پاکستان نے کلبھوشن یادیو سے پہلے کتنے جاسوس پکڑے

پاکستان میں پچھلے چار عشروں میں ایک درجن سے زیادہ بھارتی جاسوسوں کو سزا ہوئی

بدھ جولائی 21:16

پاکستان نے کلبھوشن یادیو سے پہلے کتنے جاسوس پکڑے
اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - آن لائن۔ 17 جولائی2019ء) پاکستان میں پچھلے چار عشروں میں ایک درجن سے زیادہ بھارتی جاسوسوں کو سزا ہوئی جن میں بعض کو موت کی سزا سنائی گئی ان میں کئی لوگ جیل میں ہی مر گئے ۔تفصیلات کے مطابق پاکستان نے مارچ دو ہزار سولہ میں کلبھوشن یادیو کی گرفتاری کی خبر کے ہمراہ ایک ویڈیو بھی جاری کی جس میں اپنے اعترافی بیان میں وہ کہتے ہیں کہ وہ انڈین نیوی کے حاضر سروس افسر ہیں اور بلوچستان میں ان کی آمد کا مقصد ان بلوچ علیحدگی پسندوں سے ملاقات تھی جنھیں انڈیا امداد مہیا کرتا ہے۔

اطلاعات کے مطابق کلبھوشن یادیو نے حسین مبارک پٹیل کا نام اختیار کیا ہوا تھا اور بلوچستان میں ایران کی سرحد سے داخل ہوئے تھے۔ پاکستان نے کلبھوشن یادیو کی گرفتاری کے بعد ایران سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی سرزمین کو پاکستان کے خلاف استعمال نہ ہونے دے۔

(جاری ہے)

کلبھوشن یادیو شاید پہلے ایسے بھارتی جاسوس تھے جو پنجاب سے باہر پکڑے گئے۔ ماضی میں اکثر بھارتی جاسوس پنجاب کے مختلف علاقوں سے گرفتار ہوئے اور ان کی اکثریت کا تعلق بھارتی پنجاب سے تھا۔

سربجیت سنگھ کو پاکستان کے خفیہ اداروں نے اگست 1990 میں گرفتار کیا تھا۔ انڈیا کا موقف تھا کہ نشے میں دھت ایک پنجابی کاشتکار کھیتوں میں ہل چلاتے ہوئے غلطی سے سرحد پار کر گیا تھا۔ پاکستان نے سربجیت سنگھ کے خلاف فیصل آباد، ملتان اور لاہور میں دھماکوں کے الزامات میں مقدمہ چلایا اور اسے موت کی سزا سنائی گئی۔فوجی حکمران پرویز مشرف کے اقتدار کے دوران جب انڈیا پاکستان کے مابین جامع مذاکرات کا سلسلہ جاری تھا تو اس وقت انڈیا میں کچھ غیر سرکاری تنظیموں نے سربجیت سنگھ کی رہائی کی مہم چلائی اور کئی بار ایسا لگا کہ حکومتِ پاکستان ان کو رہا کردے گی لیکن مذاکرات کی ناکامی کے بعد سربجیت سنگھ کی رہائی بھی کھٹائی میں پڑ گئی۔

سربجیت 2013 میں کوٹ لکھپت جیل میں قیدیوں کے ایک حملے میں زخمی ہو گئے اور جانبر نہ ہو سکے۔ سربجیت سنگھ کی لاش کو انڈیا کے حوالے کیا گیا اور انڈیا کی حکومت نے سربجیت سنگھ کو سرکاری اعزازات کے ساتھ دفن کیا۔کشمیر سنگھ 1973 میں پاکستان میں جاسوسی کے الزام میں گرفتار ہوئے اور جب پاکستان کی جیلوں میں 35 برس گزارنے کے بعد انھیں 2008 میں رہا کیا گیا تو انڈیا میں ان کا شاندار خیر مقدم کیا گیا۔

کشمیر سنگھ کی رہائی میں انسانی حقوق کے کارکن انصار برنی کی کوششوں کا بہت عمل دخل تھا۔ پاکستان میں موجودگی کے دوران کشمیر سنگھ نے ہمیشہ اپنے آپ کو بیقصور قرار دیا لیکن بھارتی سرزمین پر پہنچتے ہی انھوں نے اعتراف کیا کہ وہ جاسوسی کے لیے پاکستان گئے تھے۔رویندرا کوشک ایک ایسے بھارتی جاسوس تھے جو 25 برس تک پاکستان میں رہے۔ رویندرا کوشک راجستھان میں پیدا ہوئے۔

جب انھیں بھارتی اداروں نے بھرتی کیا تو وہ ایک تھیٹر آرٹسٹ تھے۔ اردو زبان اور مذہب اسلام کے بارے میں خصوصی تعلیم کے بعد انھیں نبی احمد شاکر کے نام سے پاکستان بھیجا گیا۔ پاکستان بھیجے جانے سے پہلے اننھوں نے ختنے بھی کروا لیے تھے۔ وہ نہ صرف بہت کامیابی سے کراچی یونیورسٹی میں داخلہ حاصل کرنے میں کامیاب رہے، بلکہ انھوں نے پاکستان میں شادی بھی کر لی تھی اور ان کا بچہ بھی تھا۔

