دُبئی :بینک ملازم نے اکاؤنٹ ہولڈر کے 10 لاکھ درہم چُرا لیے

ملزم بھاری رقم کھاتے دار کے اکاؤنٹ سے نکلوانے کے بعد امارات سے فرار ہو گیا

Muhammad Irfan محمد عرفان ہفتہ جولائی 14:07

دُبئی :بینک ملازم نے اکاؤنٹ ہولڈر کے 10 لاکھ درہم چُرا لیے
دُبئی (اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔ 20جولائی 2019ء) دُبئی میں بینکنگ فراڈ کا ایک اور بڑا کیس سامنے آیا ہے جس میں بینک کے غیر مُلکی ملازم نے اکاؤنٹ ہولڈر کے اکاؤنٹ سے دس لاکھ درہم کی رقم نکالی اور پھر مملکت سے فرار ہو گیا۔ عدالت کی جانب سے ایک عرب مُلک سے تعلق رکھنے والے ملزم کے خلاف کارروائی کا آغاز ہو گیا ہے۔ مُدعی اکاؤنٹ ہولڈر نے عدالت کو بتایا کہ اُس کے ساتھ دھوکا ہوا ہے۔

اُس نے تین ماہ قبل بینک میں 10 لاکھ درہم کی رقم جمع کروائی۔ بعد میں اس نے یہ رقم فکس کروا دی تھی۔ ایک روز بینک کے عرب عہدے دار نے اُسے رابطہ کر کے کہا کہ وہ فکسڈ ڈپازٹ سیکشن کا انچارج ہے۔ اُس کی رقم پر 1850درہم کا منافع آچکا ہے۔وہ بینک آکر فکسڈ ڈپازٹ توڑ کر منافع کی رقم بھی اس میں شامل کرالیں۔

(جاری ہے)

جب کھاتے دار اگلے روز بینک گیا تو وہاں انچارن نے اُس پر دو چیکس پر دستخظ کروا لیے۔

پہلا چیک فکسڈ ڈپازٹ والی رقم کا جبکہ دوسرا چیک منافع والی رقم کا تھا۔انچارج نے دونوں چیک اپنے قلم سے بھرے تھے اور انہوں نے ان دونوں پر دستخط ان سے کرایا تھا۔ انچارج نے دونوں چیک اسکین کراکر اپنے پاس رکھ لیے اور اصل واپس کردیے۔ اس واقعہ کے دو روز بعد بینک سے پیغام آیا کہ 10لاکھ درہم اُس کے اکاؤنٹ میں ٹرانسفر کر دیئے گئے ہیں جبکہ اس کے اگلے ہی روز یہ پیغام آیا کہ دس لاکھ درہم کی رقم نکال لی گئی ہے۔

یہ پیغام پڑھ کر اُس نے پریشانی کے عالم میں فوری طور پر بینک سے رابطہ کیا تو پتا چلا کہ رقم بینک عہدے دار نے نکالی تھی۔ کھاتیدار نے پولیس میں رپورٹ درج کرادی۔ بینک نے پورے واقعہ کی تحقیقات کی تو پتہ چلا کہ مُدعی بے قصور ہے اور اسکے ساتھ واقعی دھوکا ہوا ہے۔ جس کے بعد بینک نے اس کی رقم واپس کردی۔جبکہ مفرور بینک اہلکار کے خلاف اُس کی غیر موجودگی میں دھوکا دہی کا مقدمہ چلایا جا رہا ہے۔

متعلقہ عنوان :