Live Updates

بجٹ کے بعد ملک بے یقینی کی لپیٹ میں آ گیا ہے ‘میاں زاہد حسین

بدھ جولائی 21:49

بجٹ کے بعد ملک بے یقینی کی لپیٹ میں آ گیا ہے ‘میاں زاہد حسین
کراچی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - آن لائن۔ 17 جولائی2019ء) پاکستان بزنس مین اینڈ انٹلیکچولز فور م وآل کراچی انڈسٹریل الائنس کے صدر ،بزنس مین پینل کے سینئر وائس چیئر مین اور سابق صوبائی وزیر میاں زاہد حسین نے کہا ہے کہ بجٹ کے بعد ملک بے یقینی اور بے چینی کی لپیٹ میں آ گیا ہے جس سے معاشی سرگرمیاں متاثر ہو رہی ہیں۔سیاسی صورتحال مخدوش ہے ، اسٹاک مارکیٹ میں مندی ،صنعتیں گو مگو کا شکار جبکہ معاشی اشارئیے کمزور ہو رہے ہیں جسکی وجہ سے ڈالر اور سونے کی قیمتیں بڑھ رہی ہیں اور اب شرح سود میں مزید1فیصد اضافہ سے مہنگائی کی نئی لہر آئیگی اورکاروبار جاری رکھنامزید مشکل ہو جائے گا۔

موجودہ حکو مت کے دور میںشرح سود میں 5.75فیصد اضا فہ ہو چکا ہے ۔حکومت اور کاروباری برادری مل کر معیشت کو ابتری کی کیفیت سے نکال سکتے ہیں ورنہ معاشی گرد اب سب کو ڈبو دیگا۔

(جاری ہے)

میاں زاہد حسین نے بز نس کمیونٹی سے گفتگو میں کہا کہ موجودہ حالات میں معاشی ترقی ،ملکی وغیر ملکی سرمایہ کاری کا کوئی امکان نہیں ہے۔روز ایک نیا بحران سر اٹھا رہا ہے جبکہ مہنگائی مسلسل بڑھ رہی ہے۔

آئی ایم ایف کے مطا بق مہنگائی 13فیصد جبکہ اسٹیٹ بینک کے مطا بق 11فیصد ہے جس نے پوری قوم کوکڑی آز ما ئش میں مبتلا کر دیا ہے۔فنانس ایکٹ2019 کے بعد سے کاروباری برادری مختلف ترامیم پر کنفیوز ہے جس کی معقول وضاحت کے باوجود ہیجانی کیفیت بدستور موجود ہے کیونکہ چھوٹے تاجر ٹیکس نیٹ میں آنے کے لئے تیار نہیں ہیں ۔ انھوں نے کہا کہ ماضی کے جوڈیشل ایکٹوازم اور متعلقہ حکام کی نا اہلی کے نتیجہ میں پاکستان پر6 ارب ڈالر کا جرمانہ عائد ہو چکا ہے جس سے نمٹنا ایک مسئلہ ہو گا کیونکہ عالمی ٹریبیونل کے فیصلے پر عمل نہ کرنے سے بیرونی ممالک میں موجود پاکستان کے تمام اثاثے ضبط ہو سکتے ہیں۔

ریکوڈک مقدمہ میں پاکستان کی شکست دو سال قبل ہی یقینی ہو گئی تھی مگر کسی نے عدالت سے باہر تصفیہ کرنے کی کوشش نہیں کی ۔اگر سٹیل مل کی نجکاری نہ روکی جاتی تو ملک کو کھربوں روپے کا نقصان نہ ہوتا اور اگر13 سال قبل ایل این جی کا معاہدہ ہونے دیا جاتا تو ملک میں گیس کا بحران بہت پہلے ختم ہو جاتا۔سرمایہ کاروں کی حق تلفی کے نتیجہ میں ملک پر بھاری جرمانے عائد ہونے کا یہ پہلا واقعہ نہیں ہے اس لئے مستقبل میںسرمایہ کاروں کو ہراساں کرنے اور جھوٹے الزامات لگانے کے خلاف مکینزم بنانے کی ضرورت ہے۔

بین الاقوامی معاہدوں میں ملکی مفاد کا خیال رکھنا بھی ضروری ہے کیونکہ بعد میں معاہدوں میں تبدیلی سے ملکی ساکھ متاثر ہوتی ہے۔ ضرر رساں معاہدوں میں بنیادی کردار ادا کرنے والوں کا احتساب بھی ضروری ہے تاکہ وہ ذاتی مفادات سے بالا تر ہو کر کام کریں اس سلسلے میں وز یر اعظم عمران خان نے تحقیقاتی کمیشن قا ئم کرنے کا عند یہ دیا ہے جو خوش آئند ہے ۔ انھوں نے کہا کہ ملک پر آئی ایم ایف کی سخت شرائط اور ایف اے ٹی ایف کے مطالبات کی تلوار بھی لٹک رہی ہے جو کسی حد تک ملکی مفادات کے مطا بق تو ہے مگر ان پرعمل درآمدکی کوششوں نے ملکی معا شی نظام کو ہلا کر دکھ دیا ہے۔
ڈیجیٹل پاکستان کی بنیاد سے متعلق تازہ ترین معلومات