کراچی یونیورسٹی سے قانون کی تعلیم حاصل کرنے کے بعد وہ پاکستان افواج میں کلرک کے طور پر بھرتی ہوئے اور پھر ترقی کرتے ہوئے کمشنڈ افسر بن گئے اور پھر وہ ترقی کرتے ہوئے میجر کے عہدے تک پہنچ گئے۔ رویندرا کوشک کی گرفتاری ایک اور بھارتی جاسوس کی گرفتاری کے بعد عمل میں آئی جسے خصوصی طور پر میجر رویندرا کے ساتھ رابطے کے لیے بھیجا گیا تھا۔

رویندرا کوشک کی گرفتاری کے بعد انھیں پاکستان کی مختلف جیلوں میں سولہ برس تک رکھا گیا اور 2001 میں ان کی موت جیل میں ہوئی۔دو ہزار چار میں لاہور میں گرفتار ہونے والے رام راج شاید واحد ایسے بھارتی جاسوس تھے جو پاکستان پہنچتے ہی گرفتار ہوگئے۔ انھیں چھ برس قید کی سزا ہوئی اور جب وہ اپنی سزا کاٹ کر واپس انڈیا پہنچے تو انھیں بھارتی اداروں نے پہچاننے سے انکار کر دیا۔

وہ پاکستان آنے سے پہلے اٹھارہ برس تک بھارت کے خفیہ ادروں میں کام کر چکے تھے۔سرجیت سنگھ نے 30 برس پاکستانی جیلوں میں گزارے۔ سرجیت سنگھ کو 2012 میں لاہور کی کوٹ لکھپت جیل سے رہا کیا گیا اور وہ واپس انڈیا پہنچے تو کشمیر سنگھ کے برعکس ان کا کسی نے استقبال نہ کیا۔ سرجیت سنگھ دعوی کرتے رہے کہ وہ پاکستان میں را کا ایجنٹ بن کر گئے تھے لیکن کسی نے ان کی بات پر کان نہ دھرے۔

سرجیت سنگھ نے اپنی رہائی کے بعد بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بھارتی حکومت کے رویے پر غم و غصے کا اظہار کیا تھا۔ انھوں نے کہا کہ بھارتی حکومت ان کی غیر موجودگی میں ان کے خاندان کو 150 روپے ماہانہ پینشن ادا کرتے تھی جو اس بات ثبوت ہے کہ وہ `را کے ایجنٹ تھے اور وہ گرفتاری سے پہلے پچاسی بار پاکستان کا دورہ کر چکے تھے جہاں وہ دستاویزات حاصل کر کے واپس لے جاتے تھے۔

گربخش رام کو 2006 میں 19 دوسرے بھارتی قیدیوں کے ہمراہ کوٹ لکھپت سے رہائی ملی۔ گربخش رام پاکستان میں شوکت علی کے نام سے جانے جاتے تھے۔ اٹھارہ برس تک پاکستانی جیلوں میں رہے ۔ گربخش رام کو 1990 میں اس وقت گرفتار کیا گیا تھا جب وہ کئی برس پاکستان میں گزارنے کے بعد واپس انڈیا جا رہے تھے لیکن پاکستان کے خفیہ اداروں کے ہاتھ لگ گئے۔بھارتی جریدے ٹائمز آف انڈیا میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق گربخش رام نے ریاستی حکومت پر الزام عائد کیا ہے کہ ان کو وہ سہولتیں دینے سے انکاری ہیں جو سربجیت سنگھ کے خاندان کو ملی ہیں۔

انھوں نے پنجاب کے چیف منسٹر پرکاش سنگھ بادل سے بھی ملاقات کی لیکن انھیں سرکاری ملازمت نہیں دی گئی ہے۔ونود سانھی 1977 میں پاکستان میں گرفتار ہوئے اور گیارہ برس پاکستانی جیلوں میں گزارنے کے بعد انھیں 1988 میں رہائی ملی۔ونود سانھی نے اب انڈیا میں سابق جاسوسوں کی فلاح کے لیے جموں ایکس سلیوتھ ایسوسی ایشن نامی تنظیم قائم کر رکھی ہے۔وہ اپنی کہانی بتاتے ہوئے کہتے ہیں کہ وہ ٹیکسی ڈرائیور تھے جب ان کی ملاقات ایک بھارتی جاسوس سے ہوئی جس نے انہیں سرکاری ملازمت کی پیشکش کی۔ انھیں پاکستان بھیجا گیا لیکن جب وہ پاکستانی قید سے رہا ہوئے تو حکومت نے ان کی مدد نہیں کی۔