Live Updates

وزیراعظم عمران خان کا گوجرانوالہ، سیالکوٹ اور گجرات کو برآمدی صنعتوں کے حوالہ سے گولڈن ٹرائی اینگل بنانے کا اعلان

اقتصادی استحکام و اصلاحات اور ٹیکس کی بنیاد میں وسعت کیلئے کوئی بھی دبائو قبول نہیں کریں گے، کوئی بھی دبائو یا ہڑتال ہمیں اصلاحات کے عمل سے پیچھے نہیں ہٹا سکتی، پیچھے ہٹنا ملک و قوم سے غداری ہو گی، فیڈرل بورڈ آف ریونیو میں اصلاحات کرتے ہوئے خودکار نظام لایا جائے گا، سمگلنگ کی روک تھام کیلئے ایک مؤثر اور فعال پالیسی کے ساتھ کریک ڈائون کیا جائے گا، اس حوالہ سے تمام فریقین اور سکیورٹی ایجنسز کو اعتماد میں لے لیا گیا ہے، میرا جینا مرنا پاکستان میں ہے، بیرون ملک میری جائیداد ہے نہ ہی کوئی اکائونٹ ہے، سابقہ حکمرانوں نے منی لانڈرنگ کے ذریعے پیسہ بیرون ملک بھجوا کر جائیدادیں بنائی ہیں ان کا احتساب نہیں رکے گا وزیراعظم عمران خان کا فرسٹ گوجرانوالہ ایکسپو 2019ء میں نمایاں کارکر دگی کا مظاہرہ کرنے والے صنعتکاروں میں انعامات تقسیم کرنے کی تقریب سے خطاب

بدھ جولائی 19:40

وزیراعظم عمران خان کا گوجرانوالہ، سیالکوٹ اور گجرات کو برآمدی صنعتوں ..
اسلام آباد ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 17 جولائی2019ء) وزیراعظم عمران خان نے گوجرانوالہ، سیالکوٹ اور گجرات کو برآمدی صنعتوں کے حوالہ سے گولڈن ٹرائی اینگل بنانے کا اعلان کرتے ہوئے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ اقتصادی استحکام و اصلاحات اور ٹیکس کی بنیاد میں وسعت کیلئے کوئی بھی دبائو قبول نہیں کریں گے، کوئی بھی دبائو یا ہڑتال ہمیں اصلاحات کے عمل سے پیچھے نہیں ہٹا سکتی، پیچھے ہٹنا ملک و قوم سے غداری ہو گی، فیڈرل بورڈ آف ریونیو میں اصلاحات کرتے ہوئے خودکار نظام لایا جائے گا، سمگلنگ کی روک تھام کیلئے ایک مؤثر اور فعال پالیسی کے ساتھ کریک ڈائون کیا جائے گا، اس حوالہ سے تمام فریقین اور سکیورٹی ایجنسز کو اعتماد میں لے لیا گیا ہے، میرا جینا مرنا پاکستان میں ہے، بیرون ملک میری جائیداد ہے نہ ہی کوئی اکائونٹ ہے، سابقہ حکمرانوں نے منی لانڈرنگ کے ذریعے پیسہ بیرون ملک بھجوا کر جائیدادیں بنائی ہیں ان کا احتساب نہیں رکے گا۔

(جاری ہے)

ان خیالات کا اظہار انہوں نے بدھ کو یہاں گوجرانوالہ چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹریز کے زیر اہتمام فرسٹ گوجرانوالہ ایکسپو 2019ء میں نمایاں کارکر دگی کا مظاہرہ کرنے والے صنعتکاروں میں انعامات تقسیم کرنے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ وزیراعظم کے مشیر برائے تجارت عبدالرزاق دائود اور وزیراعظم کے معاون خصوصی نعیم الحق بھی اس موقع پر موجود تھے۔

وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ جب تک ہم ریاست مدینہ کے تصور اور اصولوں کے مطابق نہیں چلیں گے ہم کامیاب نہیں ہو سکتے، میں اپنی تقاریر میں ریاست مدینہ کا بار بار ذکر اس لئے کرتا ہوں کیونکہ ریاست مدینہ وہ ماڈل ہے جس نے وقت کی دو سپر پاور کے مقابلہ میں عربوں کو دنیا کی امامت عطاء کی، مدینہ کی ریاست عدل و انصاف اور رحمدلی کے اصولوں پر مبنی تھی، یہ دنیا کی پہلی ایسی فلاحی ریاست تھی جس نے معاشرے کے کمزور طبقات کی ذمہ داری اٹھائی، مدینہ کی ریاست میں ریاست چلانے والوں کے پاس پیسہ نہیں لیکن احساس تھا، اس ریاست میں قانون کی حکمرانی کو یقینی بنایا گیا، الله کے نبیؐ کا فرمان ہے کہ وہ معاشرے تباہ ہو جاتے ہیں جس میں کمزور اور طاقتوروں کیلئے الگ الگ قانون ہو، پاکستان کی مثال کو اگر ہم سامنے رکھیں تو یہاں پر جن لوگوں نے اربوں روپے کی کرپشن کی ہے ان کو جیلوں میں بھی ایئرکنڈیشن کی سہولت حاصل ہے جبکہ جو لوگ چند سو روپے کی چوری میں بند ہیں وہ پس رہے ہیں۔

وزیراعظم نے کہا کہ دنیا میں وہ معاشرے کامیاب ہوتے ہیں جو اپنے کمزور طبقات کا خیال رکھتے ہیں، مدینہ کی ریاست میں طاقت اور دولت رکھنے والوں سے ٹیکس لے کر انہیں غریبوں پر خرچ کیا جاتا تھا، اسی نظام کو مغرب نے پراگریسو ٹیکسیشن کا نام دیا۔ وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان ان کا ملک ہے اور ان کی بیرون ملک کوئی جائیداد نہیں ہے، میرا جینا اور مرنا پاکستان میں ہے، میں ان لوگوں کی طرح نہیں جن کا پیسہ اور دولت پاکستان سے باہر ہے، پاکستان کے عوام اور بیرون ممالک جائیداد رکھنے والوں میں بہت فرق ہے، ان کی اور عوام کی حالت ایک جیسی نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ سابقہ حکمرانوں نے منی لانڈرنگ کے ذریعے پیسہ بیرون ملک بھجوا کر جائیدادیں بنائی ہیں ان کا احتساب نہیں رکے گا۔ وزیراعظم نے کہا کہ گذشتہ 10 سالوں کے دوران ملکی بیرونی قرضے 6 ہزار ارب سے 30 ہزار ارب تک پہنچ گئے ہیں، ان قرضوں پر ہمارے اکٹھے ہونے والے کل مجموعی ٹیکس کا نصف سود پر ادا کرنا پڑ رہا ہے، ہم بھی قرضہ لے کر ملک کو دیوالیہ کرنے کے قریب پہنچا سکتا تھا لیکن میں اپنے آپ کو اس ملک کا شہری سمجھتا ہوں اور میرا سب کچھ یہیں پر ہے اس لئے وہ فیصلے کریں گے جو ملک قوم کی بہتری میں ہوں گے۔

انہوں نے تاجروں اور صنعتکاروں کو اپنی ٹیم قرار دیتے ہوئے کہا کہ معیشت کی بہتری، ٹیکس کی بنیاد میں وسعت اور معاشی استحکام کیلئے تاجر، صنعتکار اور کاروباری برادری حکومت کے ہاتھ مضبوط کرے، انشاء الله اس مشکل صورتحال سے ہم باہر نکلیں گے۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت ہم ٹیکسوں سے جتنا پیسہ حاصل کر رہے ہیں اس کا ایک بڑا حصہ بیرونی قرضوں اور ان کے سود کی مد میں ادا ہوتا ہے، حتیٰ کہ سود کی ادائیگی میں بھی مشکلات ہوتی ہیں، ایف بی آر جتنا ٹیکس جمع کرتا ہے ان کا 70 فیصد 300 کمپنیاں ادا کر رہی ہیں، سروس سیکٹر اپنے حجم کے برعکس ایک فیصد ٹیکس دے رہا ہے، زراعت کا شعبہ بھی اپنی استطاعت سے کہیں کم ایک فیصد کے قریب ٹیکس دے رہا ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان کو جس طرح پہلے چلایا جا رہا تھا اب ہم ایسے نہیں چلا سکتے کیونکہ اس سے ملک کا نقصان ہو رہا ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ ٹیکس کے حوالہ سے لوگوں کے خدشات اس لئے ہیں کیونکہ ایف بی آر پر لوگوں کا اعتماد نہیں ہے اور اس کی بنیادی وجہ ماضی میں ایف بی آر کا کردار رہا ہے، سابق وزیر خزانہ شوکت ترین نے بھی اس بات کا اعتراف کیا تھا کہ ایف بی آر میں 700 ارب کے قریب چوری ہوتی ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ ہمارا کام اس نظام کو ٹھیک کرنا ہے، فیڈرل بورڈ آف ریونیو میں اصلاحات پر کام ہو رہا ہے، ایف بی آر میں انسانی مداخلت کو کم کرنے اور اس میں آٹومیشن کیلئے اقدامات کئے جا رہے ہیں۔ وزیراعظم نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ کوئی بھی دبائو یا ہڑتال ہمیں معاشی اصلاحات اور اقتصادی استحکام کیلئے کوششوں سے پیچھے نہیں ہٹا سکتی، پیچھے ہٹنا ملک و قوم سے غداری ہو گی۔

