔

حمایت اللہ خان نے کہا کہ جنوبی ضلع کے علاقوں کو ایریا ڈویلپمنٹ پروگرام کے تحت جنوری 2020سے بتدریج ترقی دی جائے گی اور رائلٹی فندز سے ان کے دیرینہ مسائل حل کیے جائیں گے حمایت اللہ خان نے کہا کہ جنوبی اضلا ع کی ترقی کیلئے ضلع کرک میں پٹرولیم اسٹیوٹ قائم کیا جائے گا اور اس کے قیام سے پورے ملک اور صوبے کا فائدہ ہوگا گا اور اس ادارے کے فارغ التحصیل طلباء آئل اینڈ گیس کمپنیوں میں خدمات سرانجام دے سکیں گے مشیر توانائی نے کہا کہ خیبر پختونخوا انرجی ڈویلپمنٹ آرگنائزیشن کو عالمی معیار کا ادارہ بنانے کے لیے تعمیر نو کر رہے ہیں انہوں نے کہا کہ مالاکنڈ صوابی اور چترال کے ہائیڈرو پاور منصوبوں سے 2.5 ارب روپے کی ریونیو حاصل ہو رہی ہے اس کے علاوہ تین مزید منصوبے ورال خوڑ،رانولیا،اورمچئی مکمل کیے گئے ہیں اور 210 میگاواٹ کے پانچ مزید منصوبے 2020 تک مکمل کیے جائیں گے۔