اللہ سے دعا کرتا تھا کہ ایک موقع دے دے،تاکہ کرپٹ لوگوں کا احتساب کرسکوں

چین کی طرح 450 وزراکو جیلوں میں ڈالنا ہوگاتب بات بنے گی،وزیر اعظم عمران خان

Sajjad Qadir سجاد قادر ہفتہ جولائی 06:26

اللہ سے دعا کرتا تھا کہ ایک موقع دے دے،تاکہ کرپٹ لوگوں کا احتساب کرسکوں
لاہور ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 20 جولائی2019ء)   اٹل فیصلے وزیر اعظم عمران خان کی طرف سے دیکھنے کو ملتے ہیں۔جو بات ایک بار کر لیتے ہیں اس پر ڈٹ جاتے ہیں۔یہی وہ احتساب کے معاملے میں کر رہے ہیں،جہاں سے بھی رعایت دینے یا معافی دینے کی بات ہوتی ہے تو بپھر جاتے ہیں۔ان کا مقصد ہے کہ سبھی کرپٹ سیاستدان جیلوں میں سڑتے رہیں تاکہ آئندہ آنے والی نسلوں کو سبق مل جائے کہ قوم کا پیسا لوٹنے اور کرپشن کرنے والوں کا کیا حشر ہوتا ہے۔

ان خیالات کا اظہار وزیراعظم عمران خان نے میانوالی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا۔وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ ایسے لوگ تھے، جنھوں نے بڑا پیسہ بنایا، محلات بنائے اور چلے گئے، ایسے افراد کو آج عوام یاد نہیں کرتے۔جنھوں نے اللہ کے لئے کام کیا اور لوگوں کی مدد کی، انھیں عوام یاد کرتے ہیں۔

(جاری ہے)

انھوں نے کہا کہ اسپتال کی تعمیر نمل یونیورسٹی کا خواب تھا۔

ایک زمانے میں لوگوں نے کہا کہ آپ کے پاس فیکلٹی ہی نہیں، آج سب جانتے ہیں، نمل یونیورسٹی کی کیا اہمیت ہے۔میانوالی سمیت جنوبی پنجاب کے علاقے پیچھے رہ گئے ہیں، ہماری کوشش ہے کہ جنوبی پنجاب پر خصوصی توجہ دیں، نمل انسٹیٹیوٹ میں اسپتال انیل مسرت بنوا رہے ہیں۔انھوں نے کہا کہ وہ کہتے ہیں، احتساب تو ہو رہا ہے، لیکن اس کا عوام کو کیا فائدہ ہے۔

چین کی مثال سامنے ہے، چینی صدر نے گزشتہ 5 سال میں 450 سے زائد وزیروں کو جیلوں ڈالا، پھر ہی ریکارڈ ترقی کی۔بیرون ملک اور بھی پاکستانی ہیں جن کے بڑے بڑے کاروبار ہیں۔پاکستان میں کرپشن زیادہ تھی اس وجہ سے سرمایہ کار آنا نہیں چاہتے تھے۔ یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ 60 سال میں ملک کا قرضہ 6 ہزار ارب ہوا اور گزشتہ 10 سال میں قرضہ 6 ہزار ارب سے 30 ہزارارب ہوجاتا ہے۔

آخرہم نے اس ملک میں کیاکام کیاہے؟ کچھ منصوبے ضرور بنائے، مگر وہ بھی نقصان میں گئے۔میٹرو منصوبہ بنایاگیا، عثمان بزدارسے پوچھیں 12 ارب ہرسال نقصان ہوگا۔انھوں نے کہا کہ اس موقعے کا 22 سال سے انتظارکررہا تھا، اللہ سے دعا کرتا تھا کہ ایک موقع دے،جو لوگ ذمہ دار ہیں ان کا احتساب کروں۔جب تک ملک لوٹنے والوں کااحتساب نہیں ہوگاپاکستان ترقی نہیں کرے گا، ملک کی ترقی کے لئے چین کی طرح 450 وزراکو جیلوں میں ڈالنا ہوگا۔

ہم نے کسی ادارے میں مداخلت نہیں کی، اداروں کو خود مختارکیا۔ طاقت وراور کمزورکے لئے الگ الگ قانون نہیں ہوگا، احتساب یکساں ہوگا۔ان لوگوں نے ملک کا دیوالیہ نکال دیا اور کہتے ہیں کہ جواب نہیں دیں گے۔لیکن یاد رکھیں یہ جواب بھی دیں گے اور قوم کا لوٹا ہوا پیسہ بھی واپس کریں گے۔