پاکستان کے کرنٹ اکانٹ خسارے میں نمایاں کمی

درآمدات کی بجائے برآمدات میں اضافہ بیرونی قرضوں میں اضافہ دیکھنے میں آیا

جمعرات جولائی 20:45

پاکستان کے کرنٹ اکانٹ خسارے میں نمایاں کمی
کراچی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - آن لائن۔ 18 جولائی2019ء) اسٹیٹ بینک نے کہا ہے کہ ملک کے کرنٹ اکانٹ خسارے میں جولائی سے جون 2019 کے عرصے میں مزید 31.7 فیصد کمی دیکھنے میں آئی ہی. مرکزی بینک کے جاری کردہ حالیہ اعداد و شمار کے مطابق اس عرصے کے دوران کرنٹ اکانٹ خسارہ 13 ارب 58 کروڑ 70 لاکھ ڈالر رہا جو گزشتہ سال کے اسی عرصے میں 19 ارب 89 کروڑ 70 لاکھ ڈالر تھارواں سال کے جولائی سے جون کے عرصے کے لیے کرنٹ اکانٹ خسارہ گزشتہ سال کے 6.3 فیصد سے کم ہوکر جی ڈی پی کا 4.8 فیصد تک ہوگیا.واضح رہے کہ کرنٹ اکانٹ خسارہ ملک کے غیرملکی زرمبادلہ کے ذخائر کے خاتمے کی ایک وجہ بن رہا جس نے بالاآخر حکومت کو آئی ایم ایف کے پاس بیل آٹ پیکج کے لیے جانے پر مجبور کردیا.

(جاری ہے)

دوسری جانب اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ گزشتہ سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں اشیا کی برآمدات میں اصل میں 50 کروڑ ڈالر تک کمی ہوئی اور یہ مالی سال 2018 کے 24 ارب 76 کروڑ 80 لاکھ ڈالر کے مقابلے میں 24 ارب 21 کروڑ 70 لاکھ ڈالر تک دیکھی گئی.گزشتہ سال کے 12.6 فیصد ترقی کے مقابلے میں یہ برآمدات میں یہ 2.2 تنزلی تھی، اس کے علاوہ ماہ جون میں گزشتہ سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں سامان کی برآمدات میں 20 کروڑ ڈالر تک کمی ہوئی.

ساتھ ہی درآمدی اشیا میں اس سے زیادہ تیزی سے کمی دیکھنے میں آئی اور یہ 7.3 فیصد یا 4 ارب 15 کروڑ 60 لاکھ ڈالر تک کم ہوکر جولائی سے جون 2019 تک 52 ارب 43 کروڑ 60 لاکھ ڈالر رہی جبکہ گزشتہ سال کے اسی عرصے میں یہ 56 ارب 59 کروڑ 20 لاکھ ڈالر تھی.اسٹیٹ بینک کی حال ہی میں جاری ہونے والی تیسری سہ ماہی رپورٹ کے مطابق درآمدات میں کمی کا بڑا حصہ مشینری کی درآمدات ختم ہونے سے منسوب ہے کیونکہ سی پیک کا پہلا فیز ختم ہوگیا ہی.

اس کے علاوہ خدمات کے شعبے میں تجارت کے توازن کے اعداد و شمار بھی اس میں ایک ارب 80 کروڑ 30 لاکھ ڈالر کی کمی ظاہر کرتے ہیں اور مجموعی طور پر درآمدات میں کمی سے یہ اس عرصے میں 11 ارب 35 کروڑ 60 لاکھ ڈالر سے 9 ارب 55 کروڑ ڈالر ہوگئی.تاہم ورکرز کی ترسیلات زر میں ایک ارب 92 کروڑ 80 لاکھ ڈالر کا اضافہ دیکھنے میں آیا اور یہ جولائی سے جون 2019 کے لیے 21 ارب 84 کرور 20 لاکھ ڈالر تک رہی.

علاوہ ازیں کیپیٹل اکانٹ ظاہر کرتا ہے کہ ملک کے بیرونی قرضوں میں اضافہ ہوا جس کے باعث اس سال 12 ارب 4 کروڑ 80 لاکھ ڈالر کے خالصتا واجبات شامل ہوئے جبکہ گزشتہ سال کے اسی عرصے میں یہ اعداد و شمار 8 ارب 85 کروڑ 50 لاکھ ڈالر پر تھے، ان واجبات میں سے مرکزی بینک کی جانب سے 5 ارب 49 کروڑ 50 لاکھ ڈالر اور مرکزی حکومت کی جانب سے 3 ارب 90 کروڑ 40 لاکھ ڈالر لیے گئے، اس کے علاوہ غیرمرتب شدہ واجبات 2 ارب ایک کروڑ 60 لاکھ ڈالر رہ جو گزشتہ سال کے اسی عرصے میں 49 کرور 40 لاکھ ڈالر پر موجود تھی.