امریکی صدر کا حافظ سیعد کی گرفتاری پر تنزیہ وار

دس سال کی تلاش کے بعد ممبئی حملوں کا مبینہ ماسٹر مائنڈ پاکستان میں گرفتار کر لیا گیا ہے، ڈونلڈ ٹرمپ

Usman Khadim Kamboh عثمان خادم کمبوہ بدھ جولائی 19:33

امریکی صدر کا حافظ سیعد کی گرفتاری پر تنزیہ وار
واشنگٹن ڈی سی (اردوپوائنٹ اخبار تازہ ترین۔17جولائی 2019) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حافظ سیعد کی گرفتاری پر تنزیہ وار کیا ہے انہوں نے کہا ہے کہ دس سال کی تلاش کے بعد ممبئی حملوں کا مبینہ ماسٹر مائنڈ پاکستان میں گرفتار کر لیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ممبئی حملوں کا مبینہ ماسٹر مائنڈ پاکستان میں گرفتار کر لیا گیا ہے۔ انہوں نے اپنے ٹویٹر پیغام میں کہا ہے کہ ’ممبئی حملوں کا مبینہ ماسٹر مائنڈ پاکستان میں گرفتار کر لیا گیا ہے،گزشتہ 2سالوں سے اسے گرفتار کرنے کے حوالے سے شدید تناؤ کی صورتحال پیدا ہو گئی تھی‘۔

 
امریکی صدر نے حافظ سعید کو ممبئی حملوں کا مبینہ ماسٹر مائنڈ قرار دیا ہے۔ واضح رہے کہ آج کالعدم جماعت الدعوۃ کے سربراہحافظ سعید کو گرفتار کر لیا گیا۔

(جاری ہے)

تفصیلات کے مطابق ذرائع نے بتایا کہ حافظ سعید لاہور سے گوجرانوالہ جار ہے تھے جب انہیں کاؤںٹر ٹیرارزم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی)پنجاب نے گرفتار کیا۔ ذرائع کے مطابق حافظ سعید کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل منتقل کر دیا گیا ہے۔

حافظ سعید اپنے اوپر دائر مقدمات کا سامنا کریں گے۔ حافظ سعید کی گرفتاری پر رد عمل دیتے ہوئے ترجمان وزیراعلیٰ پنجاب ڈاکٹر شہباز گل کا کہنا تھا کہ حافظ سعید غیر قانونی چندہ اکٹھے کر رہے تھے اور ادارے بھی چلا رہے تھے۔ انہوں نے کل ایک مقدمے میں ضمانت حاصل کی۔ ترجمان وزیراعلیٰ پنجاب ڈاکٹر شہباز گل نے کہا کہ حافظ سعید کی گرفتاری نیشنل ایکشن پلان کے تحت عمل میں لائی گئی۔

یال رہے کہ محکمہ انسدادِ دہشت گردی پنجاب نے دہشت گردی میں ملوث کالعدم تنظیموں کے خلاف بڑے کریک ڈاؤن کا آغاز کیا تو دہشت گردوں کی مالی معاونت کے الزام میں لاہور، گوجرانوالہ اور ملتان میں 5 کالعدم تنظیموں کے خلاف دہشت گردی ایکٹ کے تحت مقدمات درج کیے گئے۔ ان تنظیموں میں دعوہ الارشاد ٹرسٹ ، معاذ بن جبل ٹرسٹ ، الانفال ٹرسٹ، المدینہ فاونڈیشن ٹرسٹ اور الحمد ٹرسٹ شامل ہیں اور مقدمات میں حافظ محمد سعید ، عبدالرحمان مکی ، امیر حمزہ ، محمد یحییٰ عزیز کو نامزد کیا گیا تھا ۔

یکم جولائی کو حکومت نے حافظ سعید اور ان کے دیگر 6 ساتھیوں کے خلاف لشکر طیبہ کا سربراہ ہونے اور دہشت گردی میں ملوث کے الزامات میں مقدمات درج کیے تھے۔ ان پر دہشت گردی کو پروان چڑھانے اور دہشت گردوں کی مالی معاونت کے لیے فنڈز اکٹھا کرنے کے الزامات عائد ہیں۔ جس کے بعد گذشتہ ہفتے کالعدم جماعت الدعوۃ کے سربراہ حافظ سعید نے اپنے خلاف درج دہشت گردی کے مقدمات پر لاہور ہائیکورٹ سے رجوع کیا تھا اور مطالبہ کیا تھا کہ ان پر درج کی جانے والی ایف آئی آرز ختم کی جائیں۔