ایران نے تحویل میں لیے گئے دو برطانوی تیل بردار جہازوں میں سے ایک چھوڑ دیا

ایران نے تیل بردار بحری جہاز نہ چھوڑا تو اسے انتہائی سنگین نتائج بھگتنا ہوں گے،برطانیہ کی دھمکی

ہفتہ جولائی 14:04

ایران نے تحویل میں لیے گئے دو برطانوی تیل بردار جہازوں میں سے ایک چھوڑ ..
تہران (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 20 جولائی2019ء) ایران نے تحویل میں لیے گئے دو برطانوی تیل بردار بحری جہازوں میں سے ایک کو چھوڑ دیا ہے۔ اس بات کا دعویٰ اسرائیل کے مؤقر اخبار نے کیا ۔اسرائیلی اخبار کے مطابق ایران کے پاسداران انقلاب کی جانب سے تحویل میں لیے گئے برطانوی تیل بردار بحری جہازوں میں سے ایک کو جانے کی اجازت دے دی گئی ہے جس کی تصدیق جہاز کی آپریٹنگ کمپنی نوربلک شپنگ یوکے نے بھی کردی ہے۔

برطانیہ کے وزیر خارجہ جیریمی ہنٹ نے اس سے قبل جاری کردہ اپنے بیان میں واضح طور پر خبردار کیا کہ اگر ایران نے برطانیہ کا تحویل میں لیا گیا تیل بردار بحری جہاز نہ چھوڑا تو اسے انتہائی سنگین نتائج بھگتنا ہوں گے۔عالمی خبررساں ایجنسی کا کہنا تھا کہ ہنگامی صورتحال کے باعث ایک دن میں دو مرتبہ برطانوی کوبرا کمیٹی کے اجلاس منعقد ہوچکے ہیں جو سنگینی کے عکاس ہیں کیونکہ غیر معمولی حالات ہی میں ایمرجنسی کمیٹی کا ہنگامی اجلاس طلب کیا جاتا ہے۔

(جاری ہے)

ادھر ایران کا مؤقف ہے کہ ایک برطانوی جہاز کو اس نے اپنی فوج سے کہا ہے کہ بندرگاہ بندر عباس لے جا کر تفتیش کریں کیونکہ وہ کچھ مشکوک تھا۔اس سے قبل عالمی خبررساں ایجنسیوں نے یہ اطلاع دی تھی کہ ایران نے ایک برطانوی تیل بردار جہاز کو اپنی تحویل میں لیا ہے جب کہ ایک پرکچھ مسلح افراد آئے ضرورتھے لیکن اس کے بعد اسے جانے کی اجازت دے دی گئی تھی۔ایران اور امریکہ کے درمیان خلیج اومان اور خلیج فارس میں بڑھتی ہوئی کشیدگی میں اس وقت اضافہ ہوا جب برطانیہ نے جبرالٹر میں ایک ایرانی تیل بردار جہاز کو اس الزام کے تحت اپنی تحویل میں لیا کہ وہ یورپی یونین کی پابندیوں کو نظرانداز کرکے شام خام تیل لے کر جارہا تھا۔