نئی جیل کی جلد از جلد تعمیر ،جیل مینول میں اصلاحات کیلئے چیف سیکرٹری کو سفارشات ارسال کی جائینگی‘ ڈی جی نیب

قیدیوں میں جرم کی نوعیت کے لحاظ سے تفریق اورالگ الگ جیل ہونی چاہیے ،وائٹ کالر کرائم کے ملزمان کیساتھ کسی قسم کا ناروا سلوک نہ برتا جائے نیب ،جیل حکام کے مابین رابطوں کو مزید مستحکم بنانے کیلئے فوکل پرسنز تعینات کرنیکا فیصلہ،جیل حکام کا نیب ہیڈ کوارٹر کا دورہ

بدھ جولائی 18:50

نئی جیل کی جلد از جلد تعمیر ،جیل مینول میں اصلاحات کیلئے چیف سیکرٹری ..
لاہور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 17 جولائی2019ء) قومی احتساب بیورو ( نیب ) کی جانب سے نئی جیل کی جلد از جلد تعمیر اور جیل مینول میں اصلاحات کے لئے سفارشات ارسال کی جائیں گی ،نیب اور جیل حکام کے مابین رابطوں کو مزید مستحکم بنانے کیلئے فوکل پرسنز تعینات کرنے کا بھی فیصلہ کیا گیا ہے ۔ تفصیلات کے مطابق محکمہ جیل خانہ جات کے سینئر حکام نے نیب ہیڈ کوارٹر لاہور کا دورہ کر کے ڈائریکٹر جنرل نیب لاہور اور ٹیم کو بریفنگ دی ۔

بریفنگ میں ایڈیشنل سیکرٹری ہوم خضر افضال، آئی جی جیل خانہ جات مرزا شاہد سلیم، ڈی آئی جی جیل خانہ جات ملک مبشر، ایس پی ڈسٹرکٹ جیل اسد جاوید اور سپرنٹنڈنٹ سینٹرل جیل لاہور اعجاز اصغر نے شرکت کی ۔نیب لاہور کی جانب سے پنجاب کی جیلوں میں قید ملزمان کو فراہم کردہ سہولیات اور جیل حکام کو درپیش مسائل سے آگاہی کیلئے بریفنگ لی گئی۔

(جاری ہے)

ڈی جی نیب نے کہا کہ جسمانی ریمانڈ سے جوڈیشل ریمانڈ پر جیل جانیوالے ملزمان کی جانب سے جیل میں مبینہ ناروا سلوک کی شکایات موصول ہوئیں ہیں ۔

جیل حکام نے جیل اصلاحات کے حوالے سے ماضی میں حکومتوں کی مبینہ طور پر غفلت برتنے کی شکایت کی اورکہا کہ موجودہ حکومت جیل اصلاحات متعارف کروانے میں سنجیدہ ہے۔ جیل حکام کی جانب سے بتایا گیا کہ نیب کیسز میں گرفتار 150 ملزمان فی الوقت کیمپ اور کوٹ لکھپٹ جیل میں موجود ہیں جبکہ مجموری طور پر پنجاب کی جیلوں میں 46 ہزار قیدی ہیں۔جیلوں کی کمی کے باعث مختلف جیلوں میں قیدیوں کی دگنا تعداد رکھنے پر مجبور ہیں۔

قیدیوں کو عدالتوں میں پیشی کیلئے لے جانے میں بھی متعدد مشکلات کا سامنا ہے۔کیمپ جیل میں قید 3500 قیدیوں کیلئے صرف ایک ڈیوٹی ڈاکٹر کی سہولت موجود، ایمرجنسی کی صورت میں شدید دشواری درپیش ہوتی ہے۔جیل حکام کی جانب سے پیشی پر بھیجے گئے قیدیوں کو بخشی خانوں میں ملاقاتوں اور دیگر انتظامات پر بھی شدید خدشات کا اظہارکیا گیا ۔ جیل حکام کا کہنا تھاکہ ویڈیو لنک کے ذریعے پیشی سے محکمہ کے وسائل کی بچت ہوگی اور دیگر مسائل سے بھی نجات ملے گی۔

جیل حکام نے نیب کے افسران کو سروس سٹرکچر ، نفری کی کمی اور طویل ڈیوٹی اوقات جیسے مسائل سے بھی آگاہ کیا۔ڈی جی نیب نے محکمہ جیل خانہ جات کو درپیش مسائل حکام بالا تک پہنچانے کی یقین دہانی کرائی ۔ ڈی جی نیب لاہور نے کہا کہ ہم نے ملزمان کو بہتر سہولیات فراہم کیں جبکہ حتی الامکان کوشش ہے کہ مزید اصلاحات متعارف کروائی جائیں۔نیب کے سیل محکمہ جیل خانہ جات کیلئے رول ماڈل ہیں۔

قیدیوں میں جرم کی نوعیت کے لحاظ سے تفریق اور انکے لئے الگ الگ جیل ہونی چاہیے ۔ڈی جی نیب نے کہا کہ وائٹ کالر کرائم کے ملزمان کیساتھ کسی قسم کا ناروا سلوک نہ برتا جائے۔ ڈی جی نیب نے کہا کہ نیب چیف سیکرٹری پنجاب کو نئی جیل کی جلد از جلد تعمیر اور جیل مینول میں اصلاحات کیلئے سفارشات بھیجے گا۔قیدیوں کی فیملیز سے ہونے والی ملاقاتوں کے دوران خواتین سٹاف کا موجود ہونا ممکن بنایا جائے۔

قیدیوں کی عزت نفس کا بھرپور خیال رکھا جانا انکا حق ہے ۔ انہوں نے کہا کہ نیب لاہور کی طرح تمام جیلوں میں بھی ایمرجنسی کیلئے ریسکیو 1122 کی سہولت 24 گھنٹے حاصل کی جانی چاہیے ۔اس ملاقات میں نیب اور جیل حکام کے مابین رابطہ مزید مستحکم بنانے کیلئے فوکل پرسنز کی متعین کرنے کا بھی فیصلہ کیا گیا۔محکمہ جیل خانہ جات کے وفد کو نیب سیلز میں زیر حراست ملزمان کو دی جانیوالی سہولیات کے بارے میں بتایا گیا اور انہیں حوالات کا دورہ بھی کروایا گیا۔