حوثیوں نے یمنی بچے کو ’داعشی‘ قرار دے کر ابدی نیند سلا دیا

حوثیوں نے زبردستی مسافروں کو گاڑی سے اتارا اور 15 سالہ لڑکے باسم فؤاد المجیدی کو گولیاں سے بھون ڈالا،ذرائع

جمعہ جولائی 16:45

صنعاء (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 19 جولائی2019ء) یمن کے شہر تعز کے مشرق میں باغی حوثی ملیشیا نے اپنے سیکورٹی چیک پوائنٹ پر ایک 15 سالہ یمنی لڑکے کو مار ڈالا۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق مقامی ذرائع نے بتایاکہ حوثی ملیشیا کے ارکان نے الحوبان کے علاقے میں اپنے سیکورٹی چیک پوائنٹ پر ٹرانسپورٹ کی ایک گاڑی کو روکا جو تعز سے آ رہی تھی۔

حوثیوں نے مسافروں میں داعش کی موجودگی کے نام پر مسافروں کی اہانت کی جن میں خواتین اور بچے شامل تھے۔

(جاری ہے)

ذرائع نے مزید بتایا کہ حوثیوں نے زبردستی مسافروں کو گاڑی سے اتارا اور 15 سالہ لڑکے باسم فؤاد المجیدی کو گولیاں سے بھون ڈالا۔ اس مجرمانہ کارروائی کے بعد گاڑی کو جانے کی اجازت دے دی گئی۔مقتول لڑکے کا گھرانہ حوثیوں کے زیر کنٹرول تعز شہر کے ایک نواحی علاقے میں سکونت پذیر ہے۔

یہ گھرانہ شہد تیار کی تیاری اور فروخت کا کام کرتا ہے۔واضح رہے کہ یہ اپنی نوعیت کا پہلا جرم نہیں۔ حوثی ملیشیا اکثر تعز شہر اور الحوبان کے علاقے کے درمیان راستے پر مسافروں کو روک کر لوگوں کو قتل یا گرفتار کرتی ہے۔ ان افراد پر داعشی ہونے اور دشمن (یمنی حکومت اور عرب اتحاد) کا ہمنوا ہونے کا الزام عائد کیا جاتا ہے۔

متعلقہ عنوان :