Live Updates

ماضی میں جیسے ملک کو چلایا جارہا تھا اب ویسے نہیں چل سکتا، وزیر اعظم

میرا مرنا جینا پاکستان میں ہے ، پاکستان کو عظیم ملک بنائینگے ، لوگوں کو ایف بی آر پر اعتماد نہیں،ادارے میں اصلاحات کررہے ہیں ، سب کو ٹیکس نیٹ میں لے کر آنا ہے ، دباؤ ڈالنے والوں سے کہتا ہوں پیچھا ہٹا تو قوم سے غداری ہو گی، عمران کا خطاب

بدھ جولائی 19:35

ماضی میں جیسے ملک کو چلایا جارہا تھا اب ویسے نہیں چل سکتا، وزیر اعظم
اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 17 جولائی2019ء) وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ ماضی میں جیسے ملک کو چلایا جارہا تھا اب ویسے نہیں چل سکتا،میرا مرنا جینا پاکستان میں ہے ، پاکستان کو عظیم ملک بنائینگے ، لوگوں کو ایف بی آر پر اعتماد نہیں،ادارے میں اصلاحات کررہے ہیں ، سب کو ٹیکس نیٹ میں لے کر آنا ہے ، دباؤ ڈالنے والوں سے کہتا ہوں پیچھا ہٹا تو قوم سے غداری ہو گی۔

بدھ کو یہاں گوجرانوالہ چیمبر آف کامرس کی اسلام آباد میں تقسیم انعامات کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ میں بار بار مدینہ کی ریاست کی بات کرتا ہوں، مدینہ کی ریاست میں طاقتور اور کمزور کے لیے ایک ہی قانون ہوتا ہے، طاقتور اور کمزور کے لیے الگ الگ قانون ہوں تو ریاست تباہ ہوجاتی ہے جب کہ جن معاشروں نے ترقی کی وہاں سب کے لیے ایک ہی قانون ہے، عدل و انصاف ریاست مدینہ کے اصول تھے۔

(جاری ہے)

وزیراعظم نے کہا کہ ہم پاکستان کو عظیم ملک بنائیں گے، میری ملک سے باہر کوئی جائیداد اور کاروبار نہیں، میرا جینا مرنا پاکستان میں ہے جب کہ منی لانڈرنگ کرنے والوں کے مفادات کچھ اور ہیں، جن پر کیسز ہیں ان سب کے رشتہ دار باہر بھاگے ہوئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک میں جو چھوٹی چوری کرتا ہے سب کو پتا ہے اس کے ساتھ جیل میں کیا سلوک ہوتا ہے، پچھلے سال جتنا ٹیکس ادا کیا اس کا نصف قرضوں کی ادائیگیوں میں چلا گیا، ماضی میں جیسے پاکستان کو چلایا جارہا تھا اب پاکستان ویسے نہیں چل سکتا۔

وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ لوگوں کو ایف بی آر پر اعتماد نہیں، ایف بی آر میں 700 ارب روپے کی چوری ہوتی تھی، ایف بی آر میں اصلاحات پر کام کر رہے ہیں۔ انہوںنے کہاکہ ہم نے سب کو ٹیکس نیٹ میں لے کر آنا ہے تاہم دباؤ ڈالنے والوں سے کہتا ہوں پیچھا ہٹا تو قوم سے غداری ہو گی، شناختی کارڈ کی شرط کی مخالفت وہ تاجر کر رہے ہیں جو اسمگلنگ کا سامان بیچتے ہیں۔

وزیراعظم نے کہا کہ 22کروڑ افراد میں سے 15 لاکھ ٹیکس دیتے ہیں، شبر زیدی نے بتایا کہ پاکستان کا 70 فیصد ٹیکس 300 کمپنیاں دے رہی ہیں، اگلے سال کے لیے پوری قوت سے 5500 ارب ریونیو اکٹھا کریں گے، ٹیکس نظام درست ہو تو قرضے بھی اتریں گے اور ترقیاتی کام بھی ہوں گے۔وزیراعظم نے شوکت ترین کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ایف بی آرمیں700 ارب روپے کی چوری ہو رہی ہے اس لیے ہمارا پہلا کام ایف بی آر کو ٹھیک کرنا ہے۔

عمران خان نے کہا کہ ہمارا کام ہے کہ صنعت کی ترقی میں کاروباری حضرات کی مدد کریں اور انہیں سہولیات دیں تاکہ ملک کا ہر طبقہ ترقی کر سکے۔وزیراعظم نے کہا کہ ہماری حکومت جو کچھ کر رہی ہے وہ عوام کے لیے ہے، میرا کوئی ذاتی کاروبار اور ایجنڈا نہیں نہ بیرون ملک جائیدا ہے،وہ سابقہ حکمرانوں کی طرح نہیں ہیں جو ملک لوٹ کر باہر چلے جاتے ہیں۔
ڈیجیٹل پاکستان کی بنیاد سے متعلق تازہ ترین معلومات