وزیراعظم نے کہا کہ آج کے سپاسنامہ میں بھی گوجرانوالہ میں ہسپتال، یونیورسٹی اور تکنیکی تعلیمی اداروں کیلئے مطالبہ کیا گیا ہے، اگر ہم ٹیکس نہیں دیں گے تو صحت اور تعلیم کیلئے پیسہ کیسے آئے گا۔ وزیراعظم نے کہا کہ تاجر اور صنعتکار برادری کو ملک و قوم کیلئے کام کرنا چاہئے، حکومت کاروبار میں آسانیاں فراہم کر رہی ہے، حکومت کا تاجر برادری کے ساتھ مسلسل رابطہ ہو گا، ان کے مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کریں گے، ایف بی آر سے متعلق مسائل پر رابطہ کیلئے ہیلپ لائن بھی قائم کی جا رہی ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ وہ پوری قوم کو کہنا چاہتے ہیں کہ 22 کروڑ لوگوں میں صرف 15 لاکھ لوگ ٹیکس دے رہے ہیں، اگر ٹیکس دینے کے اہل افراد تھوڑا تھوڑا ٹیکس بھی دیں گے تو ہم نہ صرف قرضوں کی دلدل سے نکل سکتے ہیں بلکہ اپنے بچوں کو صحت، تعلیم اور پینے کیلئے صاف پانی بھی فراہم کر سکتے ہیں۔ وزیراعظم نے تاجر اور صنعتکاروں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وہ ان کی ٹیم ہے اور ان کے مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے، ہم کاروبار میں آسانیاں بھی فراہم کر رہے ہیں، 10 سال پہلے کاروبار میں آسانیوں کے حوالہ سے عالمی سطح پر پاکستان 77ویں نمبر پر تھا، اب اس رینکنگ میں ہم 147ویں پوزیشن پر ہیں، یہ سب گورننس کے مسائل کی وجہ سے ہوا ہے، پاکستان میں ڈی انڈسٹریلائزیشن ہوئی ہے، حتیٰ کہ بنگلہ دیش اور خطہ کے دیگر ممالک بھی صنعتوں کے حوالہ سے پاکستان سے آگے بڑھ گئے ہیں، 60ء کی دہائی میں پاکستان میں صنعتوں کے فروغ کا کام ہوا تاہم 70ء کی دہائی میں قومیانے کی پالیسی سے صنعتوں کو نقصان پہنچا، ہماری حکومت پاکستان کی صنعتوں کو اٹھائے گی، پاکستان کو صنعتوں کے فروغ اور برآمدات میں اضافہ کی اشد ضرورت ہے، اس صورتحال میں جوہری تبدیلی کیلئے ہم مسلسل کوششیں کر رہے ہیں، بورڈ آف انویسٹمنٹ اور دیگر اداروں میں بھی کام ہو رہا ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ سمگلنگ اور سمگل شدہ اشیاء ملکی معیشت اور بالخصوص صنعت کیلئے بہت نقصان دہ ہے، سمگلنگ کے خلاف کریک ڈائون جاری ہے، سمگلنگ کے انسداد اور روک تھام کیلئے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سمیت مختلف اداروں کو بھی دعوت دی ہے کیونکہ سمگلنگ نے ملکی معیشت کو بہت نقصان پہنچایا ہے، افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کی وجہ سے سمگلنگ کی روک تھام کیلئے بھی بات چیت جاری ہے، اسی طرح انڈر اور اوور انوائسنگ سے متعلق مسائل کو بھی حل کیا جا رہا ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ تاجروں کا ایک طبقہ کہتا ہے کہ قومی شناختی کارڈ سے رجسٹریشن نہیں ہونی چاہئے، یہ ایسے تاجر ہوتے ہیں جو سمگلنگ کا سامان بیچتے ہیں، سمگلنگ کا سامان بیچنے سے تاجروں کو فائدہ ہوتا ہے لیکن اس سے صنعتوں اور ملک کو نقصان ہوتا ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ موجودہ حکومت گوجرانوالہ، گجرات اور سیالکوٹ کو برآمدی صنعتوںکے حوالہ سے سنہری تکون بنائے گی اور یہاں پر چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار کو سہولیات فراہم کی جائیں گی کیونکہ چھوٹے اور درمیانے درجے کی صنعتیں ملکی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہیں، ان سے نہ صرف برآمدات میں اضافہ ہوتا ہے بلکہ روزگار کے مواقع بھی فراہم ہوتے ہیں۔

