سپریم کورٹ نے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کو شوکاز نوٹس جاری کردیا

اعلی عدلیہ کے سینئر جج کو صدر مملکت کو خطوط تحریر کرنے، اور بیرون ممالک جائیداد ہونے کے معاملے پر وضاحت دینے کیلئے شوکاز نوٹس جاری کی گیا

muhammad ali محمد علی جمعرات جولائی 19:52

سپریم کورٹ نے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کو شوکاز نوٹس جاری کردیا
اسلام آباد (اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین۔18 جولائی 2019ء) سپریم کورٹ نے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کو شوکاز نوٹس جاری کردیا، اعلی عدلیہ کے سینئر جج کو صدر مملکت کو خطوط تحریر کرنے، اور بیرون ممالک جائیداد ہونے کے معاملے پر وضاحت دینے کیلئے شوکاز نوٹس جاری کی گیا۔ تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ کے سینئر جج جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کو سپریم جوڈیشل کونسل کی جانب سے شوکاز نوٹس جاری کیا گیا ہے۔

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کیخلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں ریفرنس دائر ہے۔ جبکہ اب سپریم جوڈیشل کونسل نے اعلی عدلیہ کے معزز جج کو صدر مملکت کو خطوط تحریر کرنے، اور بیرون ممالک جائیداد ہونے کے معاملے پر وضاحت دینے کیلئے شوکاز نوٹس جاری کیا ہے۔ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کیخلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں ایک درخواست دائر کی گئی تھی جس میں صدر مملکت عارف علوی کو خطوط تحریر کرنے اور ان خطوط کو میڈیا میں لیک کرنے پر اعتراض اٹھایا گیا۔

(جاری ہے)

اس درخواست پر نوٹس لینے کے بعد سپریم جوڈیشل کونسل نے اب جسٹس قاضی فائز عیسیٰ سے وضاحت طلب کی ہے۔ واضح رہے کہ حکومت کی جانب سے سپریم جوڈیشل کونسل میں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ ریفرنس دائر کیا گیا تھا۔ صدر مملکت عارف علوی کی جانب سے سپریم کورٹ کے سینئر جج کیخلاف موقف اختیار کیا گیا ہے کہ بیرون ممالک ان کے اہل خانہ کی جائیدادیں ہیں، جو انہوں نے ظاہر نہیں کیں۔

اب سپریم جوڈیشل کونسل میں ان کیخلاف ریفرنس کی کاروائی کا آغاز ہو چکا ہے۔ واضح رہے کہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ بلوچستان ہائی کورٹ کے چیف جسٹس رہ چکے ہیں، جبکہ بعد ازاں انہیں ترقی دے کر سپریم کورٹ کا جج بنا دیا گیا تھا۔ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کیخلاف پہلی مرتبہ کوئی درخواست دائر نہیں کی گئی، ماضی میں ان کے بلوچستان ہائی کورٹ کے چیف جسٹس بننے پر بھی اعتراض کیا گیا تھا اور معاملہ سپریم جوڈیشل کونسل تک جا پہنچا تھا۔

تاہم جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کیخلاف دائر درخواست مسترد کر دی گئی تھی۔ جبکہ اب حکومت نے ان کیخلاف درخواست دائر کرکے ان کی جانب سے فیض آباد دھرنے کے فیصلے پر اعتراض اٹھایا گیا ہے، جبکہ بیرون ممالک ان کے اہل خانہ کی جائیدادوں کے معاملے پر بھی اعتراض کیا گیا ہے۔