وزیراعظم عمران خان کا ٹیکس کی بنیاد کو وسعت دینے کے ٹھوس عزم کا اعادہ

کوئی بھی دبائو یا ہڑتال ہمیں پیچھے نہیں ہٹا سکتی، پیچھے ہٹنا ملک و قوم سے غداری ہو گی، فیڈرل بورڈ آف ریونیو میں اصلاحات کرتے ہوئے خودکار نظام لایا جائے گا، سمگلنگ کی روک تھام کیلئے کریک ڈائون کیا جائے گا، اس حوالہ سے تمام فریقین اور سکیورٹی ایجنسز کو اعتماد میں لے لیا گیا ہے، میرا جینا مرنا پاکستان میں ہے، بیرون ملک میری جائیداد ہے نہ ہی کوئی اکائونٹ ہے، سابقہ حکمرانوں نے منی لانڈرنگ کے ذریعے پیسہ بیرون ملک بھجوا کر جائیدادیں بنائی ہیں، ان کا احتساب نہیں رکے گا ْوزیراعظم عمران خان کا گوجرانوالہ چیمبر آف کامرس کی سالانہ تقریب تقسیم انعامات سے خطاب

بدھ جولائی 18:19

وزیراعظم عمران خان کا ٹیکس کی بنیاد کو وسعت دینے کے ٹھوس عزم کا اعادہ
اسلام آباد ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 17 جولائی2019ء) وزیراعظم عمران خان نے ٹیکس کی بنیاد کو وسعت دینے کے ٹھوس عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ کوئی بھی دبائو یا ہڑتال ہمیں پیچھے نہیں ہٹا سکتی، پیچھے ہٹنا ملک و قوم سے غداری ہو گی، فیڈرل بورڈ آف ریونیو میں اصلاحات کرتے ہوئے خودکار نظام لایا جائے گا، سمگلنگ کی روک تھام کیلئے ایک مؤثر اور فعال پالیسی کے ساتھ کریک ڈائون کیا جائے گا، اس حوالہ سے تمام فریقین اور سکیورٹی ایجنسز کو اعتماد میں لے لیا گیا ہے، میرا جینا مرنا پاکستان میں ہے، بیرون ملک میری جائیداد ہے نہ ہی کوئی اکائونٹ ہے، سابقہ حکمرانوں نے منی لانڈرنگ کے ذریعے پیسہ بیرون ملک بھجوا کر جائیدادیں بنائی ہیں ان کا احتساب نہیں رکے گا۔

وہ بدھ کو یہاں گوجرانوالہ چیمبر آف کامرس کی سالانہ کی تقریب تقسیم انعامات سے خطاب کر رہے تھے۔

(جاری ہے)

وزیراعظم کے مشیر برائے تجارت عبدالرزاق دائود بھی اس موقع پر موجود تھے۔ وزیراعظم عمران خان نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ گذشتہ 10 سالوں کے دوران ملکی بیرونی قرضے 6 ہزار ارب سے 30 ہزار ارب تک پہنچ گئے ہیں، ان قرضوں پر ہمارے اکٹھے ہونے والے کل مجموعی ٹیکس کا نصف سود پر ادا کرنا پڑ رہا ہے، ایف بی آر کی رپورٹ کے مطابق 70 فیصد پاکستانیوںکا ٹیکس 300 کمپنیاں ادا کر رہی ہیں، دوسری جانب خدمات اور زراعت کے شعبے کم ٹیکس ادا کر رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ مطالبہ سامنے آ رہا ہے کہ ہمارے اوپر فکس ٹیکس لاگو کر دیں لیکن ٹیکس نیٹ میں نہ لائیں کیونکہ ان لوگوں کو ایف بی آر پر اعتماد نہیں ہے اسی لئے موجودہ حکومت ایف بی آر میں اصلاحات پر تیزی سے کام کر رہی ہے، ایف بی آر میں خودکار نظام لا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ میں اور میری ٹیم کاروباری طبقہ کے ساتھ مسلسل رابطہ میں ہیں، تاجر برادری کو یقین دہانی کراتے ہیں کہ ان کا مسئلہ حل کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ جن معاشروں نے ترقی کی ہے وہاں پر کمزور اور طاقتور کیلئے ایک قانون ہے۔