وزیراعظم نے کہا کہ گوجرانوالہ کو موٹروے سے منسلک کرنے اور یونیورسٹی و تکنیکی تعلیمی ادارے بنانے کیلئے وہ وزیراعلیٰ پنجاب سے بات کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ رواں سال کے وفاقی بجٹ میں 5 ہزار 500 ارب روپے کے محصولات اکٹھا کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے، اس ہدف کے حصول کیلئے تمام اقدامات کو یقینی بنایا جائے گا، ایف بی آر میں اصلاحات کیلئے شبر زیدی کے ساتھ مسلسل مشاورت جاری ہے، حکومت برآمدات کے فروغ کیلئے بھی کام کر رہی ہے اور بجٹ میں اس شعبہ میں کئی مراعات دی گئی ہیں۔

انہوں نے تاجر اور صنعتکاروں کو یقین دلایا کہ جو بھی مسئلہ ہو گا اسے ہماری اقتصادی ٹیم حل کرے گی، حکومت کا کام تاجر اور صنعتکاروں کو سہولیات فراہم کرنا ہے۔ قبل ازیں وزیراعظم نے فرسٹ گوجرانوالہ ایکسپو میں نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے صنعتکاروں میں ایوارڈز تقسیم کئے۔ تقریب کے آغاز پر گوجرانوالہ چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹریز کے صدر محمد عاصم انیس نے کہا کہ گوجرانوالہ شہر پاکستان میں کاٹیج انڈسٹری کے حوالہ سے پہلے نمبر پر ہے جبکہ ٹیکس دینے کے حوالہ سے تیسرے نمبر پر ہے۔

انہوں نے کہا کہ ملکی برآمدات میں گوجرانوالہ شہر 900 ملین ڈالر کا حصہ ڈال رہا ہے جبکہ امپورٹ کی مد میں بھی 2 ارب ڈالر مالیت کی درآمدات کو گوجرانوالہ کی صنعتی برادری نے روکا ہوا ہے، گوجرانوالہ چیمبر وزیراعظم اور موجودہ حکومت کے معاشی وژن کی حمایت کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اصلاحات اور ٹیکسیشن کے عمل میں بزنس کمیونٹی کو آن بورڈ رکھا جائے کیونکہ بزنس کمیونٹی کی ترقی پاکستان کی ترقی ہے، ٹیکس کا نظام سادہ اور آسان بنایا جائے، گوجرانوالہ میں انجینئرنگ یونیورسٹی اور تکنیکی تعلیم کے ادارے بنائے جائیں۔

انہوں نے کہا کہ سی پیک میں بھی گوجرانوالہ کو نظر انداز کیا گیا تھا اس کا مداوا کیا جائے۔ انہوں نے گوجرانوالہ شہر میں صحت کی سہولیات کی بہتری کیلئے بھی اقدامات کا مطالبہ کیا۔
ڈیجیٹل پاکستان کی بنیاد سے متعلق تازہ ترین معلومات