عراق میں کردوں کے علاقے میں ترک سفارتکار کو گولی مار دی گئی

یستوران میں مسلح افراد کے حملے میں ترک سفارتکار سمیت 3افراد جاں بحق ہوگئے ،حملے کی ذمہ داری فوری طور پر کسی تنظیم کی جانب سے قبول نہیں کی گئی

بدھ جولائی 22:32

عراق میں کردوں کے علاقے میں ترک سفارتکار کو گولی مار دی گئی
اربیل(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - آن لائن۔ 17 جولائی2019ء) عراق میں کردوں کے خود مختار علاقے کے دارالحکومت اربیل میں مسلح شخص کی فائرنگ سے ترکی کے نائب قونصلر سمیت 3 افراد جاں بحق ہوگئے۔ ‘اربیل میں ایک ریستوران میں مسلح افراد کے حملے میں ترک قونصل خانے کے ملازمین اور نائب قونصلر سمیت 3 افراد جاں بحق ہوگئے’۔عینی شاہدین کا کہنا تھا کہ عینکاوا میں واقع ترک قونصل خانے اور مشہور ریستورانوں کی طرف جانے والے راستوں میں چیک پوائنٹس قائم کر دیے گئے ہیں۔

ترک حکام نے تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ اربیل میں واقو قونصل خانے کا ایک ‘ملازم’ فائرنگ کے ایک واقعے میں جاں بحق ہوچکے ہیں۔حملے کی ذمہ داری فوری طور پر کسی تنظیم کی جانب سے قبول نہیں کی گئی۔خیال رہے کہ ترکی کی جانب سے کردوں کی اکثریت کے حامل عراق کے پہاڑی علاقوں میں کردش ورکرز پارٹی (پی کے کی) کے مورچوں پر فوجی کارروائی کی جارہی ہے۔

(جاری ہے)

ترکی، امریکا اور یورپی یونین کے دیگر ممالک نے پی کے کے کو ایک دہشت گرد تنظیم قرار دے رکھا ہے اور اس پر ترکی میں 1984 سے بغاوت پھیلانے کا الزام ہے جبکہ اس کی بنیادیں عراق کے خود مختار کرد علاقوں میں ہیں۔عراق میں دارالحکومت بغداد کے ‘گرین زون’ میں حالیہ مہینوں میں امریکا اور برطانیہ سمیت کئی ممالک کے سفارت خانوں کے قریب متعدد مرتبہ راکٹوں سے حملے کیے گئے تھے۔

امریکا نے رواں برس مئی میں بغداد اور اربیل میں اپنے سفارت خانے کے غیر اہم ملازمین کو واپس بلالیا تھا بعد ازاں جون میں بغداد میں بحرین کے سفارت خانے کے ساتمنے مظاہرین بھی جمع ہوگئے تھے۔دوسری جانب 2017 میں دہشت گرد تنظیم داعش کے خلاف فتح حاصل کرنے کا اعلان کرنے والے عراقی حکام نے غیر ملکی سفارت خانوں کو مکمل تحفظ فراہم کرنے کی یقین دہانی کرادی ہے۔۔